Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
26728

مطلقا یہ لفظ کہنے کہ ہم اللہ تعالی کے بیٹے ہیں

مسلمانوں میں سے جو یہ کہے کہ ہم یہ ایمان رکھتے ہیں کہ (ہم سب اللہ تعالی کے بیٹے ہیں) اور اس ضعیف حدیث سے استدلال پکڑے ساری مخلوق اللہ تعالی کے عیال ہیں اس کا کیا حکم ہے ؟

الحمد للہ :

الحمد للہ :

( ساری مخلوق اللہ تعالی کے عیال ہیں ان میں سے اللہ تعالی کو سب سے محبوب وہ ہے جو اس کے عیال کو سب سے زیادہ نفع دینے والا ہو )

مذکورہ حدیث کو ان الفاظ کے ساتھ بزار اور ابو یعلی نے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے جو کہ انتہائی ضعیف قسم کی حدیث ہے جیسا کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ضعیف الجامع میں کہا ہے حدیث نمبر (2946)

مسلمانوں میں سے جو شخص یہ کہے کہ ہمارا ایمان ہے کہ ہم سب اللہ تعالی کے بیٹے ہیں تو اس پر حکم لگانے سے قبل یہ ضروری ہے کہ اس سے اس کی تفصیل معلوم کی جائے کہ وہ کیا مراد لے رہا ہے ۔

1- تو اگر اس نے اولاد اور بیٹے کا مجازی معنی مراد لیا جو کہ یہ ہے ( یہ سب لوگ اللہ تعالی کے محتاج اور اس کے فقیر ہیں ) اور اس عبارت کو کسی مشروع اور جائز غرض میں استمعال کیا مثلا عیسائیوں کے رد میں جو کہ یہ کہتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام اللہ تعالی کے بیٹے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اس کا الزام عیسائیوں پر کرے تا کہ ان کا عقیدہ باطل کر سکے لیکن اس کا استعمال ان کے علاوہ کسی اور کے ساتھ نہ کرے کیونکہ اس سے اس کے لۓ باطل معانی کا اخذ اور التباس کا خطرہ ہے کیونکہ عیسائیوں کے عیسی علیہ السلام کے متعلق عقیدہ کو باطل کرنے کے لۓ ان عبارتوں سے جو کہ ان کی کتاب مقدس میں ہیں جن میں عیسی علیہ السلام کے علاوہ دوسروں کے لۓ بھی بیٹے کے لفظ ثابت ہیں اور یہ بنوہ دوسروں کے لۓ بھی ثابت ہے اس کے ساتھ انہیں لا جواب کرنا کہ انجیل میں ہر عبارت کے اندر بیٹے کا معنی حقیقی نہیں ہے جیسا کہ عیسی علیہ السلام کے متعلق ان کا گمان ہے اور جسے پولس پادری نے انہیں عقیدہ توحید سے منحرف ہونے کی اور اس واہمے کی بنا پر اس میں داخل کیا ہے جس سے بیٹا اور باپ کا معنی لیا جاتا ہے ۔

ان عبارتوں میں سے انجیل لوقا میں (20 / 36) ہے کہ عیسی علیہ السلام نے ان کے متعلق جو ان پر ایمان لائے تھے فرمایا کہ : (وہ فرشتوں کی طرح ہیں نہ تو وہ مریں گے وہ اللہ تعالی کے بیٹے ہیں کیونکہ وہ قیامت کے بیٹے ہیں )

اور اسی طرح سفر آشعیا میں ہے : ( 43 /6) (دور سے میرے بیٹے اور بیٹیوں کو زمین کے کناروں سے لاؤ )

اور جیسا کہ انجیل یوحنا میں ہے کہ : (1 /12) ( اور ان سب کو جنہوں نے اسے قبول کر لیا تو انہیں دلیل دی کہ وہ اللہ کی اولاد بن جائیں یعنی اس کے نام کے ساتھ ایمان لانے والے جو کہ خون اور کسی جسم اور کسی آدمی کے ارادہ اور مشیت سے پیدا نہیں ہوئےبلکہ اللہ کے ارادہ سے ہیں )

اور اسی طرح اللہ تعالی کا وصف باپ آیا ہے انجیل متی میں ہے کہ (6/1) عیسی علیہ السلام کا اپنے شاگردوں کو یہ کہنا کہ (وگرنہ تمہارے لۓ تمہارے باپ کے پاس آسمان میں کوئی اجر نہیں ہے )

اور انجیل لوقا میں ہے : (11/ 2) (جب بھی تم نماز پڑھو تو یہ کہو کہ ہمارا باپ وہ ہے جو کہ آسمانوں میں ہے )

اور انجیل یوحنا میں ہے : (20 / 17) ( میں تمہارے اور اپنے باپ کی طرف چڑھ رہا ہوں جو کہ میرا اور تمہارا الہ ہے )

تو عیسائی یہ نہیں کہتے کہ فرشتے اور بنو اسرائیل اور حواری یہ اللہ تعالی کے حقیقی بیٹے ہیں جیسا کہ وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ اللہ تعالی ان سب کا حقیقی باپ ہے بلکہ وہ اسے مجازی معنی پر محمول کرتے ہیں یعنی وہ نعمتوں اور احسان اور حفاظت اور دیکھ بھال کے اعتبار سے باپ اور وہ عبادت اور فقیری اور محتاجگی کے اعتبار سے اس کے بیٹے ہیں ۔

تو اس طرح ان کا یہ استدلال کہ انجیل میں یہ وصف موجود ہے کہ عیسی علیہ السلام اللہ تعالی کے بیٹے ہیں باطل ہو جاتا ہے ۔

2- اور اگر اس سے مراد یہ ہے کہ : سب لوگ اسی طرح اللہ تعالی کے بیٹے ہیں جس طرح کہ عیسی علیہ السلام ہیں جس طرح کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے تو یہ عیسائیوں سے بڑھ کر کفر ہے ۔

3- اور اگر وہ اس سے مراد یہ لیتا ہے کہ : سب اللہ تعالی کے بیٹے اور اس کے عیال ہیں تو پھر مسلمان اور کافر کے درمیان فرق ہی نہ ہوا تو اس سے اس کی مراد یہودیوں اور عیسائیوں اور بتوں کے بچاریوں کو کافر نہ کہنا ہے تو یہ اسلام سے مرتد ہونا ہے کیونکہ بلا شک جس نے یہودیوں اور عیسائیوں کے کفر میں شک کیا یا پھر ان کے مذہب کو صحیح کہا وہ اجماع کے ساتھ کافر ہے ۔

4- اور اگر اس سے یہ مراد لیا کہ بھائی کے لفظ کو مطلقا جائز قرار دیا کہ سب مطلقا بھائی ہیں یہودی اور عیسائی پر بھی اس کا اطلاق کیا کیونکہ سب اللہ تعالی کے عیال ہیں تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ مومنوں اور کفار کے درمیان اخوت اور بھائی چارہ نہیں ہے ۔

اور یہ حدیث بھی صحیح نہیں اور اگر صحیح بھی ہوتی تو پھر بھی اس سے اس اطلاق پر دلیل نہیں لی جا سکتی ۔

انسان کے لۓ ضروری ہے کہ وہ ان الفاظ کے اطلاق سے بچے جو کہ اسے کسی حرام کام میں لے جانے کا سبب بنیں اور اس کی دعوت دیں کہ اس کے ساتھ اس کے بارہ میں غلط گمان کیا جائے اور پھر خاص کر جن کا تعلق اللہ تعالی کی توحید سے اور اس کے اسماء و صفات میں اسے منفرد جاننے سے ہو جبکہ اللہ تعالی کا حق زیادہ ہے کہ ایسے معاملات میں خیال رکھا جائے اور ان چیزوں سے بچا جائے جس سے اس کا حق مخدوش ہو رہا ہے اور خاص طور پر ان الفاظ میں جنہیں یہودیوں نے استعمال کیا تو اللہ تعالی نے ان کی طرف سے قرآن مجید میں اس کا ذکر بطور مذمت کیا ہے :

(یہود و نصاری یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالی کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں آپ کہہ دیجۓ کہ پھر تمہیں اللہ تعالی تمہارے گناہوں کے سبب سزا کیوں دیتا ہے ؟ نہیں بلکہ تم بھی اس کی مخلوق میں ایک انسان ہو ) المائدۃ 18

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments