2442: چاندى كى پالش والے برتن اور ہديے كرنے كا حكم


ميرى رخصتى كے موقع پر مجھے بعض ايسے تحفے بھى ملے جو سنت نبويہ كے مطابق نہ تھے، مثلا ذى روح كى تصاوير، اور بعض مجسمے، اور چاندى كى پالش كردہ برتن وغيرہ .... الخ.
كيا ميں يہ اشياء غير مسلموں كو دے سكتا ہوں، يا كہ مجھے ان سے صرف خلاصى حاصل كرنا ضرورى ہے ؟
اور كيا ہم كسى كى طرف سے ديا گيا تحفہ آگے كسى اور كو تحفہ دے سكتے ہيں ؟
مثال كے طور پر ميرے بہت سے دوستوں ميں ايك ہى طرح كے كئى برتن ديے ہيں، مجھے ان سب كى ضرورت نہيں، تو كيا ميں ان ميں كچھ برتن كسى اور كو تحفہ دے سكتا ہوں، اللہ تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے ؟

الحمد للہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا طريقہ اور راہنمائى يہ ہے كہ تصاوير كو مٹا ديا جائے، اور مجسمے توڑ ديے جائيں.

اس كى دليل ابو الھياج اسدى رحمہ اللہ كى درج ذيل حديث ہے، وہ بيان كرتے ہيں كہ على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ نے مجھے كہا:

" كيا ميں تجھے اس كام پر مامور نہ كروں جس پر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھے مامور كيا تھا، جو مجسمہ ملے اسے مٹا ڈالو، اور جو قبر بھى اونچى ہو اسے برابر كر دو "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1609 ).

اس ليے يہ بات متعين شدہ ہے كہ ذى روح كى تصاوير سے خلاصى حاصل كرنا ضرورى ہے، رہا مسئلہ چاندى كى پالش كردہ برتنوں كا تو يہ بھى استعمال كرنا جائز نہيں، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" چاندى كے برتنوں ميں پينے والے اپنے پيٹ ميں جہنم كى آگ ڈال رہا ہے "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 3846 ).

سونے اور چاندى كى پالش كردہ اشياء كا حكم بھى سونے اور چاندى سے بنى ہوئى چيز كا ہے.

اور آپ كو تحفے اور ہديہ جات ملے ہيں ان كے متعلق گزارش ہے كہ اسے آگے ہديہ كرنے ميں كوئى حرج نہيں، كيونكہ ہديہ قبول كرنے سے انسان مالك بن جاتا ہے، چنانچہ اسے فروخت كركے، يا پھر كسى كو ہبہ يا وقف كر كے تصرف كرنے كا حق حاصل ہے، اور ايسا كرنا جائز ہے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments