2627: کافرہ عورت سے کئي بارزنا کیا اس کے قبول اسلام کے بعد اب اس سے شادی کرنا چاہتا ہے


میں مسلمان ہوں اورتقریبا پانچ برس سے یورپ میں تعلیم حاصل کررہا ہوں ، دوران تعلیم میری ایک xxx لڑکی سے ملاقات ہوئي اوردوبرس تک ہماری محبت چلتی رہی ، میں اعتراف کرتا ہوں کہ اس سے میں نے کئي بارزنا کا مرتکب بھی ہوا ، اب کچھ ماہ قبل اس لڑکی نے اسلام قبول کرلیا ہے ، میری خواہش ہے کہ میں اس سے شرعی طریقہ پر شادی کرلوں ۔
توکیا اس سےمیری شادی جائز ہے ، اورکیا اس کے لیے کوئي خاص امور پر عمل کرنا ہوگا ؟
اللہ تعالی آپ کو جزائے خير عطا فرمائے ۔

الحمدللہ

کتاب اللہ میں اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بے حیائي اوربہت ہی زيادہ بری راہ ہے } الاسراء ( 32 ) ۔

ابن کثیر رحمہ اللہ تعالی اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں :

اللہ سبحانہ وتعالی اپنے بندوں کو اس آیت میں زنا اوراس قریب جانے سے بھی منع فرمارہے ہیں بلکہ اس کے اسباب کے قریب جانے سے بھی منع کرتے ہوئے فرمایا : { اورزنا کے قریب بھی نہ پھٹکو کیونکہ یہ بڑی بے حیائی اورفحش کام ہے } یعنی بہت ہی بڑا اورعظیم گناہ ہے ۔

{ اوربہت ہی بری راہ ہے } یعنی یہ طریقہ اورراستہ بہت برا ہے ۔

امام احمد رحمہ اللہ تعالی اپنی مسند میں مندرجہ ذيل روایت بیان کرتے ہیں :

حدثنا یزید بن ھارون حدثنا جریر حدثنا سلیم بن عامر عن ابی امامۃ رضي اللہ تعالی عنہ :

ابوامامہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک نوجوان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اورکہنے لگا مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیں ، توصحابہ کرام اسے ڈانٹنے لگے اوراسے کہا کہ یہ سوال نہ کرو ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا میرے قریب آجاؤ تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آیا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فریا بیٹھ جا‎‎ؤ وہ بیٹھ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

کیا تو اپنی ماں کے لیے یہ پسند کرے گا ؟ وہ نوجوان کہنے لگا اللہ تعالی مجھے آپ پر فدا کردے اللہ تعالی کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے لوگ بھی اپنی ماؤں کے لیے یہ پسند نہیں کرتے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

کیا تو اپنی بیٹی کے لیے یہ پسند کرے گا ؟ وہ نوجوان کہنے لگا اللہ تعالی مجھے آپ پر فدا کردے اللہ تعالی کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے لوگ بھی اپنی بیٹیوں کے لیے یہ پسند نہیں کرتے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

کیا تو اپنی بہن کے لیے یہ پسند کرے گا ؟ وہ نوجوان کہنے لگا اللہ تعالی مجھے آپ پر فدا کردے اللہ تعالی کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے لوگ بھی اپنی بہنوں کے لیے یہ پسند نہیں کرتے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

کیا تو اپنی پھوپھی کے لیے یہ پسند کرے گا ؟ وہ نوجوان کہنے لگا اللہ تعالی مجھے آپ پر فدا کردے اللہ تعالی کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے لوگ بھی اپنی پھوپھیوں کے لیے یہ پسند نہیں کرتے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

کیا تو اپنی خالہ کے لیے یہ پسند کرے گا ؟ وہ نوجوان کہنے لگا اللہ تعالی مجھے آپ پر فدا کردے اللہ تعالی کی قسم ایسا نہیں ہوسکتا ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے لوگ بھی اپنی خالاؤں کے لیے یہ پسند نہیں کرتے ۔

ابوامامہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اوردعا کرنے لگے : اے اللہ اس کے گناہ معاف کردے اوراس کے دل کوپاک صاف کردے اوراس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما اسے عفت و عصمت والی بنا دے ۔

ابوامامہ رضي اللہ تعالی بیان کرتے ہيں کہ اس کے بعد وہ نوجوان اس کی طرف متوجہ بھی نہیں ہوا ۔ دیکھیں مسند احمد حدیث نمبر ( 21708 ) ۔

اورایک دوسرے مقام پر اللہ تعالی نے کچھ اس طرح فرمایا ہے :

{ اورجو لوگ اللہ تعالی کے ساتھ کسی دوسرے معبود کونہیں پکارتے اورجسے اللہ تعالی نے قتل کرنا حرام کیا ہو اسے حق کے سوا قتل بھی نہیں کرتے ، اورنہ ہی وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں ، اورجو بھی یہ کام کرے گا وہ اپنے اوپر سخت قسم کا وبال لائے گا ۔

اسے قیامت کے روز دوہرا عذاب دیا جائے گا اوروہ ذلت و خواری کے ساتھ ہمیشہ اسی میں رہے گا ۔

سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اورایمان لائيں اوراعمال صالحہ کریں ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالی نیکیوں میں بدل دیتا ہے ، اور اللہ تعالی بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے ۔

اورجو شخص توبہ کرے اورنیک اعمال کرے تو وہ حقیقتا اللہ تعالی کی طرف سچا رجوع کرتا ہے } الفرقان ( 68 - 71 ) ۔

زانی شخص زانیہ عورت سے نکاح نہیں کرسکتا لیکن جب وہ دونوں اپنے اس فعل سے توبہ کرلیں تو پھر ان کا آپس میں نکاح ہوسکتا کیونکہ توبہ کی وجہ سے وہ زانی نہيں رہتے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ زانی مرد زانیہ یا مشرکہ عورت کے علاوہ کسی اورسے نکاح نہیں کرتا اورزانیہ عورت بھی زانی یا مشرک مرد کے علاوہ کسی اورسے نکاح نہیں کرتی ، اوریہ ایمان والوں پر حرام کردیا گیا ہے } النور ( 3 ) ۔

اس لیے آپ کو اپنے اس فعل سے اللہ تعالی کے سامنے سچی توبہ کرنی چاہیے اوراس کبیرہ گناہ کے ارتکاب کرنے کی وجہ سے آپ توبہ کے ساتھ ساتھ زيادہ سے زيادہ اعمال صالحہ کریں ہوسکتا ہے اللہ تعالی آپ کے گناہ معاف کردے ، توجب آپ سچی توبہ اوراس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالی کی شریعت پر عمل پیرا ہونگے تو اس کے بعداس عورت سے شادی کرنے میں کوئی حرج نہیں ، اللہ تعالی ہرتوبہ کرنے والے کی توبہ قبول کرتا ہے ۔

واللہ اعلم .

شیخ محمد صالح المنجد
Create Comments