Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
26267

مطلوبہ كام ختم كرنے كے بعد كام سے جانے كى اجازت طلب كرنا

افغانستان ميں اس عظيم فتنہ كے بارہ ميں آپ كا نظريہ كيا ہے كہ لوگ ناحق قتل كيے جارہے ہيں، اور وہاں كے باشندوں پر ظلم كيا جا رہا ہے، تو كيا اپنے مينجر سے كام مختصر كرنے كى اجازت طلب كر سكتا ہو، كيا يہ ميرے ليے جائز ہے ؟

الحمد للہ :

پہلے سوال كے متعلق عرض ہے كہ:

ان احداث ميں مسلمان شخص پر واجب ہے كہ وہ افغانستان ميں اپنے بھائيوں كى مدد كرے اور ان كى مدد اور فتح كى دعا كرتا رہے، اور ان سے دوستى اور محبت كرے.

اور دوسرے سوال كے متعلق گزارش ہے كہ:

اگر تو آپ ملازم ہيں اور آپ سے محدود گھنٹے كام مطلوب ہے، مثلا يوميہ سات گھنٹے، اور ان گھنٹوں ميں مطلوب كام آپ پانچ گھنٹوں ميں ختم كرنے كى استطاعت ركھتے ہيں، اور پھر كام سے چلے جائيں، اور مينجر بھى آپ كو جانے كى اجازت ديتا ہے تو ظاہر تو يہى ہے كہ مندرجہ ذيل شرائط پر عمل كرتے ہوئے اس ميں كوئى حرج نہيں ہے:

1 - آپ كے وہاں رہنے سے آپ سے كسى بھى قسم كے كام سے مستفيد نہيں ہوا جاتا، مثلا وہاں آنے والوں سے ملاقات، يا اس طرح كا كوئى اور كام، بلكہ آپ كا وہاں رہنا صرف وقت كا ضياع ہو.

2 - آپ كا وہاں سے جلدى جانے ميں آپ كے كام ميں خلل نہ ڈالتا ہو، بلكہ آپ بغير كسى نقص كے سارا كام مكمل كريں.

3 - جس جگہ آپ كام كرتے ہيں اس كا نظام اس جيسے تصرف سے منع نہ كرتا ہو. ( كيونكہ اكثر ادارے اور كمپنياں گھنٹوں كى تعداد ميں ڈيوٹى پر حاضر رہنے اسے پورا كرنے كى شرط لگاتى ہيں )

لھذا جب يہ شروط پائى جائيں تو مجھے اميد ہے كہ اس ميں كوئى حرج نہيں ہو گا .

الشيخ سعد الحميد
Create Comments