26347: كيا مہمان آنے والى عورتوں كو خوشبو پيش كرنا جائز ہے ؟


سوال نمبر ( 7850 ) ميں بيان ہوا ہے كہ عورت كے ليے خوشبو لگا كر نكلنا جائز نہيں، تو كيا اگر مجھے كچھ عورتيں ملنے آئيں تو كيا اپنے علاقے كى عادت كے مطابق ميں انہيں خوشبو پيش كر سكتى ہوں ؟

الحمد للہ:

اگر وہ عورتيں آپ كے گھر سے نكل كر بازار نہ جائيں تو آپ انہيں خوشبو پيش كر سكتى ہيں، بلكہ وہ گاڑيوں ميں بيٹھ كر اپنے گھر واپس چلى جائيں، يا پھر گھر قريب ہوں كہ مردوں كے ساتھ اختلاط نہ ہو، اور كوئى اجنبى مرد ان كى خوشبو نہ پائے.

ليكن اگر معاملہ اس كے خلاف ہو، تو آپ ان كے سامنے معذرت كرتے ہوئے انہيں بتائيں كہ عورت كا خوشبو لگا كر اجنبى مردوں كے پاس سے گزرنا جائز نہيں؛ كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايسا كرنے سے منع فرمايا ہے، اس ليے كہ اس ميں فتنہ و خرابى پائى جاتى ہے.

اللہ تعالى سب كو وہ اعمال كرنے كى توفيق نصيب فرمائے جس ميں اللہ تعالى كى رضا و خوشنودى ہے، يقينا اللہ تعالى سننے والا اور قبول كرنے والا ہے. اھـ .

ماخوذ از: مجموع فتاوى و مقالات فضيلۃ الشيخ ابن باز رحمہ اللہ ( 10 / 39 ).
Create Comments