Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
2915

حفاظت اوربچاؤ کے لیے قرآنی آیات لٹکانے کا حکم

حادثے سےاور نظربد سے بچاؤ اور بطور تبرک گاڑی ميں مصحف رکھنے کا حکم کیا ہے ؟

الحمدللہ

نظر بداور حادثے سے بچا‎ؤ کے لیے گاڑی میں قرآن مجید رکھنا بدعت ہے اس لیے کہ صحابہ کرام حادثات وخطرات اور نظربد سے بچاؤ کے لیے قرآن مجید نہيں اٹھاتے تھے ، تو یہ بدعت ہوئ اس لیے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ( ہربدعت گمراہی اور ہرگمراہی آگ میں ہے )

( ٹیلی فون پر شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ تعالی سے سوال )

( البدع ومالا اصل لہ ص 259 ) ۔

اور مندرجہ ذیل سوال شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی سے پوچھا گيا :

سوال ؟

بعض لوگ گھروں کے کمروں ہوٹلوں اور دفتروں میں قرآنی آیات اور احادیث نبویہ لٹکاتے ہیں ، اوراسی طرح ہاسپٹل اور ڈسپینسریوں میں اللہ تعالی کے اس فرمان { واذا مرضت فھو یشفین } وغیر لٹکاتے ہیں ۔

تو کیا ان کا لٹکانا ممنوعہ تعویذوں میں شمار ہوتا ہے ، یہ علم ہونا چاہیے کہ ان کا اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ برکت کا نزول ہو اور شیطان اور جنوں کو بھگایا جاۓ‎ ، اور یہ بھی قصد ہوتا ہے کہ بھولے ہوۓ کو یادکروایا جاۓ اور غافل کی متنبہ کیا جاۓ ، اور کیا تبرک کے لیے گاڑی میں مصحف رکھنا بھی تعویذ میں شامل ہے ؟

تو فضیلۃ الشیخ نے اس کا جواب دیتے ہوۓ کہا :

سائل نے جس کا ذکر کیا ہے اگرتو یہ اس لیے ہو کہ اس سے لوگوں کو نفع مندشئ کی تعلیم اور نصیحت کے لیے ہو تو اس میں کوئ حرج والی بات نہیں ، لیکن اگر اس کا مقصد یہ ہو کہ اس کے ساتھ شیطان اور جن سے بچاؤ‎ ہوتا ہے تو اس کے متعلق مجھے کسی دلیل کاعلم نہیں ، اور اسی طرح گاڑی میں تبرک کے لیے مصحف رکھنا بھی مشروع نہيں اور نہ ہی اس کی کوئ دلیل ملتی ہے ، لیکن اگر یہ اس لیے رکھا جاۓ کہ سوارہونے والے اس کی تلاوت کریں اور پڑھیں یا پھر بعض اوقات وہ خود پڑھے تو یہ اچھی بات ہے جس میں کوئ‏ حرج نہیں ۔

اوراللہ تعالی ہی توفیق بخشنے والا ہے

فتاوی اسلامیۃ للشیخ ابن باز ( 4 / 29 ) .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments