Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
2967

بيوى نے دعوى كيا كہ اس سے زبردستى كى گئى ہے

ميں ايك مہاجر مسلمان ہوں اور اٹھارہ برس سے ايك عورت كے ساتھ شادى شدہ ہوں، ميرا كام ہى ايسا ہے كہ مجھے اكثر سفر پر جانا پڑتا ہے، اور بيوى اكيلى رہتى ہے، جب ميں ايك بار سفر سے واپس آيا تو بيوى نے مجھے بتايا كہ اس كے پاس ايك شخص آيا اور اس نے اس سے بوس و كنار كيا اور كہنے لگا تم بہت چھوٹى ہو.
آج اس واقعہ كو اٹھارہ برس گزرنے كے بعد بيوى نے مجھے بتايا ہے كہ وہ شخص اس كے پاس آيا اور بوس و كنار كرنے كے ساتھ ساتھ مجامعت بھى كى اور وہ اس كے سامنے زير ہو چكى تھى، اب ميں بہت ذلت محسوس كر رہا ہوں اور شديد غصہ ميں ہوں كيونكہ اس نے مجھے دھوكہ ميں ركھا اور اصل حقيقت نہيں بتائى، اور اس موضوع سے مجھے لاعلم ركھا.
اس كى بنا پر ميں نفسياتى طور پر تباہ ہوگيا ہوں اور نماز تك كے ليے مسجد جانے كى رغبت بھى نہيں ركھتا، برائے مہربانى مجھے يہ بتائيں كہ ميں كيا كروں، آيا ہمارى شادى شرعى ہے، يا كہ ميں اسے طلاق دے دوں ؟
اللہ سبحانہ و تعالى آپ كو جزائے خير عطا فرمائے.

الحمد للہ:

اگر تو يہ صحيح ہے كہ اس نے بالآخر آپ كو بتا ديا كہ ايسا ہوا ہے تو آپ كى بيوى نے كبيرہ گناہ كا ارتكاب كيا ہے اور اس شخص كى بات مان كر بہت بڑى خيانت كى مرتكب ہوئى ہے، كيونكہ نہ تو اس نے اس سے بھاگنے كى كوشش كى اور نہ ہى اس سے بچنے كے ليے چيخ و پكار وغيرہ كى.

اور اس نے آپ كو يہ بتايا كہ وہ اس كے سامنے مجبور تھى اس كا يہ قول قابل قبول اس ليے نہيں كہ اس نے نہ تو يہ ذكر كيا ہے كہ اس شخص نے ايسا اسلحہ كے زور پر كيا، يا پھر اسے باندھ ديا، اس كا ذكر نہيں كياگيا، اس ليے جب بالفعل اس كى كوتاہى ثابت ہوگئى تو آپ پر كيا واجب ہے، اور اس سلسلہ ميں آپ كا موقف كيا ہونا چاہيے ؟

بلاشك و شبہ اس سلسلہ ميں آپ پر سب سے پہلا واجب تو يہ ہے كہ آپ بيوى كو وعظ و نصيحت كريں، اور اسے يوم آخرت اور قيامت كى ہولناكياں ياد دلائيں، اور اللہ تعالى كى حدود كى پامالى اور خاوند كى خيانت اور اس كے بستر كو خراب كرنے كے خطرہ ناك كام كى وضاحت كريں، اور اس سلسلہ ميں شريعت اسلاميہ نے شادى شدہ زانى كو جو حد مقرر كى ہے كہ پتھر مار كر اسے رجم كيا جائے كى وضاحت كريں.

اس وعظ و نصيحت كے بعد اگر آپ ديكھيں كہ وہ اپنے كيے پر نادم ہے اور افسردہ ہے اور اب استقامت اختيار كر چكى ہے تو پھر آپ كا اس كے ساتھ رہنے اور اسے اپنے نكاح ميں ركھنے ميں كوئى حرج نہيں، اور آپ كا نكاح صحيح ہے.

نظر تو يہى آتا ہے يہ عورت اپنے كيے پر نادم ہے اور توبہ كر چكى ہے، كيونكہ اس موضوع كو بھول جانے كے بعد اتنے عرصہ بعد اس نے خود ہى چھيڑا ہے، اور آپ سے صراحتا اس نے سب كچھ بيان كر ديا ہے.

لگتا ہے كہ اس كا ضمير اسے جھنجھوڑتا رہا اور اپنے خاوند سے سچى معذرت كرنے كى رغبت دلاتا رہا كہ سچى توبہ كر لے، اور اس كا يہ گناہ صغر سنى اور امريكہ كے جاہليت زدہ ماحول ميں ہوا جہاں يہ احتمال بھى ہے كہ ہو سكتا ہے ابتدائى طور پر اس پر جبر كيا گيا ہو اور پھر وہ بھى نرم پڑ گئى ہو، اور يہ گناہ اس جيسا نہيں جو خود معصيت و گناہ كى سعى و كوشش كرے اور اس كے ليے اس نے پلاننگ كى اور جان بوجھ كر اصرار بھى كيا.

ہمارى نصيحت يہى ہے كہ اگر اس عورت كى اب حالت بدل چكى ہے اور وہ راہ استقامت اختيار كر چكى ہے اور اپنے كيے پر نادم ہے تو پھر آپ اسے معاف كرتے ہوئے اس سے درگزر كريں خاص كر آپ كى اس سے اولاد بھى ہوگى جو طلاق كى صورت ميں ضائع ہو كر رہ جائيگى.

اس كے ساتھ ساتھ آپ مستقل طور پر اس كى تربيت كريں اور دھيان ركھيں اور نگرانى كرتے ہوئے زيادہ دير غائب مت ہوں، اللہ سبحانہ و تعالى سے دعا ہے كہ وہ ہم سب كى توبہ قبول فرمائے.

پھر يہ كہ آپ كے سوال ميں ايك بہت خطرناك چيز وارد ہے وہ آپ كا يہ قول ہے كہ:

" اس حادثہ كے نتيجہ ميں آپ ميں مسجد جا كر نماز ادا كرنے كى رغبت نہيں رہى "

مسلمان بھائى يہ تو بہت ہى عجيب بات ہے حالانكہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو تو كوئى پريشانى ہوتى اور كوئى اہم معاملہ پيش آ جاتا تو آپ نماز ادا كرتے اور اللہ سبحانہ و تعالى سے گريہ زارى كرتے ہوئے اس سے دعا كر كے مدد طلب كرتے، اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے اس طرح كى حالت ميں ہميں بھى يہى تعليم دى ہے.

اس كى تعليم نہيں دى كہ پريشانى اور اس طرح كے حادثات ميں ہميں اللہ كے گھر مسجدوں سے ہى دور ہو جائيں اور نماز كرنا شروع كر ديں، اور دعا سے اعراض كرنے لگيں، يہ بتائيں كہ اگر ايسا كريں گے تو پھر پريشانى ميں كس سے مدد طلب كريں گے اور كون آپ كو اس سے نكالے گا، اور آپ كو مصيبت كى اس آگ سے كون نجات دےگا.

اس ليے ميرے بھائى آپ اللہ كى طرف رجوع كريں اور اس سے دعا كريں كہ وہ آپ كا غم و پريشانى دور كر دے اور آپ كے سينہ ميں جو بيمارى ہے اس سے شفايابى نصيب فرمائے اور آپ صبر و نماز كے ساتھ مدد طلب كريں، يقينا اللہ سبحانہ و تعالى صبر كرنے والوں كے ساتھ ہے.

واللہ اعلم.

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments