245: منكر حديث والد كے ساتھ حسن سلوك كرنا


ميں ايك بے دين خاندان ميں زندگى بسر كر رہا ہوں جو ميرے ساتھ مذاق كرتا اور مجھ پر ظلم كرتا ہے، الحمد للہ ميں دين پر عمل پيرا ہوں، ميرے والد صاحب كا اعتقاد ہے كہ وہ احاديث جو قرآن مجيد ميں پائے جانے والے امور كى شرح كرتى ہيں مثلا نماز وغيرہ ان پر عمل كرنا واجب ہے، اور جو امور قرآن مجيد ميں نہيں مثلا اجنبى عورت سے مصافحہ كرنا ان احاديث پر عمل كرنا واجب نہيں.
اس كے علاوہ بھى والد صاحب كے كئى ايك اعتقادات ہيں، مجھے علم ہے كہ والدين كے ساتھ حسن سلوك كرنا واجب ہے، كيا ميرے ليے اپنے والد كے پيچھے نماز ادا كرنا جائز ہے ؟
اگر جواب نفى ميں ہو تو كيا ميں يہ ظاہر كر سكتا ہوں كہ ميں اس كے پيچھے نماز ادا كروں اور بعد ميں نماز لوٹا لوں تا كہ والد ناراض نہ ہوں ؟

الحمد للہ :

سائل بھائى جس حالت ميں زندگى بسر كر رہا ہے وہ بالفعل ايك مشكل حالت ہے، كسى مومن شخص كے ليے باپ كے ساتھ زندگى بسر كرنا آسان كام نہيں جو ضلالت و گمراہى ميں پڑا ہوا ہو، اور وہ صحيح منھج اہل سنت والجماعت كا مسلك كا اختيار نہ كرے بلكہ كسى اور مسلك پر عمل پيرا ہو ليكن مسلمان كو اس طرح كے والد كے متعلق صبر و تحمل سے كام ليتے ہوئے اجروثواب كى نيت ركھنى چاہيے، اور اسے وعظ و نصيحت كرنے ميں نرمى اور بصيرت سے كام لينا چاہيے، اور ايسے وسائل بروئے كار لائے جس سے والد كو يہ محسوس نہ ہو كہ بيٹا اس كے خلاف ہے، اور نہ ہى اس كے ساتھ بے رخى اور قطع تعلقى سے كام لے، بلكہ اس سے والد يہ محسوس كرے كہ يہ اس بيٹے كى جانب سے نصيحت ہے جو والد كا ادب و احترام كرنا جانتا ہے، اور والد كے ساتھ حسن سلوك كرنے والے بيٹے كى نصيحت ہے، اور اس كے ساتھ شفقت كے ساتھ پيش آنے والا ہے جيسا كہ ابراہيم عليہ السلام كى جانب سے والد كو تبليغ كے وقت ہوا تھا.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور اس كتاب ميں ابراہيم عليہ السلام كا قصہ بيان كريں، بيشك وہ بڑى سچائى والے نبى تھے ﴾

﴿ جبكہ انہوں نے اپنے باپ سے كہا كہ ابا جان ! آپ ان كى پوجاپاٹ كيوں كر رہے ہيں جو نہ تو سنتے ہيں نہ ديكھتے ؟ نہ آپ كو كچھ نفع اور فائدہ دے سكيں؟ ﴾

﴿ ميرے مہربان ابا جان! آپ ديكھيے ميرے پاس وہ علم آيا ہے جو آپ كے پاس آيا ہى نہيں، تو آپ ميرى ہى مانيں ميں بالكل سيدھى راہ كى طرف آپ كى راہنمائى كرونگا ﴾

﴿ ميرے پيارے اباجان! آپ شيطان كى پرستش سے باز آجائيں شيطان تو رحم وكرم والے اللہ تعالى كا بڑا ہى نافرمان ہے ﴾

﴿ ابا جان! مجھے خوف لگا ہوا ہے كہ كہيں آپ پر كوئى عذاب الہى نہ آپڑے كہ آپ شيطان كے ساتھ بن جائيں ﴾

﴿ اس نے جواب ديا كہ اے ابراہيم! كيا تو ہمارے معبودوں سے روگردانى كر رہا ہے، سن لو اگر تو باز نہ آيا تو ميں تجھے پتھروں سے مار مار كر ہلاك كر ڈالوں گا، جا ايك مدت دراز تك مجھ سے الگ رہو ﴾

﴿ اس نے كہا اچھا تم پر سلامتى ہو، ميں تو اپنے پروردگار سے تمہارى بخشش كى دعا كرتا رہوں گا، وہ مجھ پر حد درجہ مہربان ہے ﴾مريم ( 41 - 47 ).

چنانچہ ابراہيم عليہ السلام نے ميرے اباجان كى رقيق اورنرم پكار لگاتے ہوئے اے ميرے ابا جان كے الفاظ كہے، انہوں نے يہ نہيں فرمايا: ميں عالم ہوں اور آپ جاہل ہيں، بلكہ يہ فرمايا كہ ميرے پاس وہ علم آيا ہے جو آپ كے پاس نہيں آيا.

اور اپنے والد پر اپنى شفقت اور نرمى اور اس كى سلامتى كا اظہار كرتے ہوئے كہا:

اے ميرے ابا جان مجھے ڈر ہے كہ كہيں آپ كو اللہ رحمن كى جانب سے عذاب الہى نہ پہنچ جائے، اور جب ان كے والد نے انكار كر ديا اور رجم كرنے كى دھمكى دى تو ابراہيم عليہ السلام نے اس سے زيادہ كچھ نہيں كہا بلكہ يہ بھى پورے ادب و احترام سے كہا كہ آپ پر سلامتى ہو، اور اس كے ساتھ دعائے استغفار كا وعدہ كيا.

چنانچہ ہمارے نيك و صالح بيٹوں كى جانب سے اپنے گمراہ باپوں كو اسى طرح كى دعوت ہونى چاہيے.

آپ كو علم ہونا چاہيے كہ سنت و حديث كا انكار يا اس ميں سے كسى چيز كا انكار كرنا بہت ہى خطرناك مسئلہ ہے ـ اس موضوع كى تفصيل ہم كسى اور جگہ پر كرينگے ـ ليكن ہم اختصار كے ساتھ يہ كہتے ہيں كہ:

اگر آپ كے والد كى بدعت اسے دين اسلام سے ہى نكال دے مثلا بالكل حديث كا انكار كرنا، اور اس پر حجت بھى قائم ہو چكى ہو، اس كے باوجود وہ حق ماننے سے انكار كردے تو پھر اس كے كفر كى بنا پر اس كے پيچھے آپ كى نماز صحيح نہيں.

ليكن اگر اس كى بدعت كفر تك نہيں پہنچتى مثلا وہ كسى حديث كے حكم پر عمل نہيں كرتا ـ كمى و كوتاہى كى بنا پر ـ تو آپ كے ليےاس كے پيچھے نماز ادا كرنا جائز ہے، تو اس وقت آپ كى نماز صحيح ہو گى. واللہ اعلم

اضافہ:

اس سوال كے متعلق ہميں شيخ محمد بن صالح عثيمين رحمہ اللہ تعالى كى جانب سے درج ذيل كلمات ملے:

بعض اوقات انكار تاويل ہوتا ے، اور بعض اوقات انكار جحد، چنانچہ اگر انكار جحد ہو يعنى وہ يہ كہے: جى ہاں مجھے علم ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ہے، ليكن ميں اسے نہيں مانتا، اور نہ ہى قبول كرتا ہوں، اگر تو ايسا ہو تو وہ كافر اور اسلام سے مرتد ہے، اور اس كے پيچھے نماز ادا كرنا جائز نہيں.

اور اگر اس كا انكار انكار تاويل ہو تو پھر ديكھا جائيگا كہ اگر تو اس كى تاويل اس كى محتمل ہو جو لغت جائز كرتى ہے، اور مصادر شريعت اور اس كے موارد جانتے ہيں تو يہ شخص كار نہيں ہو گا، بلكہ يہ بدعتيوں ميں شامل ہوتا ہے، اگر اس كا قول بدعتى ہو تواس كے پيچھے نماز ادا كى جائيگى ليكن اگر اس كے پيچھے نماز ترك كرنے ميں كوئى مصلحت ہو كہ وہ اپنى بدعت سے باز آجائے اور معاملات ميں دوبارہ سوچ و بچار كرے گا تو اس كے پيچھے نماز ادا نہ كى جائے.

اس باپ كى حالت يہ ہے كہ وہ بعض احاديث جو قرآن مجيد كے موافق اور اس كى شرح ہيں كا اقرار كرتا ہے، ليكن اسى وقت وہ دوسرى قسم كا انكار كرتا ہے جو قرآن مجيد سے زائد ہے، اس طرح كا عمل عظيم بدعت ميں شمار ہوتا ہے، جس پر شارع نے وعيد سنائى ہے، يسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" تم ميں كوئى ايك كسى اور اپنى مسند پر سہارا لگائے ہوئے پائيگا .... الحديث"

يہ بہت بڑى بدعت ہے ايسى بدعت كے مرتكب شخص كے متعلق خدشہ ہے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments