26167: نماز استسقاء كے وقت كى تحديد


كيا نماز استسقاء كے ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے كسى دن كى تخصيص ثابت ہے ؟

الحمد للہ :

سنن ابو داود ميں ايك حديث ہے جس كى سند كو لا باس بہ كہا گيا ہے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے لوگوں سے نكلنے كے ليے ايك دن كا وعدہ فرمايا، عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ سورج نكلنے كے بعد نكلے...

اس حديث كى دلالت ظاہر ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے نماز استسقاء كے ليے ايك دن كى تحديد فرمائى تھى.... ليكن اس دن كا نام ثابت نہيں.

اہل علم ميں سے كئى ايك نے سوموار اور جمعرات كے دن كو مستحب قرار ديا ہے، كيونكہ ان ايام ميں اللہ تعالى كے سامنے اعمال پيش كيے جاتے ہيں اور اس ليے بھى كہ ان ايام ميں روزہ ركھنے كى فضيلت ہے، تو اس طرح مسلمان روزہ اور نماز استسقاء دونوں كو جمع كرتے ہيں تو اس طرح يہ قبوليت كے زيادہ قريب ہے.

اور يہ بھى احتمال ہے كہ باقى ايام كو چھوڑ كر صرف ان ايام كو مخصوص كرنا مشروع نہيں، كيونكہ نہ تو يہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے، اور نہ ہى كسى صحابى سے، صحيح يہى ہے كہ بغير كسى نص كے باقى ايام كو چھوڑ كر صرف ايك ہى يوم كو خاص نہ كيا جائے.

چنانچہ مشروع يہ ہے كہ كسى دن كى تحديد كى جائے جس ميں نكل كر بارش كے ليے دعاء ہو چاہے وہ سوموار كے دن موافق ہو جائے يا كسى اور دن كے صرف لوگوں كى ضروريات اور مصلحت كو مد نظر ركھا جائے.

الشيخ سليمان بن ناصر العلوان
Create Comments