Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
26330

زمزم کے پانی سے استنجاء کرنا

کیا زمزم کے ساتھ استنجاء کرنا جائز ہے ؟

الحمد للہ
احادیث صحیحہ اس پردلالت کرتی ہیں کہ ماء زمزم بابرکت اورشرف والا ہے ، صحیح مسلم میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کے بارہ میں فرمایا :

( بلاشبہ یہ بابرکت اورکھانے والے کےلیے کھانا بھی ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2473 )

اورابودواود طیالسی کی روایت میں یہ لفظ زیادہ ہیں ( اوربیمار کے لیے شفا ہے ) ابوداود طیالسی ( 1 / 364 ) اس کی سند جیدہے ۔

تواس طرح یہ صحیح حدیث ماء زمزم کی فضيلت وبرکت پردلالت کرتی ہے اوریہ کہ زمزم کھانا اوربیمار کےلیے شفا بھی ہے ، توسنت طریقہ تویہ ہے کہ اسے پیا جاۓ جس طرح کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پیا تھا ۔

اس سے وضوء اوراستنجاء کرناجائز ہے اور اسی طرح اگرضرورت ہوتو غسل جنابت بھی کیا جاسکتا ہے ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آّپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے پانی نکلا توصحابہ کرام نے اس پانی کواپنی ضروریا ت کےلیے استعمال کیا اوراس میں سے پیا بھی گيا اوروضوء اورغسل بھی کیا گيا ، اوراستنجا بھی ضروریا ت میں سے ہے ، تویہ سب کچھ فی الواقع ہوا تھا ۔

اورزمزم اگرچہ اس پانی کی طرح نہیں جوکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے نکلا تھا اورنہ ہی اس سے افضل ہے ، تواس طرح یہ دونوں پانی بابرکت اورشرف کے مالک ہیں ۔

توجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں سے نکلنے والے پانی کے ساتھ وضوء اوراستنجاء و غسل کرنا اورکپڑے دھونا جائز ہوا تو اسی طرح زمزم سے بھی جائز ہوا ۔

بہرحال یہ زمزم پاکيزہ اورطیب ہے اسے پینا مستحب ہے اوراس میں کوئ حرج نہیں کہ اس سے وضوء بھی کرلیا جاۓ‌ اورنہ ہی اس میں کوئ حرج ہے کہ اس سے کپڑے وغیرہ دھوۓ جائيں اور اسی طرح اگرضرورت پڑے تواستنجاء کرنے میں بھی کوئ حرج نہیں جس طرح کہ اوپربھی بیان ہوچکا ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مروی ہے کہ آّپ نے فرمایا :

( زمزم جس چيزکے لیے پیا جاۓ وہ اسی کے لیے ہے ) سنن ابن ماجۃ حدیث نمبر ( 3062 ) ، اس سند میں ضعف ہے لیکن اوپروالی صحیح حدیث اس کی شاھد ہے ۔ والحمدللہ ۔ ا ھـ  .

دیکھیں کتاب : مجموع فتاوی ومقالات متنوعۃ للشیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی ( 10 / 27 ) ۔
Create Comments