26163: اپنے خاوند کے ساتھ نباہ نہیں کرسکی توکیا اسے چھوڑ کروالد کوناراض کرلے


میں نے چارسال سے شادی کی ہوئي ہے لیکن اپنے خاوند کے ساتھ ماحول کوعادی نہیں بنا سکی ، ميں نے خاوند کوبھی اوراپنے والد کوبھی بتایا ہے کہ میں اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی ، میری شادی پاکستان میں ان حالات میں ہوئي تھی جوکہ مجھ پر بہت سخت اوربرے گزر رہے تھے
میری والدہ پر زنا کا الزام لگا جس کی بنا پر انہیں سسر کےگھرمیں ہی محبوس کردیا گیا ، میں اور میری والدہ اس وقت پاکستان میں ہی تھی اورمجھے والدہ سے ملنے اوربات کرنے کی بھی اجازت نہ تھی ، اس وقت میرے والد کہنے لگے شادی کرلو ۔
میں نےشادی کے شروع میں بہت کوشش کی کہ خاوند کے ساتھ ماحول میں ایڈجسٹ ہوجاؤں لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا ، میں اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اس لیے مجھے اس محبت ہی نہیں ، یا پھر میں اس وہ عزت نہیں کرسکتی جوبیوی کوخاوند کی کرنی چاہيۓ ۔
اوراس کے ساتھ ساتھ میں اپنے والد کے شعور اوراحساسات کوبھی مجروح نہيں کرنا چاہتی ، توکیا آپ کے خیال میں مجھے طلاق لینی چاہیے یا کہ میں اس کے ساتھ بے فائدہ رہنے کی کوشش کروں ؟

الحمد للہ
ہم سوال کرنے والی بہن کو نصیحت کرتے ہیں کہ وہ خاوند کے حقوق ادا کرنے اوراس سے محبت ومؤدت اوراطاعت کرنےاوروالد کے احساسات کومجروح نہ کرنے کی کوشش کرے ، اگر وہ اپنے خاوند کی اطاعت کرنے اوراس کے حقوق ادا کرنے سے عاجز آجاۓ اوروہ اس کی طرف میلان کا بھی شعور نہ رکھے جوکہ نفرت کا سبب بنے اوراس کی عدم اطاعت کا با‏عث ہو اس حالت میں اسے اپنے خاوند سے خلع لے لینا چاہيۓ نہ کہ اس سے طلاق طلب کرے ۔

آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ خلع اورطلاق میں بہت بڑا فرق پایا جاتا ہے ، طلاق خاوند کی جانب سے ہوتی ہے جس کے کئي ایک اسباب ہیں مثلا بیوی کوناپسندیدگی کی نظر سے دیکھنا یا کوئي اورسبب ، اورمطلقہ عورت پر اس کے حسب حال عدت بھی ہے ۔

مثلا اگر وہ حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے ، اوراگربچی یا حیض سے ناامیدہے اورحیض نہيں آتا تواس کی عدت تین ماہ ہوگی ، اوراگر اسے حیض آتا ہوتو پھر اس کی عدت تین حیض ہے ، اورخاوند اس کا مکمل مہر اوراس کے سب حقوق ادا کرے گا ۔

لیکن خلع بیوی کی جانب سے ہوتا ہے جس میں وہ خاوند کو مال ادا کرے گی تا کہ اسے چھوڑ دے ، بہتر اورافضل یہ ہے کہ خاوند مہر سے زيادہ کا مطالبہ نہ کرے ، خلع والی عورت کی عدت صرف ایک حیض ہوگی تا کہ حمل سے برات ہوسکے ۔

سوال کرنے والی بہن کے مسئلہ کے قریب قریب جیسا مسئلہ بعض صحابیات کے ساتھ بھی پیش آچکا ہے جسے ہم ذیل میں ذکر کرتے ہیں :

ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ ثابت بن قیس رضي اللہ تعالی عنہ کی بیوی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگی :

اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت ( رضي اللہ تعالی عنہ ) پر دین یا اخلاقی عیب تونہیں لگاتی لیکن میں اس کی طاقت نہيں رکھتی ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

کیا تواس کا باغ واپس کرتی ہے ؟ وہ کہنے لگی جی ہاں ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4972 ) ۔

اورایک روایت میں ہے کہ :

میں ثابت ( رضي اللہ تعالی عنہ ) پر دین اورنہ ہی اخلاقی عیب لگاتی ہوں ، لیکن میں اسلام میں کفر کوناپسند کرتی ہوں ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4971 ) ۔

اس کی شرح میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

یعنی میں یہ ناپسند کرتی ہوں کہ ایسے اعمال کروں جوکہ اسلامی احکام کے خلاف ہوں یعنی خاوند سے بغض ، اوراس کی نافرمانی ، اوراس کے حقوق ادا نہ کرنا وغیرہ ۔ دیکھیں فتح الباری ( 9 / 400 ) ۔

خلاصہ یہ ہے کہ :

آپ خاوند کے حقوق کی ادائیگی اوراس کے ساتھ موافقت کی کوشش کریں ، اگر یہ نہ ہوسکے تو آپ خلع حاصل کرلیں ، اوریہ ممکن ہے کہ آپ اپنے والد کوراضی کرلیں اوراسے بتائيں کہ خاوند کے ساتھ رہنا اس کے دین اوردنیا دونوں کے لیے نقصان دہ ہے ۔

اگروالد اس پر راضي ہوجاۓ توٹھیک ہے وگرنہ یہ لازم اورضروری نہيں کہ آپ خاوند کوناپسند کرتے ہوۓ بھی اس کے ساتھ رہیں اوراس کے حقوق بھی ادا نہ کریں ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گو ہیں کہ وہ آپ کے سب غم اورپریشانیوں کودور فرماۓ اورآپ کوایک اچھی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما‌ۓ اورآپ کے معاملات میں مدد وتعاون فرماۓ‌ ، آمین یا رب العالمین ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments