Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
26763

نماز فجر كا وقت اور بعض كلينڈروں ميں غلطى

ميں نے اخبار ميں كالم پڑھا ہے كہ مصر ميں فجر كى اذان وقت سے نصف گھنٹہ قبل ہى كہہ دى جاتى ہے، صاحب مضمون نے اس كى دليل ميں كچھ فلكيات كا حساب پيش كيا ہے جسے ميں تو سمجھ نہيں سكا، مثلا ہم ( 5. 19 ) پانچ ڈگرى پر فجر كا حساب لگائيں گے، نہ كہ ( 5 . 17 ) ڈگرى پر.
ميں يہ جانتا چاہتا ہوں كہ واقعى مصر ميں فجر كى اذان وقت سے قبل ہوتى ہے يا نہيں ؟
اگر جواب نہ مل سكے تو آپ سے گزارش ہے كہ ہمارى راہنمائى كريں كے ہميں كونسے طريقہ پر عمل كرنا چاہيے، فلكيات كے حساب كے مطابق يا كہ كسى اور طريقہ پر ؟

الحمد للہ:

آپ كو علم ہونا چاہيے كہ نماز فجر كا وقت طلوع فجر ثانى سے شروع ہوتا ہے، جسے فجر صادق بھى كہا جاتا ہے، اور افق ميں دائيں بائيں پھيلنے والى سفيدى ہے، اور نماز فجر كا وقت طلوع شمس تك رہتا ہے.

ليكن فجر اول جسے فجر كاذب كا نام ديا جاتا ہے وہ افق كے اوپر سے نيچے كى جانب آسمان ميں لمبى روشنى ستون كى شكل ميں ہوتى ہے، اور يہ فجر صادق سے تقريبا بيس منٹ قبل ہے، جس ميں موسم كے اعتبار سے كمى و بيشى ہوتى رہتى ہے.

اور يہ بھى معلوم ہے كہ احكام كا تعلق فجر صادق كے وجود كے ساتھ ہے نہ كہ فجر كاذب كے ساتھ.

فجر كى يہ دونوں قسميں بہت سى احاديث ميں بيان ہوئى ہيں، ذيل ميں ہم چند ايك احاديث پيش كرتى ہيں:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" فجر كى دو قسميں ہيں، ايك فجر وہ ہے جس ميں كھانا حرام اور نماز كى ادائيگى حلال ہوتى ہے، اور ايك فجر ميں نماز ( يعنى نماز فجر ) حرام اور كھانا حلال ہوتا ہے "

مستدرك حاكم اور بيھقى نے اسے روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 4279 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" فجر كى دو قسميں ہيں: وہ فجر جو بھيڑيا يا شير كى دم جيسى ہے اس ميں نماز حلال نہيں، اور يہ كھانا حرام نہيں كرتى، ليكن وہ فجر جو افق ميں مستطيل شكل ميں ہوتى ہے وہ نماز حلال كرتى اور كھانا حرام كرتى ہے "

اسے حاكم اور بيھقى نے روايت كيا ہے، اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 4278 ) ميں صحيح قرار ديا ہے.

اور ايك روايت ميں ہے:

" فجر دو قسم كى ہے: ايك فجر كو ذنب سرحان ( يعنى فجر كاذب ) كہا جاتا ہے جو لمبائى ميں جاتى ہے چوڑائى ميں نہيں، اور دوسرى فجر چوڑائى ميں جاتى ہے، لمبائى ميں نہيں "

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے السلسلۃ الصحيحۃ حديث نمبر ( 2002 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

ابو داود اور ترمذى ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے يہ فرمان ثابت ہے:

" تمہيں بلال رضى اللہ تعالى عنہ كى اذان سحرى كھانے سے منع نہ كرے اور نہ ہى مستطيل فجر، ليكن افق ميں پھيلنى والى مستطير فجر منع كرے "

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 568 ) ميں اسے صحيح كہا ہے.

اس بيان نبوى صلى اللہ عليہ وسلم سے يہ معلوم ہوا كہ اوقات نماز كى تحديد مشاہدہ كے ساتھ ہو گى، نہ كہ فلكى حساب كے مطابق، اور نہ ہى ان جنتريوں اور كيلنڈروں كے مطابق جنہيں وضع كرنے والوں كى امانت و ديانت اور علم و منزلت كى حالت كا علم ہى نہ ہو، اور خاص كر جب يہ ثابت ہو جائے كہ وہ صحيح وقت كے مطابق نہيں بلكہ مخالف ہے.

يہ غلطى صرف اكيلے مصر ميں ہى نہيں، بلكہ يہ واضح ہو چكا ہے كہ اس وقت موجود اكثر جنترياں اور كلينڈروں ميں نماز فجر كا وقت صحيح درج نہيں، بلكہ وہ تو فجر كاذب كے حساب سے لكھا گيا ہے، جس ميں مسلمانوں كى نمازيں باطل ہونے كا خدشہ ہے، اور خاص كر وہ شخص جو اذان كے فورا بعد گھر ميں ہى نماز ادا كر لے اس كى نماز تو باطل ہو گى.

سعودى عرب، مصر، شام، اور سوڈان كے علماء كرام كى ايك جماعت نے فجر كا صحيح وقت تلاش كرنے كى كوشش و سعى كر كے فجر صادق كا وقت بتا كر آج كے دور ميں موجودہ كيلنڈر وغيرہ كى غلطى بيان كى ہے.

شيخ البانى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" ميں نے خود عمان كے جنوب مشرقى علاقے جبل ھملان ميں واقع اپنے گھر سے كئى بار ديكھا ہے جو ميرے ليے اس بات كى تصديق كا باعث بنا كہ لوگوں كى عبادت كى تصحيح كرنے والے بعض غيور افراد كى بات صحيح معلوم ہوئى كہ بعض عرب ممالك ميں فجر كى اذان فجر صادق سے بيس يا تيس منٹ قبل ہى اذان ہو جاتى ہے.

يعنى فجر كاذب سے بھى قبل، بعض مساجد سے ميں نے بہت دفعہ طلوع فجر كے وقت نماز كى اقامت ہوتے سنى ہے جو فجر كى اذان وقت سے قبل ديتے ہيں، اور پھر رمضان المبارك ميں وقت سے بھى قبل فجر كا فريضہ ادا كرنے ميں جلدى بازى سے كام ليتے ہيں " انتہى

ديكھيں: السلسلۃ الصحيحۃ ( 5 / 52 ).

جب يہ معلوم ہو گيا تو پھر ہر علاقے شہر اور ملك كے افراد پر واجب ہوتا ہے كہ وہ اہل علم كى ايك جماعت مقرر كريں جو نماز فجر كے وقت كو تلاش كر كے لوگوں كو بتائے، اور غلط قسم كى جنتريوں اور نظام الاوقات كے كلينڈروں پر عمل كرنے سے اجتناب كرنے كا كہيں، جن ميں وقت غلط لكھا ہے.

سوال كرنے والے بھائى اور اس ملك كے باقى مسلمانوں كو چاہيے جہاں يہ كلينڈر اور جنترى ميں وقت غلط ہے وہ اپنى نماز اذان كے تيس يا پينتيس منٹ بعد ادا كريں.

اور اگر وہ اذان ميں موجودہ وقت سے تاخير كرنے كى استطاعت ركھتے ہوں تو ان پر يہ بھى لازم ہے، اسى طرح ان كےليے يہ بھى واجب ہے كہ وہ اپنى عورتوں كو بھى اس كا حكم بتائيں تا كہ وہ بھى وقت سے قبل نماز ادا نہ كر ليں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments