31762: دعوت و تبليغ سے محبت ہے اور پريشان كن خواب ديكھ لى


گزارش ہے كہ آپ پريشنانى ميں ميرى مدد كر سكيں گے، مسئلہ يہ ہے كہ ميں پانچ روز قبل استخارہ كيا اور اللہ تعالى سے سوال كيا كہ اگر ميرى استطاعت ميں ہو كہ ميں ايك شخص كو مسلمان كر لوں اور اسے راہ حق اوراسلام قبول كرنے كى طرف لے آؤں، يہ ميرى دلى سوچ اور فكر اور زندگى كى خواہش ہے چاہے زندگى ميں ايك ہى بار ايسا ہو كيونكہ ميں اللہ تعالى سے دلى طور پر بہت زيادہ محبت ركھتا ہوں.
ميں نے استخارہ ميں اللہ تعالى سے يہ دعاء كى كہ ميرا يہ خواب سچا ہو اور خواہش پورى ہو جائے، اور اس كے ليے اللہ تعالى سے ہدايت و راہنمائى بھى طلب كى، ليكن آج صبح مجھے بہت ہى پريشان كن خواب آئى ہے، اس بارہ ميں آپ كى رائے كيا ہے ؟

الحمد للہ :

اللہ تعالى سے ہمارى دعاء ہے كہ آپ كو دعوت الى اللہ كا كام كرنےاور خير و بھلائى نشر كرنے كى حرص پر ثابت قدم ركھے، آپ كا خير و بھلائى محبت كرنا اور اسے نشر كرنا ان شاء اللہ آپ كى بہتر اور خير پر دلالت كرتا ہے، اللہ تعالى سے ہمارى دعاء ہے كہ آپ مندرجہ ذيل فرمان بارى تعالى ميں داخل ہوں:

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿تم لوگوں ميں سے سب سے بہترين امت ہو، لوگوں كو نيكى كا حكم ديتے اور برائى سے منع كرتے ہو، اور اللہ تعالى پر ايمان ركھتے ہو﴾.

اور آپ نے جو اللہ تعالى سے اپنى محبت كا ذكر كيا ہے، يہ اللہ تعالى كے محبوب بندوں كى صفت ہے جن كے متعلق اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿اللہ تعالى ان سے محبت كرتا ہے، اور وہ اس سے محبت كرتے ہيں﴾.

لہذا جس نے صدق دل كے ساتھ اللہ تعالى سے محبت ركھى اللہ تعالى بھى اس سے محبت كرتا ہے، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو اللہ تعالى سے ملاقات سے محبت ركھتا ہے تو اللہ تعالى بھى اس كى ملاقات سے محبت كرتا ہے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6507 ) صحيح مسلم حديث نمبر( 2683 )

اور بخارى و مسلم نے عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے بيان كيا ہے كہ:

" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ايك شخص كو ايك لشكر كا امير بنا كر بھيجا اور وہ اپنے ساتھ والوں كو نماز پڑھاتا اور ركعت كے آخر ميں قل ھو اللہ احد كى تلاوت كرتا، جب وہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس كا ذكر كيا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اس سے دريافت كرو كہ وہ ايسا كيوں كيا كرتا تھا؟ تو اس صحابى نے جواب ديا: اس ليے كہ يہ رحمن كى صفت ہے اور ميں اسے پڑھنا پسند كرتا ہوں تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اسے بتا دو كہ يقينا اللہ تعالى بھى اس سے محبت كرتا ہے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 7375 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 813 ).

اس شخص نے اللہ تعالى كى صفت سے محبت كى تو اللہ تعالى نے بھى اس سے محبت كى.

اور اگر آپ اللہ تعالى كے ساتھ اپنى محبت كى صداقت جاننا چاہتے ہيں تو اپنے آپ كو مندرجہ ذيل آيت كے سامنے پيش كريں جس ميں اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿كہہ ديجئے: اگر تم اللہ تعالى سے محبت كرنا چاہتے ہو تو پھر ميرى ( نبى صلى اللہ عليہ وسلم ) كى اتباع و پيروى كرو، اللہ تعالى تم سے محبت كرنے لگے گا، اور تمہارے گناہ بھى بخش دے گا﴾.

يعنى نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى ابتاع و پيروى اور اطاعت و فرمانبردارى كرو.

اور جب اللہ تعالى آپ سے محبت كرنے لگے تو پھر خير عظيم كے ساتھ خوش ہو جائيں، كيونكہ حديث قدسى ميں اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

" جس نے ميرے ولى كے ساتھ دشمنى كى ميں اس كے خلاف اعلان جنگ كرتا ہوں، اور جو بندہ ميرا قرب حاصل كرنا چاہتا ہے جسے ميں بہت زيادہ پسند كرتا ہوں وہ ميرى فرض كردہ اشياء كے ساتھ قرب حاصل كرے، اور جب بندہ نوافل كے ساتھ ميرا قرب حاصل كرتا رہتا ہے تو ميں اس سے محبت كرنے لگتا ہوں، اور جب ميں اس سے محبت كرنے لگ جاؤں تو ميں اس كان ہوتا ہو جس سے وہ سنتا ہے، اور اس كى آنكھ ہوتا ہوں جس سے وہ ديكھتا ہے، اور اس كا ہاتھ ہوتا ہوں جس سے وہ پكڑتا ہے، اور اس كى ٹانگ ہوتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے، اور اگر وہ مجھ سے سوال كرے تو ميں اسے عطا كرتا ہوں، اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب كرتا ہے تو ميں اسے پناہ ديتا ہوں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6502 ).

بندے كى اللہ تعالى كے ساتھ محبت كے يہ چھ فائدے ہيں:

1 - اللہ تعالى اس كى سماعت ہو جاتا ہے، يعنى وہ اللہ تعالى كى رضا اور خوشنودى والى اشياء كے علاوہ كچھ سنتا ہى نہيں.

2 - وہ اس كى بصارت ہو: يعنى بندہ اللہ كى رضا اور خوشنودى والى اشياء كے علاوہ كچھ اور ديكھتا ہى نہيں ہے.

3 - وہ اس كى ٹانگ ہوتا ہے جس سے وہ چلتا ہے: يعنى اللہ تعالى كى محبوب اور پسنديدہ اشياء كے علاوہ كسى اور طرف چلتا ہى نہيں.

4 - وہ اس كا پكڑنے والا ہاتھ ہوتا ہے: يعنى وہ اپنے نفس كے ليے كسى سے انتقام نہيں ليتا، بلكہ اللہ كے ليے ليتا ہے، اور اللہ تعالى كى پسند اور رضا كے علاوہ كوئى كام كرتا ہى نہيں.

5 - اللہ تعالى اس كى دعاء كو قبول كرتا ہے.

اللہ تعالى اس كى ہر ناپسنديدہ چيز سے بچاتا ہے.

اس ليے اللہ تعالى كے محبوب بندوں كے ليے خوشخبرى اور راحت ہے، اللہ تعالى كے وليوں اور اللہ تعالى كى جماعت كے ليے راخت و خوشخبرى ہے فرمان بارى تعالى ہے:

﴿يہى اللہ تعالى كا گروہ ہے، خبردار اللہ تعالى كا گروہ ہى كامياب ہونے والا ہے﴾.

اور رہا استخارہ كرنے كا مسئلہ تو يہ اس وقت مشروع ہے جب انسان كوئى كام كرنا چاہے اور پھر اس ميں متردد ہو، ليكن آپ جو كام كر رہے ہيں وہ تو اللہ تعالى كى مخلوق كو اللہ كى دعوت دينا ہے، لھذا آپ كو اس ميں استخارہ كرنے كى كوئى ضرورت نہيں، بلكہ آپ كو چاہيے كہ آپ يہ كام حكمت اور موعظہ حسنہ اچھى وعظ و نصيحت كے ساتھ كام شروع كر ديں.

اور آپ نے نيند ميں جو خواب ديكھى ہے وہ شيطان كى جانب سے ہے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ہمارى راہنمائى فرماتے ہوئے ہميں حكم ديا ہے كہ جب ہم كوئى خوشى اور سرور والى خواب ديكھيں تو اسے بتائى جائے جس سے محبت ہو.

ليكن اگر ہم كوئى ايسى خواب ديكھيں جو ناپسند ہو تو ہم اللہ تعالى سے پناہ طلب كرتے ہوئے اعوذ باللہ من الشيطان الرجيم پڑھ كر اپنى بائيں جانب تين بار تھوك كر اپنى سائڈ بدل كر سو جائيں، اور اس خواب كى طرف توجہ اور دھيان بھى نہ ديں.

اس كى مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 9577 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور اگر آپ سونے ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا طريقہ معلوم كرنا چاہتے ہوں تو پھر سوال نمبر ( 21216 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments