26318: اگرخاونددوسری شادی کرنا چاہے توکیا دوسری بیوی گنہگار ہوگي


میری اورمیرے چچازاد کی آپس میں محبت پیدا ہوگئي اوراس نے میرے ساتھ شادی کا پیغام بھیجا لیکن میری والدہ نے انکار کردیا ، اس کے بعد اس نے کسی دوسری لڑکی سے شادی کرلی اوراس میں سے دو بچے بھی پیدا ہوئے ۔
اب شادی کے تین برس بعد وہ دوبارہ میرے ساتھ شرعی تعلقات بنانا چاہتا ہے ، اوراپنی بیوی کوکچھ مشکلات کی بنا پر طلاق دینا چاہتا ہے ان مشکلات میں میرا کوئي ہاتھ نہیں ، ميں اسے محبت کرتی ہوں لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہيں میں اس کی بیوی پر ظلم نہ کربیٹھوں اوراس وجہ سے گنہگار بن جاؤں یا پھر میرے اس کے ساتھ تعلقات کی بنا پر کوئي گناہ ہو ؟

الحمد للہ
اس سے آپ کی شادی میں کوئي ممانعت نہیں چاہے وہ اسے طلاق دے یا اپنے پاس ہی رکھے ، اورآپ کا اس سے شادی کرنا پہلی بیوی پرظلم شمار نہیں ہوگا ، اس لیے کہ جوشخص بھی عدل وانصاف کی طاقت رکھتاہے اس کے لیے ایک سے زيادہ شادیاں کرنا شرعی طور پر بڑی اچھی چيز بات ہے ۔

اس کے اوراس کی پہلی کے مابین جومشاکل ہیں اوراس کا اسے چھوڑنے میں بھی آپ کا کوئي تعلق نہیں ، اورنہ ہی آپ اس پر گنہگار ہوں گي لیکن یہ سب کچھ ایک شرط پر ہوگا :

وہ یہ کہ آپ اس سے یہ مطالبہ نہیں کرسکتیں کہ پہلی بیوی کوطلاق دے ، یا پھر آپ اسے کسی بھی طریقہ سے طلاق دینے پر ابھاریں اورتیار کریں آپ کے لیے یہ جائز نہیں ہے ۔

اورجب وہ اسے طلاق نہيں دیتا اورآپ سے شادی کرنا چاہتا ہے تواس پر آپ دونوں کے مابین عدل وانصاف کرنا واجب ہوگا ، اوراگراسے یہ خدشہ ہوکہ وہ عدل وانصاف نہیں کرسکتا توپھر اس کے لیے دوسری شادی کرنا جائز نہيں اس لیے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ اورعورتوں میں سے جوبھی تمہیں اچھی لگیں تم ان سے نکاح کرلو ، دو دو ، تین تین ، چار چارسے ، لیکن اگر تمہیں برابری اورعدل نہ کرسکنے کا خوف ہو تو ایک ہی کافی ہے یا تمہاری ملکیت کی لونڈي ، یہ زيادہ قریب ہے کہ تم ایک طرف جھک پڑنے سے بچ جاؤ } النساء ( 3 ) ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments