Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
3189

اگر امام نے امامت كى نيت نہ كى ہو اور كچھ لوگ آكر اس كى امامت ميں نماز ادا كرنے لگيں تو كيا حكم ہے ؟

اگر كوئى شخص انفرادى طور پر فرضى نماز ادا كر رہا ہو اور كچھ لوگ آكر اس كى اقتدا ميں نماز ادا كرنا شروع كرديں، تو كيا ايسا كرنا جائز ہے، چاہے امام نے جماعت كروانے كى نيت نہ بھى كى ہو، گزارش ہے كہ دلائل كے ساتھ حكم كى وضاحت فرمائيں ؟

الحمد للہ:

انفرادى طور پر نماز ادا كرنے والے شخص كے ليے دوران نماز ہى امامت كى نيت كرنا جائز ہے، اس ليے بعد ميں اس كے ساتھ ملنے والوں كى امامت كروا سكتا ہے، اس كى دليل بخارى اور مسلم شريف كى درج ذيل حديث ہے:

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ ميں نے اپنى خالہ ميمونہ بنت حارث رضى اللہ تعالى عنہا كے ہاں رات بسر كى اور انہيں كہا كہ جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم بيدار ہوں تو مجھے بھى بيدار كرديں تو انہوں نے ( قيام الليل كے ليے ) مجھے بھى بيدار كر ديا.

چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم قيام كے ليے كھڑے ہوئے اور ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى بائيں جانب آكر كھڑا ہو گيا، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ميرا ہاتھ پكڑ كر مجھے اپنى دائيں جانب كر ديا اور جب بھى ميں غافل ہو جاتا ميرے كان كى لو پكڑ ليتے.

ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے گيارہ ركعت ادا كيں اور پھر بيٹھ گئے حتى كہ ميں نے ان كے سونے كى آواز سنى، اور جب طلوع فجر ہو گئى تو انہوں نے فجر كى ہلكى سى دو ركعت ادا كيں "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 667 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 763 ).

اس حديث ميں ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انفرادى طور پر نماز ادا كرنا شروع كى تھى اور پھر جب ان كے ساتھ ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بھى شامل ہو گئے تو انہوں نے انہيں امام بن كر نماز پڑھائى.

ابن باز رحمہ اللہ تعالى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

اگر ميں جماعت ہو چكنے كے بعد مسجد ميں جاؤں اور نماز ادا كرنا شروع كردوں اور تكبير تحريمہ كے بعد كوئى شخص آكر ميرے ساتھ نماز ميں شامل ہو جائے حالانكہ ميں نے اس كى نيت نہ كى تھى تو كيا اس كى نماز صحيح ہو گى يا نہيں ؟

شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

صحيح يہى ہے اور آپ كے ليے مشروع يہى ہے كہ كسى ايك يا زيادہ شخص كے نماز ميں شامل ہو جانے كے وقت امامت كى نيت كر ليں، كيونكہ جماعت كے ساتھ نماز ادا كرنا مطلوب ہے، اور اس ميں بہت عظيم فضيلت ہے بعض اہل كا كہنا ہے كہ يہ نفلى نماز ميں صحيح ہے.

بلكہ صحيح يہى ہے كہ نفلى اور فرضى دونوں ميں صحيح ہے، كيونكہ اصل ميں دونوں ہى احكام ميں برابر ہيں، مگر جسے كوئى دليل خاص كر دے اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ثابت ہے كہ آپ صلى اللہ عليہ وسلم ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما كى خالہ ميمونہ رضى اللہ تعالى عنہا كے گھر ميں نماز ادا كر رہے تھے تو ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہما بھى وضوء كر كے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بائيں جانب كھڑے ہو گئے، چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے انہيں گھما كر اپنى دائيں جانب كھڑا كر ديا اور انہيں نماز پڑھائى. اسے بخارى اور مسلم نے روايت كيا ہے.

اور امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے صحيح مسلم ميں روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم انفرادى طور پر نماز ادا كر رہے تھے كہ جابر اور جبار رضى اللہ تعالى عنہما آئے اور آپ صلى اللہ عليہ وسلم كى دائيں اور بائيں جانب صف بنا كر كھڑے ہو گئے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ان دونوں كو اپنے پيچھے كر كے انہيں نماز پڑھائى.

يہ دونوں احاديث اس كى دليل ہے جو ہم نے بيان كيا ہے، جيسا كہ يہ احاديث اس كى بھى دليل ہيں كہ ايك شخص امام كى دائيں جانب كھڑا ہو گا اور دو يا زيادہ افراد امام كے پيچھے كھڑے ہونگے.

ديكھيں: مجموع فتاوى و مقالات متنوعۃ الشيخ ابن باز ( 12 / 151 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments