Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
26348

اللہ تعالی کے اسماء وصفات کے معانی میں سے اللہ تعالی جسے اختیار کرنا پسند کرتا ہے کہ اسے اختیار کرنے کی شرعی حیثیت

میں نے بعض خطباء کو خطبہ جمعہ میں لوگوں کو اللہ تعالی کی صفات سے متصف ہونے اور اس کے اخلاق کو اختیار کرنے پر ابھارتے ہوئےسنا ہے تو کیا یہ کلام صحیح ہے ؟
اور کیا اس طرح پہلے بھی کسی اہل علم نے کہا ہے ؟

الحمدللہ

جس تعبری کی طرف آپ نے اشارہ کیا ہے وہ صحیح نہیں لیکن اس کا ایک صحیح مطلب ہے وہ یہ کہ اللہ تعالی کے بعض اسماء وصفات کے جو تقاضے اور موجبات ہیں انہیں اختیار کرنے کی ترغیب دینا اور ابھارتا وہ اس طرح کہ اس صفات کو دیکھا جائے جن کے تقاضے کے مطابق مخلوق کا ان کے ساتھ متصف ہونا بہتر اور اچھا ہو ۔

لیکن وہ صفات جو کہ اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہیں مثلا الخلاق اور الرزاق اور الہ یہ ایسی صفات ہیں جو کہ اللہ سبحانہ وتعالی کے ساتھ خاص ہیں جن کے ساتھ مخلوق متصف نہیں ہو سکتی اور نہ ہی اس کا دعوی کرنا جائز ہے اور اسی طرح جو اسماء اس کے مشابہ ہوں ۔

بلکہ اس سے وہ صفات مقصود ہیں اللہ تعالی جن کے تقاضے کو پسند کرتا ہے ان سے متصف ہوا جائے مثلا علم ، قوت حق، رحم کرنا ، برد باری اختیار کرنا ، کرم و سخاوت ، عفو ودرگزر اور اس طرح کی دوسری صفات ۔

اللہ سبحانہ وتعالی علیم ہے تو علماء کو پسند کرتا ہے ، قوی ہے تو ضعیف مومن کی بنسبت قوی اور طاقت ور مومن سے زیادہ محبت کرتا ہے وہ کریم ہے تو کرم کرنے والوں سے محبت کرتا ہے وہ رحیم ہے تو رحم کرنے والوں سے محبت کرتا ہے ، عفو ودرگزر کرنے والا ہے تو درگزر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے وغیرہ ۔

لیکن ان صفات میں سے اللہ تعالی کی جو صفات ہیں وہ مخلوق سے اکمل اور اعظم ہیں بلکہ ان کے درمیان تو مقابلہ ہے ہی نہیں کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی جس طرح اپنی ذات میں مثال نہیں رکھتا اسی طرح اس کی صفات وافعال میں بھی کوئی مثال نہیں ۔

لیکن یہ ہے کہ ان صفات کے معانی میں سے مخلوق کے لۓ جو شرعی طور پر مناسب اور اس کے لائق ہے اتنا ہی حصہ ہے اور اگر اس حد اور حصہ سے تجاوز کرے گا تو یہ اس کے لۓ جائز نہیں ۔

مثلا : اگر وہ کرم وسخاوت میں حد سے تجاوز کرے گا وہ مسرف اور فضول خرچ ہوگا اور اسی طرح رحم کرنے میں حد سے تجاوز اور بڑھ جائے گا تو شرعی حدود اور تعزیرات کو معطل کر بیٹھے گا اور اسی طرح اگر عفو درگزر میں زیادتی کرتے ہوئےشرعی حد سے بڑھے گا تو وہ اسے اس کی جگہ سے ہٹا دے گا ۔

مذکورہ مثالیں صفات باری تعالی کے علاوہ کسی اور چیز پر دلالت کرتی ہیں ۔

علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے اسی معنی کو بیان کرتے ہوئےاپنی دونوں کتابوں ( عدۃ الصابرین ) اور الوابل الصیب ) میں فرمایا ہے ذیل میں ہم اس نص کو پیش کر رہے ہیں :

( جب اللہ سبحانہ وتعالی حقیقی طور پر الشکور کی صفت سے متصف ہے تو مخلوق میں سب سے زیادہ محبت اس سے کرتا ہے جو شکر کی صفت سے متصف ہو جس طرح کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا سب سے زیادہ غضب اس پر ہے جو اسے اس سے ختم کر دے یا ایسی صفت سے متصف ہو جو کہ شکر کی مخالف ہو ۔

اور اسی طرح اللہ تعالی کے اسماء حسنی کے متعلق بھی یہی ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو کہ ان کے واجبات سے متصف ہو اور سب سے زیادہ غضب اس پر ہے جو کہ اپنے آپ کو ان کے مخالف سے متصف کرے تو اسی لۓ اللہ تبارک وتعالی کافر ، ظالم ، جاہل ، سخت دل ، بخیل ، بزدل ، ذلیل اور کمینے شخص سے بغض رکھتا ہے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے ، علیم ہے تو اسی لۓ علماء سے محبت فرماتا ہے وہ رحیم ہے تو رحم کرنے والوں سے محبت کرتا ہے وہ محسن ہے تو احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے پردہ پوشی ( ستیر) ہے اسی لۓ پردہ پوشی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے ، وہ قادر ہے عاجز کہنے والے کو ملامت کرتا ہے اس کے ہاں قوی اور طاقت ور مومن ضعیف اور کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہے وہ عفو درگزر کرنے والا ہے معانی اور درگزر کو پسند فرماتا ہے وہ اکیلا ہے وہ وتر کو پسند کرتا ہے ۔

جو بھی وہ پسند فرماتا ہے وہ اس کے اسماء و صفات اور ان کے موجبات کے آثار ہیں اور جن سے بھی وہ بغض رکھتا ہے وہ ان کے منافی اور مخالف چیزیں ہیں ) دیکھیں کتاب : عدۃ الصابرین صفحہ نمبر 310

اور علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی الوابل الصیب میں فرماتے ہیں :

مجموعی طور پر بات یہ ہے ( الجود ( سخاوت ) رب ذوالجلال کی صفات میں سے ہے کیونکہ وہ دینے والا ہے لیتا نہیں وہ کھلاتا ہے کھاتا نہیں اور سب سے زیادہ سخاوت کرنے والا ہے اور وہ سب سے زیادہ کرم والا مخلوق میں سے اس کے ہاں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو کہ اس صفات کے تقاضے پورے کرتا اور ان سے متصف ہوتا ہے ۔

وہ کرم کرنے والا ہے اور اپنے بندوں میں سے کرم کرنے والوں کو پسند کرتا ہے وہ عالم ہے تو علماء سے محبت کرتا ہے، وہ قادر ہے بہادر سے محبت کرتا ہے ، جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے )

ان کی کلام ختم ہوئی ، دیکھیں الوابل الصیب صفحہ نمبر 43

امید ہے کہ ہم نے جو کچھ ذکر کیا ہے وہ کافی اور فائدہ مند ہو گا اللہ تعالی سے میری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے دین کی سمجھ عطا فرمآئے اور اس کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دے بیشک وہ سننے اور قبول کرنے والا ہے ۔

والحمد للہ رب العالمین .

دیکھیں کتاب : مجموع فتاوی ومقالات متنوعہ للشیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی ( 1/ 133)
Create Comments