26801: سفارش كا حكم


سفارش كا كيا حكم ہے، اور كيا يہ حرام ہے؟
مثلا اگر ميں ملازمت كرنا چاہوں يا پھر كسى سكول ميں داخل ہونا چاہوں يا اسى طرح كوئى اور كام تو سفارش استعمال كرنے كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ :

اول:

اگر آپ كے ليے كى گئى سفارش كى وجہ سے علمى طور پر آپ سے اولى اور افضل شخص كى تعين نہ ہو اور وہ ملازمت سے محروم ہو جائے، تو سفارش كرنا حرام ہے؛ كيونكہ يہ حقدار شخص كے ساتھ ظلم ہے، اور حكمرانوں پر بھى ظلم ہے، اس طرح كہ اس سے وہ صحيح طور پر كام كرنے والوں اور زندگى كے كاموں ميں ان كى معاونت كرنے والوں سے محروم ہو جاتے ہيں، اور امت كے كاموں كو اس جانب سے پورا كرنے والوں كو ملازمت سے محروم كر كے امت پر بھى زيادتى ہے.

پھر اس سے سوء ظن اور كينہ معاشرہ ميں فساد بپا ہوتا ہے، اور اگر سفارش كرنے سے كسى كا حق ضائع نہ ہو، يا كسى كو نقصان نہ پہنچے تو پھر سفارش كرنى جائز ہے، بلكہ شرعى طور پر مرغوب ہے، اور ان شاء اللہ اس پر اجر و ثواب بھى حاصل ہو گا.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے ثابت ہے كہ آپ نے فرمايا:

" سفارش كرو تمہيں اجر حاصل ہو گا، اور اللہ تعالى اپنے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى زبان سے جو چاہے فيصلہ كرواتا ہے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1342 ).

دوم:

سكول، اكيڈمياں، اور يونيورسٹياں، يہ سب عام امت كے ليے ہيں جن ميں امت كے لوگ اپنے دين اور دنيا كے نفع كى اشياء سيكھتے ہيں، اور امت كے كسى فرد كو كسى دوسرے پر كوئى فضيلت حاصل نہيں، ليكن اگر سفارش كے علاوہ كوئى اور مبررات ہوں.

لھذا جب سفارش كرنے والا يہ جان لے كہ اس كى سفارش كى بنا پر كسى اہليت والے شخص يا عمر كے اعتبار سے يا درخواست ميں سبقت لے جانے كےاعبتار كى بنا پر وہ ملازمت سے محروم ہو جائے گا تو اس وقت سفارش كرنى ممنوع ہے.

كيونكہ اس سفارش كے نتيجہ ميں محروم ہونے والے پر ظلم و زيادتى ہو گى، يا پھر وہ كسى دور والے سكول ميں جانے پر مجبور ہو گا، جس كى بنا پر اسے مشقت اٹھانى پڑے گى، اور سفارش كے ذريعہ آنے والے كو راحت حاصل ہو گى، اور اس وجہ سے بھى كہ اس سفارش كى بنا پر بغض و حسد اور كينہ پيدا ہو گا، اور معاشرے ميں فساد بپا ہوگا.

اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں برسائے.

اللجنۃ الدائمۃ ( فتاوى اسلاميۃ ( 4 / 300 ).
Create Comments