26816: بيت الخلاء ميں انسان جنوں كى آنكھوں سے كيسے چھپ سكتا ہے ؟


جب ہم ميں كوئى شخص ليٹرين ميں قضائے حاجت كر رہا ہو تو كيا وہ اكيلا ہوتا ہے ؟
اور كيا يہ ممكن ہے كہ اس كے ساتھ ليٹرين ميں جن ہو، اگر جواب اثبات ميں ہو تو وہ كونسے اعمال ہيں جن پر عمل كيا جائے تا كہ ہمارى عزت و حشمت مخدوش نہ ہو سكے ؟

الحمد للہ:

يہ تو معلوم ہے كہ جن انسان كو ديكھتے ہيں ليكن انسان جن كو نہيں ديكھ سكتا.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿ يقينا وہ اور اس كا قبيلہ اور لاؤ لشكر تمہيں ايسے طور پر ديكھتا ہے جہاں سے تم انہيں نہيں ديكھ سكتے ﴾الاعراف ( 27 ).

اور جب شياطين خبيث اور گندے ہيں تو وہ گندى اور خبيث جگہ سے مانوس ہوتے اور وہاں رہتے ہيں.

اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ خبيث عورتيں خبيث مردوں كے ليے، اور خبيث مرد خبيث عورتوں كے ليے ہيں ... .. ﴾ الآيۃ النور ( 26 ).

اسى ليے شياطين ان جگہوں پر حاضر اور موجود ہوتے ہيں جہاں انسان قضائے حاجت كرتا ہے، اور وہ اسے نقصان اور ضرر پہنچانے كى كوشش كرتے ہيں.

اسى ليے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہميں بچاؤ كے ليے قضائے حاجت كے ليے بيت الخلاء ميں داخل ہونے كا طريقہ اور دعاء سكھائى ہے تا كہ ہميں اللہ تعالى شيطانوں كے شر سے محفوظ ركھے، لہذا مسلمان شخص كو بيت الخلاء ميں داخل ہونے سے قبل درج ذيل دعاء پڑھنى چاہيے:

" بسم الله، اللهم إني أعوذ بك من الخبث و الخبائث "

اللہ تعالى كے نام سے، اے اللہ ميں خبيثوں اور خبيثنيوں سے تيرى پناہ ميں آتا ہوں.

امام ترمذى رحمہ اللہ نے على بن ابى طالب رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جنوں كى آنكھوں اور بنوآدم كے ستر اور شرمگاہ كے درميان پردہ اور آڑ يہ ہے كہ جب تم ميں سے كوئى شخص بيت الخلاء ميں داخل ہو تو بسم اللہ كہے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 606 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 496 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور ابو داود اور ابن ماجہ رحمہما اللہ نے روايت كيا ہے كہ: نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ان قضائے حاجت والى جگہوں ميں جن حاضر ہوتے ہيں، اس ليے تم ميں سے جب كوئى بيت الخلاء ميں داخل ہو تو وہ كلمات كہے:

" اللهم إني أعوذبك من الخبث و الخبائث "

اے اللہ ميں خبيثوں اور خبيثنيوں كے شر سے تيرى پناہ ميں آتا ہوں.

سنن ابو داود حديث نمبر ( 6 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 296 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح ابن ماجہ حديث نمبر ( 241 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

" الحشوش " وہ جگہيں جہاں قضائے حاجت كى جاتى ہے، اور ان ميں ليٹرينيں بھى شامل ہوتى.

" محتضرۃ " يعنى شيطان اور جن انسانوں كو تكليف اور اذيت دينے كے ليے آتے ہيں.

" الخبث " يعنى شر.

" الخبائث " اس سے خبيث نفس مراد ہيں جو كہ شيطانوں ميں مذكر اور مؤنث دونوں شامل ہوتے ہيں، تو اس طرح شر اور شرير شيطانوں سے پناہ طلب كى جاتى ہے. اھـ ماخوذ از عون المعبود.

جب مسلمان شخص بيت الخلاء جانے سے قبل يہ دعا پڑھےگا تو اللہ تعالى اسے شيطانوں كے شر سے محفوظ ركھےگا.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

بسم اللہ پڑھنے كا فائدہ يہ ہے كہ يہ آڑ اور پردہ ہے.

اور اس استعاذہ يعنى پناہ والى دعا كا فائدہ يہ ہے كہ:

خبيث جنوں كے شر سے اللہ عزوجل كى طرف التجاء ہے اور اس كى پناہ ميں آنا ہے، كيونكہ يہ جگہ گندى اور خبيث ہے، اور خبيث اور گندى جگہ گندے اور خبيث جنوں كا ٹھكانہ ہے، تو اس مناسبت سے جب كوئى شخص بيت الخلاء داخل ہونے لگے تو وہ يہ كلمات كہے:

" أعوذ بالله من الخبث و الخبائث "

تا كہ اسے شر نہ پہنچے، اور نہ ہى خبائث يعنى شرير نفوس كى طرف سے كوئى اذيت پہنچے. اھـ

ديكھيں: الشرح الممتع ( 1 / 83 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments