Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
2458

منى اور مذى ميں فرق

بعض اوقات جب ميں صبح نيند سے بيدار ہوتا ہوں تو اپنے زيرجامہ لباس گيلا محسوس كرتا ہو، گزارش ہے كہ آپ اس معاملہ كو نہ ديكھيں كہ يہ دوران نيند احتلام ہے، يا پھر غير ارادى طور پر رات كو نيند ميں پيشاب نكل گيا ہوگا.
كيونكہ مذى يا ليس دار مادہ عام طور پردوسرے دن نيند سے بيدار ہونے پر نكلتا ہے، اور اكثر طور پر اس وجہ سے ميں اپنا زيرجامہ لباس اور سلوار دھوتا ہوں، ميں نے ايك كتاب ميں پڑھا تھا كہ اگر يہ مادہ منى كے جرثوموں پر مشتمل نہ ہو بلكہ صرف مذى ہو تو پھر غسل كرنا واجب نہيں، بلكہ صرف نماز والا وضوء كرنا ہى كافى ہے.
اگر تو معاملہ ايسے ہى ہے تو ہميں لباس كا كيا كرنا ہوگا ؟
ميں نے محسوس كيا ہے كہ مذى ان حالات ميں بھى خارج ہوتى رہتى ہے جن ميں خارج ہونے كے عوامل نہيں ہوتے.

الحمد للہ:

پہلا فرق:

منى اور مذى كى صفات ميں فرق:

مرد كا مادہ منويہ گاڑھا اور سفيد ہوتا ہے، ليكن عورت كى منى پتلى اور زرد رنگ كى ہوتى ہے.

اس كى دليل صحيح مسلم كى درج ذيل حديث ہے:

ام سليم رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے مرد كى عورت كا خواب ميں ديكھنے كے متعلق دريافت كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب عورت ايسا خواب ميں ديكھے تو وہ غسل كرے "

ام سليم رضى اللہ تعالى عنہا كہتى ہيں: ـ مجھے اس سے شرم آ گئى ـ اور ميں نے عرض كيا كيا ايسا ہوتا ہے ؟

تو رسو ل كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

تو پھر مشابہت كس طرح ہوتى ہے ؟ بلا شبہ مرد كا مادہ گاڑھا اور سفيد، اور عورت كا مادہ پتلا اور زرد ہوتا ہے، دونوں ميں سے جو بھى اوپر ہو جائے، يا سبقت لے جائے اس كى مشابہت ہو جاتى ہے "

متفق عليہ، صحيح مسلم حديث نمبر ( 469 ).

صحيح مسلم كى شرح ميں امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

قولہ رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم:

" مرد كا مادہ منويہ گاڑھا سفيد ہوتا ہے، اور عورت كا پانى پتلا زرد ہوتا ہے "

يہ منى كى صفت كے بيان ميں عظيم دليل ہے، تندرستى اور عام حالات ميں منى كى حالت اور صفت يہى ہے.

علماء كرام كا كہنا ہے: تندرستى اور صحت كى حالت ميں مرد كى منى گاڑھى سفيد ہوتى ہے اور اچھل اچھل كر خارج ہوتى ہے، اور اس كے خارج ہوتے وقت لذت آتى ہے، اور جب منى خارج ہو چكے تو خارج ہونے كے بعد فتور اور ٹھراؤ پيدا ہوتا اور اس كى بو تقريبا كھجور كے شگوفہ اور گوندھے ہوئے آٹے كى بو كى طرح ہوتى ہے...

( بعض اوقات كسى سبب كے باعث منى كى رنگت تبديل ہو جاتى ہے مثلا ) بيمار ہو تو اس كى پانى پتلى زرد ہو گى، يا پھر منى والى جگہ ميں استرخاء( يعنى ڈھيلا پن ) پيدا ہو جائے تو بغير لذت اور شہوت ہى خارج ہونا شروع ہو جاتى ہے، يا پھر جماع كثرت سے كيا جائے تو منى سرخ ہو كر گوشت كے پانى كى طرح ہو جاتى ہے، اور بعض اوقات تو تازہ خون ہى خارج ہوتا ہے...

پھر منى كے تين خواص ہيں جو منى بااعتماد شمار ہوتے ہيں:

پہلا خاصہ: شہوت سے خارج ہونا، اور بعد ميں فتور پيدا ہو جانا.

دوسرا خاصہ: اس كى بو كھجور كے شگوفہ كى طرح ہوتى ہے جيسا كہ بيان كيا جا چكا ہے.

تيسرا خاصہ: اچھل كر خارج ہونا.

ان تين خواص ميں سے كسى ايك خاصہ كا پايا جانا منى ہونے كے ليے كافى ہے، تينوں كا بيك وقت پايا جانا شرط نہيں، اور اگر ان تينوں ميں سے كوئى بھى نہ ہو تو پھر وہ منى نہيں ہو گى، اور ظن غالب كا ہونا بھى منى كے ثبوت كے ليے كافى نہيں، يہ سب تو مرد كى منى كے متعلقہ ہے.

رہا عورت كى منى كا مسئلہ تو وہ پتلى زرد ہوتى ہے، اور بعض اوقات اس كى قوت و طاقت بڑھ جانے كى بنا پر سفيد بھى ہو جاتى ہے، اس كے دو خاصے ہيں، اگر ان ميں سے كوئى ايك بھى ہو تو وہ منى شمار ہو گى:

پہلا: اس كى بو مرد كى منى جيسى ہو.

دوسرا: خارج ہوتے وقت لذت آئے، اور بعد ميں فتور پيدا ہو. اھـ

ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 3 / 222 ).

اور مذى سفيد رنگ كا ليس دار پانى ہوتا ہے، جو جماع كى سوچ يا اردہ كے وقت خارج ہوتا ہے، اس كے خارج ہونے ميں نہ تو شہوت ہوتى ہے، اور نہ ہى اچھل كر خارج ہوتا ہے، اور نہ ہى نكلنے كے بعد فتور پيدا ہوتا ہے، يعنى جسم ڈھيلا نہيں پڑتا.

اور مرد و عورت دونوں سے ہى مذى خارج ہوتى ہے، ليكن مردوں كى بنسبت عورتوں ميں زيادہ ہے.

ديكھيں: شرح مسلم للنووى ( 3 / 213 ).

دوسرا فرق:

اگر يہ خارج ہو تو اس پر كيا حكم لاگو ہوتا ہے:

منى خارج ہونے سے غسل جنابت فرض ہوتا ہے، چاہے يہ بيدارى كى حالت ميں جماع كرنے سے خارج ہو يا پھر كسى اور طريقہ سے، يا پھر نيند ميں احتلام كے ساتھ خارج ہو.

اور مذى خارج ہونے سے صرف وضوء ہى كرنا ہو گا، اس كى دليل على رضى اللہ تعالى عنہ كى درج ذيل حديث ہے، وہ بيان كرتے ہيں:

" مجھے مذى بہت زيادہ آتى تھى چنانچہ ميں نے مقداد رضى اللہ تعالى عنہ كو كہا كہ وہ اس كے متعلق رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كريں، انہوں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے پوچھا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اس ميں وضوء ہے "

متفق عليہ، يہ الفاظ بخارى شريف كے ہيں.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى مغنى ميں كہتے ہيں:

ابن منذر كا كہنا ہے: اہل علم كا اجماع ہے كہ مرد و عورت كى دبر سے پاخانہ اور عضو تناسل اور قبل سے پيشاب خارج ہونے، اور دونوں كى مذى يا ہوا خارج ہونے سے وضوء ٹوٹ جاتا ہے.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 168 ).

تيسرا فرق:

ان كى طہارت اور نجاست كے اعتبار سے فرق:

علماء كرام كے راجح قول كے مطابق منى طاہر ہے، اس كى دليل عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كى درج ذيل حديث ہے:

عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم منى دھو كر اسى لباس ميں نماز ادا كرنے چلے جاتے، اور مجھے اس ميں دھونے كے آثار نظر آ رہے ہوتے تھے "

متفق عليہ.

اور مسلم شريف كى روايت ميں ہے:

" ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے لباس سے منى كھرچ ديا كرتى اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اس ميں نماز ادا كرتے تھے "

اور ايك روايت كے الفاظ يہ ہيں:

" ميں اپنے ناخن كے ساتھ ان كے لباس سے خشك منى كو كھرچ ديا كرتى تھى "

بلكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے يہ بھى ثابت ہے كہ آپ تازہ منى كو بھى نہيں دھوتے تھے بلكہ اسے كسى لكڑى وغيرہ كے ساتھ پونچھ ديتے، جيسا كہ امام احمد رحمہ اللہ تعالى نے مسند احمد ( 6 / 243 ) ميں عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے روايت كيا ہے، وہ بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم اپنے كپڑوں سے اذخر كے تنكوں كے ساتھ منى كو پونچھ ديا كرتے تھے، اور پھر اسى لباس ميں نماز ادا كرتے، اور اپنے كپڑوں سے خشك منى كو كھرچ كے نماز ادا كرتے تھے "

اسے صحيح ابن خزيمہ ميں روايت كيا گيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے ارواء الغليل ( 1 / 197 ) ميں اسے حسن قرار ديا ہے.

اور مذى نجس ہے، اس كى دليل مندرجہ بالا حديث ہے، جس كے بعض طرق ميں بيان ہے كہ:

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مذى كى بنا پر عضو تناسل اور خصيتين كو دھو كر وضوء كرنے كا حكم ديا.

اسے ابو عوانہ نے مسخرج ابو عوانہ ميں روايت كيا ہے، اور ابن حجر التلخيص ميں كہتے ہيں:

اس سند ميں كوئى طعن نہيں، چنانچہ يہ نجس ہے، اس كى بنا پر عضو تناسل اور خصيتين دھونا واجب ہيں، اور اس كى بنا پر وضوء ٹوٹ جاتا ہے.

منى اور مذى لگے ہوئے لباس كا حكم:

منى كے طاہر ہونے كے قول كے مطابق اگر منى كپڑے كو لگ جائے تو وہ نجس نہيں ہوگا، اور اگر اس طرح انسان نماز ادا كر لے تو اس ميں كوئى حرج نہيں.

ديكھيں: المغنى ابن قدامہ ( 1 / 763 ).

اور اگر ہم اسے طاہر كہيں تو اس كا كھرچنا مستحب ہے، اور اگر كسى نے بغير كھرچے نماز ادا كر لى تو بھى كافى ہے.

ليكن مذى ميں پانى چھڑكنا كافى ہے، كيونكہ اس ميں مشقت ہے، اس كى دليل سنن ابو داود كى درج ذيل حديث ہے:

سھل بن حنيف رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں:

مجھے بہت زيادہ مذى آتى اور ميں كثرت سے غسل كيا كرتا تھا، چنانچہ ميں نے اس كے متعلق رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" آپ كو اس سے وضوء كرنا كافى ہے "

ميں نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم ميرے لباس ميں جہاں لگى ہوئى ہو اسے كيا كروں؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" آپ كے ليے اتنا ہى كافى ہے كہ چلو بھر پانى لے كر جہاں لگى ہو اس پر چھڑك دو "

اور اسے امام ترمذى رحمہ اللہ اسے روايت كرنے كے بعد كہتے ہيں: يہ حديث حسن صحيح ہے، اور مذى ميں اس طرح كى حديث محمد بن اسحاق كے علاوہ ہميں كسى اور سے اس كا علم نہيں. اھـ

تحفۃ الاحوذى ميں ہے:

اس سے يہ ستدلال كيا جاتا ہے كہ اگر كپڑے كو مذى لگ جائے تو اس پر پانى چھڑكنا كافى ہے، اور دھونا واجب نہيں.

ديكھيں: تحفۃ الاحوذى ( 1 / 373 ).

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments