Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
2756

غير مسلم گداگر كو دينے كا حكم

كيا اگر كوئى غير مسلم گداگر راستے ميں مانگ رہا ہو تو اسے دينا جائز ہے ؟

الحمد للہ:

فقھاء كرام نے كافر كو نفلى صدقہ وخيرات دينے ميں اختلاف كيا ہے، اور اختلاف كا سبب يہ ہے كہ:

صدقہ اجروثواب كا باعث اور مالك بناتا ہے، اور كيا بالاتفاق كافر پر صدقہ كرنے سے اجروثواب كا مالك بنتا ہے؟

حنابلہ كا كہنا ہے، اور شافعيہ كے ہاں يہى مشہور ہے، اور السير الكبير ميں محمد رحمہ اللہ سے منقول ہے كہ: على الاطلاق نفلى صدقہ وخيرات كفار كو دينا جائز ہے، .. اور اس كى دليل مندرجہ ذيل فرمان بارى تعالى كا عموم ہے:

﴿ اور وہ اللہ تعالى كى محبت ميں مسكينوں، يتيموں، اور قيديوں كو كھانا كھلاتے ہيں ﴾.

ابن قدامہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اور ان دنوں تو كافر كے علاوہ كوئى قيدى نہيں تھا، اور اس ليے بھى كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" ہر جاندار چيز ميں اجروثواب ہے "

اور ايك حديث ميں وارد ہے:

اسماء بنت ابى بكر رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ميرى مشرك والدہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كےدور ميں ميرے پاس آئى تو ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے دريافت كرتے ہوئے كہا: ميرى والدہ رغبت ركھتے ہوئے ميرے پاس آئى ہے تو كيا ميں اس كے ساتھ صلہ رحمى كروں؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ہاں اپنى والدہ كے ساتھ صلہ رحمى كرو"

اور اس ليے بھى كہ ہر دين ميں صلہ رحمى كرنا قابل ستائش و تعريف ہے اور جب غير مسلم اوركافر شخص سوال كررہا اور مانگ رہا ہو تو وہ دو حالتوں سے خالى نہيں:

1 - يا تو وہ بہت زيادہ ضرورتمند اور كھانے وغيرہ كا محتاج ہے، كہ اگر اسے كھانا نہ كھلائيں تو وہ ہلاك ہو جائے، تو اس حالت ميں آپ اسے كھلا سكتے ہيں، ليكن اگر وہ اسلام دشمن اور لڑائى كرنے والا ہو تو پھر اسے چھوڑ ديا جائے گا، اور اس حالت ميں اسے ديا ہوا مال صدقہ ہوگا نہ كہ زكاۃ.

2 - اور يا اس شخص كى حاجات ضرورى نہ ہوں، جيسا كہ سابقہ حالت تھى، تو اس شخص كو تاليف قلب اور اسلام كى دعوت كے ليے ديا جاسكتا ہے، كيونكہ اس ميں بہت عظيم مصلحت پائى جاتى ہے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments