Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
27104

اسرار زوجیت کا اظہار اورطلاق کی نیت سے شادی کرنا

میں نے کئي برس قبل ایک شخص سے شادی کی ، اورشادی سے قبل میرے اس سے تعلقات تھے ، اوراللہ تعالی سے ہم نے اس سے توبہ کرلی ہے ، اس نے دومرتبہ دوسری شادی کی ہے ، اوران دونوں حالتوں میں ہی اس کی شادی شھوت کی وجہ سے تھی ۔
مشکل یہ ہے کہ وہ پچھلے راز افشاں کرتا ( مجھے یہ علم ہے کہ مسلمان پر واجب ہے کہ وہ پچھلے راز افشاں نہ کرے ) اس شخص نے اسلام سے قبل بھی کئي ایک بارشادی کی ، اوراب اسلام کووہ اپنے اس فعل کا مبرر بناتا ہے کہ اسلام میں چار شادیاں کی جاسکتی ہیں ، وہ مجھے تویہ کہتا ہے کہ اسے مجھ سے محبت ہے ، لیکن میرا اعتقاد ہے کہ وہ میرے اخلاق اورمجھ پر عادی ہوچکا ہے ، لیکن اپنی دوسری بیوی سے میرے جیسا برتاؤ نہیں کرتا وہ مجھے اپنی دوسری بیوی کے بارہ میں ایسی باتیں کرتا ہے جو میں نہيں سننا چاہتی ۔
دونوں شادیاں خفیہ اورمشتبہ طریقے سے انجام پائي ہیں ، اس نے ایک بار کہا کہ وہ ایک دوسری عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے اوراسلام بھی اس کی اجازت دیتا ہے ، لیکن وہ صرف تبدیلی کے لیے کچھ مدت تک شادی کرتا ہے ، توکیا اس کے لیے جائز ہے وہ شادی کرے اورجب چاہے طلاق دے ڈالے ؟
ہماری کوئي اولاد نہیں توکیا میرے لیے جائز ہے کہ میں اس سے طلاق حاصل کرلوں کیونکہ اس حالت میں میں اس کے ساتھ نہيں رہ سکتی اورپھر مجھے اپنے خاوند کی محبت اور اس کی رغبت بھی نصیب نہیں ؟

الحمد للہ
اول :

خاوند اوربیوی پریہ واجب اورضروری ہے کہ وہ اپنے رازوں کی حفاظت کریں ، اورخاص کر وہ جو جماع اورایک دوسرے سے خصوصی تعلق کے ہوتے ہيں ، بیوی اپنے خاوند کے رازوں کی امین ہے اوراسی طرح خاوند اپنی بیوی کے رازوں پر امین ہے ۔

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم مردوں کے پاس آئے اورفرمانے لگے :

کیا تم میں کوئي ایسا آدمی ہے جواپنی بیوی کے پاس جائے اوردروازہ بند کرکے اپنے اوپر پردہ ڈالے ، اوراللہ تعالی کے پردہ کے ساتھ وہ بھی پردہ میں رہے ؟

توصحابہ کرام کہنے لگے : جی ہاں ۔

تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے : پھر وہ اس کے بعد بیٹھتااور یہ کہتا ہے کہ میں نے ایسے کیا ، میں نے ایسے کیا ؟

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ خاموش ہوگئے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم پھر عورتوں کے پاس گئے اورفرمانے لگے :

کیا تم میں سے بھی کوئي ایسی ہے جویہ باتیں کرتی ہے ؟

تووہ سب عورتیں بھی خاموش ہوگئيں ۔

ایک نوجوان لڑکی اپنے ایک گھٹنے پر بیٹھی اوراونچی ہوئي تا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھیں اوراس کی بات کو سن سکیں ، اورکہنے لگی :

اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم یقینا مرد ایسی باتیں کرتے ہیں اوربلاشبہ یہ عورتیں بھی ایسی باتيں کرتی ہيں ۔

تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

کیا تمہیں علم ہے کہ اس کی مثال کیا ہے ؟ اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اس کی مثال اس شیطاننی کی ہے جوشیطان سے کسی گلی اورراستے میں ملے اورلوگوں کے سامنے ہی اس سے اپنی حاجت پوری کرکے چلتی بنے ۔ سنن ابوداود حدیث نمبر ( 2174 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع ( 7037 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

دوم :

اورآپ کے خاوند کا تبدیلی کی غرص سے شادی کرنا جیسا کہ آپ کہتی ہیں یہ طلاق کی نیت سے شادی کرنا ہے جوکہ عورت اوراس کے اولیاء سے دھوکہ اورفراڈ ہے ۔

شیخ محمد رشید رضا رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :

علماء سلف اورخلف کی متعہ کی ممانعت کے بارہ میں جوسختی ہے وہ اس کی متقاضی ہے کہ طلاق کی نیت سے نکاح بھی ممنوع ہو ، اگرچہ فقھاء کرام کا یہ کہنا ہے کہ جب عقد نکاح میں کسی شخص نے وقت معین کی نیت کی اوراسے عقد کے صیغہ میں مشروط نہ رکھا تو اس کا نکاح توصحیح ہوگا لیکن یہ دھوکہ اورفراڈ شمار ہوگا ۔

جوکہ اس عقدنکاح سے زيادہ باطل ہونے کے لائق ہے جس میں خاوند ، بیوی اوراس کے اولیاء کی رضامندی سے وقت کی تعیین ہوتی ہے ، اوراس میں کوئی اورفساد والی چيز تونہیں صرف یہ ہے کہ اس عظیم بشری رابطے سے کھیلنا ہے جو کہ انسانوں کے درمیان رابطہ ہے ۔

اوراس میں شہوات کے پیچھے چلنے والی عورتوں اورمردوں کو اپنی شھوات پوری کرنے کے مواقع فراہم کرنے ہیں ، اوراس پر جوکچھ منکرات مرتب ہوتی ہیں ۔

اوروہ نکاح جس میں یہ شرط ( تعیین وقت ) نہ ہووہ دھوکہ اورفراڈ پر مبنی ہوگا اس کی بنا پر اوربھی کئي قسم کے فساد و منکرات مرتب ہونگے ، جن میں عداوت و دشمنی ، بغض و کینہ اورحسد ، اوران سچے لوگوں سے جوحقیقتا شادی کرنا چاہیے ہيں کی سچائي کا خاتمہ اوران پر عدم اعتماد وغیرہ ۔

جوکہ خاوند اور بیوی دونوں کے لیے پاکبازی اوراس کا اخلاص ہے ، اور ان کا آپس میں امت مسلمہ کے گھروں میں سے ایک گھر کی تاسیس اور اسے تعمیر کرنے میں تعاون ہے ۔ دیکھیں فقہ السنۃ لسید سابق ( 2 / 39 ) ۔

اورشیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ تعالی کی بھی اس شادی کی تحریم میں اسی طرح کی کلام ہے ، ان کا کہنا ہے :

پھریہ قول ( یعنی جواز والا قول ) ایسا ہے کہ جس سے کمزور ایمان والے لوگ اپنی غلط اورخراب قسم کی اغراض پوری کرنے کا موقع پائيں گے اورفرصت حاصل کریں گے ، جیسا کہ ہم نے سنا ہے کہ کچھ لوگ سالانہ چھٹیوں میں دوسرے ممالک میں صرف جاتے ہی اس نیت سے ہیں کہ وہ طلاق کی نیت سے شادی کریں ۔

اورمجھے تویہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض تو صرف ان چھٹیوں میں ہی کئي ایک شادیاں کرتے ہیں ، گویا کہ وہ اپنی شہوت پوری کرنے ہی گئے تھے جو کہ ہوسکتا ہے زنا کے مشابہ ہو اللہ تعالی اس سے بچا کر رکھے ۔

تواس لیے ہماری رائے ہے کہ اگراس کے جواز کا بھی کہا جائے تو یہ اس لائق نہیں کہ یہ دروازہ کھول دیا جاۓ اس لیے کہ یہ جوکچھ میں نے ذکر کیا ہے اس کا ذریعہ بن چکا ہے ۔

اورمیں اپنی رائے کے بارہ میں کہتا ہوں :

عقد نکاح توصحیح ہے لیکن اس میں دھوکہ اورفراڈ ہے ، تو اس ناحیہ سے یہ حرام ہوگا ۔

اس میں دھوکہ اورفراڈ یہ ہے کہ اگر عورت اوراس کے ولی کوخاوند کی نیت کا علم ہوجائے کہ اس کی صرف نیت یہ ہے کہ وہ اس سے کھیل کر اسے طلاق دے دے گا تووہ کبھی بھی اس سے شادی نہ کریں ، تواس طرح یہ ان کے لیے دھوکہ اورفراڈ ہوگا ۔

اوراگروہ انہیں یہ بتاتا ہے کہ وہ جتنی دیر اس ملک میں رہے گا وہ اس کے ساتھ رہے اوروہ لوگ اس پر متفق ہوجائيں تویہ نکاح متعہ ہوگا ۔

اس لیے میں تو اسے حرام سمجھتا ہوں ، لیکن اگر کسی نے ایسی جرات کی اوریہ کام کرلیا تواس کا نکاح صحیح ہے لیکن وہ گنہگار ہوگا ۔

لقاء الباب مفتوح ( ملاقات کا دروازہ کھلا ہے ) سوال نمبر ( 1391 ) ۔

سوم :

اوراس کا خفیہ طریقے سے شادی کرنے میں اگر توعورت کا ولی اوردو گواہوں کی موجودگی میں ہو اوراس طرح عقد نکاح ہوا ہو تویہ نکاح صحیح ہے ، لیکن اگر یہ نکاح عورت کے ولی کے بغیر ہی ہوا ہے اور یا پھر گواہ نہیں تھے تویہ نکاح صحیح نہیں ۔

آپ مزيد تفصیل کے لیے سوال نمبر ( 7989 ) اور ( 2127 ) کا بھی مطالعہ کریں ۔

چہارم :

ہم آپ کے خاوند کویہ نصیحت کرتے ہيں کہ وہ اپنے گھریعنی بیوی کے معاملہ میں اللہ تعالی سے ڈرے اوراس کا تقوی اختیار کرے ، اورلوگوں کی عزت کے بارہ میں بھی اسے اللہ تعالی کا ڈر ہونا چاہیے ، اوراسے یہ علم ہونا چاہیے کہ اس طرح کا کھیل اورغلط کام اس کے لیے جائز نہیں ، شادی ایک سکون ، اوررحمت اورمحبت ومودت کا نام ہے تو اس لیے اسے صرف شہوت پوری کرنے کا ذریعہ ہی نہیں بنا لینا چاہیۓ اورپھراس عورت کوحسرت ویاس میں چھوڑ دیا جائے‌ ۔

ہم آپ کوبھی یہ نصیحت کرتے ہیں کہ آپ اپنے خاوند کواس بات سے منع کرنے میں نرمی سے کام لیں ، اوراپنے گھرکو مستقل طور پرقائم رکھنے کی کوشش کریں ، اورخاوند کی نیت کے بارہ میں جو کچھ آپ نے ذکر کیا ہے اس کی صحت کے بارہ میں تحقیق کریں کہ آیا واقعتا اورشادی کرنےاورجوکچھ آپ کواچھا نہیں لگتا اس کے بارہ میں اس کی نیت اورمقاصد ایسے ہی ہیں یا کہ نہیں ۔

آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ عورت اپنے خاوند میں کسی اورکے شریک ہونے کی غیرت کی بنا پر کبھی چھوٹی سی بات کوبھی بڑا سمجھنے لگتی ہے ، اوربعض اوقات اس میں شیطانی وسوسے بھی شامل ہوتے ہيں تا کہ مسلمان گھرانے کو تباہ کرسکے ۔

توآپ اس معاملہ کوکچھ سوچ سمجھ کرلیں اورخاص کرنیت کا مسئلہ جس میں آپ کوکچھ علم نہیں ہوسکتا جوکہ آپ سے غیب ہے ، اوراللہ تعالی سے آپ دعا کرتی رہیں کہ وہ آپ کواس معاملہ کی حقیقت دکھائے ، اورآپ اس کے ساتھ رہنے یا پھر اس سے علیحدگی اختیار کرنے کے بارہ میں اپنے رب سے استخارہ کریں ۔

اورآپ یہ بھی غورو فکر کریں کہ اگر آپ کوطلاق ہوجاتی ہے تواس پر کیا کچھ مرتب ہوگا اورانجام کیا ہوگا تا کہ آپ کوعلم ہوسکے کہ آپ کے لیے علیحدگی بہتر ہے یا کہ صبر کرتے ہوئے خاوند کے ساتھ رہنا ہی بہتر ہے ، اوراگر آپ اسے اپنے بیان کردہ اسباب کی وجہ سے براداشت نہیں کرسکتیں توآپ اس سے علیحدگي کا مطالبہ کرسکتی ہیں ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments