2585: اسلام قبول کرنا چاہتا ہے اوربعض لوگ اسے انتظار کرنے کا کہتے ہیں


میں نے پچھلے چند مہینے اسلام کے مطالعہ میں گزارے ہیں اوران آخری دنوں میں قرآن مجید پڑھنا شروع کیا ہے ، اب میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ میں کلمہ پڑھنے کے لیے تیار ہوچکا ہوں ، لیکن میرے بعض مسلمان دوست یہ اعتقاد نہیں رکھتے بلکہ وہ مجھے جلد بازي میں قبول اسلام کے قدم اٹھانے سے بچنے کا کہتے ہيں ۔
لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بالفعل قبول اسلام کے لیے تیار ہوں ، توکیا آپ کوئ نصیحت کریں گے کہ اب موجودہ وقت میں مجھے کیا کرنا چاہیۓ تا کہ میں قبول اسلام کا اعلان کرسکوں اوریہ گواہی دے سکوں کہ اللہ تعالی ہی اکیلا معبود ہے جوکہ رب العالمین بھی ہے ، آپ کے علم میں رہنا چاہے کہ میں نےاپنی زندگی مین ابھی تک کوئ جلد بازی میں فیصلہ نہیں کیا ، میں آپ کا بہت مشکور ہوں ۔

الحمد للہ
 اے عزيز سائل ہماری طرف سے اچھا تحفہ قبول کریں ، آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ ہم نے آپ کے سوال میں قبول اسلام کی استعداد اورتیاری کا پڑھ کر جوخوشی محسوس کی ہے وہ چھپاۓ نہیں چھپتی ۔

آپ کوجوکچھ لوگوں نے یہ نصیحت کی ہے کہ آپ ابھی انتظار کریں اورجلدبازي سے کام نہ لیں بہت ہی عجیب اورغریب چيز ہے ، ہوسکتا ہے کہ وہ آپ کے مرتد ہونے سے ڈرتے ہوں کہ آپ کہیں اسلام قبول کرنے کےبعد پھردوبارہ کفر میں نہ چلے جائيں ۔

لیکن اے عزيز سائل کیا یہ ممکن نہیں کہ موت کسی بھی وقت آجاۓ ؟ تواگر ان کا جواب ہاں میں ہوا توپھر کیا آپ یہ نہيں دیکھتے کہ آپ کے لیے بہتر اوراچھا یہی ہے کہ آپ کلمہ پڑھ کراسلام میں داخل ہوجائيں اوراس میں جتنی بھی جلدی ہوسکے جلدی کریں اورفوری اسلام قبول کرلیں ، تا کہ جب بھی موت آۓ اورآپ اللہ تعالی سے ملیں توآپ اس کے دین اسلام پرہوں جس دین کے علاوہ اللہ تعالی کوئ اوردین قبول بھی نہیں فرماتا ، اورپھر سب سے بہتر اوراچھی نیکی وہ ہوتی ہے جو جلدی کی جاۓ ۔

پھریہ بھی ہے کہ آپ نے اسلام کی ریسرچ کی ہے اوراس کا مطالعہ کیا اور اس کے ساتھ ساتھ ایک مدت تک قرآن کریم کا بھی مطالعہ کرتے رہے ہیں ،تواب آپ قبول اسلام میں جلدی کریں اوراپنے آپ کواجرو ثواب سے محروم نہ رکھیں جس کا پھل آپ کواسلام قبول کرنے اوراس پرعمل کرنے سےحاصل ہوگا ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہيں کہ وہ آپ کے معاملات آسان فرماۓ اورآپ کے سینہ کوحق کے لیے کشادہ کردے اورآپ کوحق پرثابت قدم رکھے ، آمین یا رب العالمین ، اوراللہ تعالی ہی توفیق دینے والا ہے ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments