Wed 23 Jm2 1435 - 23 April 2014
3225

ہجرت والے ملك كے واجبى اوصاف

وہ كونسى واجبى شروط ہيں جن كى بنا پر كوئى ملك دار الحرب يا دار الكفر بنتا ہے ؟

الحمد للہ:

ہر وہ ملك جس كے حكمران اور ذمہ داران اور كنٹرول ركھنے والے اس ملك ميں اللہ تعالى كى حدود كا نفاذ كريں، اور اپنى رعايا پر شريعت اسلاميہ كو نافذ كرتے ہوں، اور اس ميں رعايا شريعت اسلاميہ كے واجب كردہ امور سرانجام دينے كى استطاعت ركھے تو اسے دارالاسلام كہا جاتا ہے.

لھذا وہاں بسنے والے مسلمان نيكى و بھلائى كے كاموں اس ملك كے حكمرانوں كى اطاعت و فرمانبردارى كريں، اور انہيں نصيحت كريں اور ان كى خير خواہى كريں، اور ملك كے امور چلانے ميں ان كے ممد و معاون ثابت ہوں اور انہيں جو علمى اور عملى قوت دى گئى ہے اس كے ساتھ ملك كى خدمت كريں، اور وہاں بود وباش اختيار كريں، اور وہاں سے اسلامى ملك كے علاوہ كہيں اور منتقل نہ ہوں، تو اس ميں ان كى حالت بہتر اور افضل ہو گى.

يہ نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى ہجرت اور اس كے ايك اسلامى مملكت بن جانے كے بعد مدينہ كى طرح ہے، اور فتح مكہ كے بعد مكہ مكرمہ كى طرح؛ كيونكہ وہ فتح ہوجانےاور اس كے امور مسلمانوں كے ہاتھ آجانےسے دارالاسلام بن گيا، حالانكہ پہلے دارالحرب تھا اور وہاں بسنے والے مسلمانوں پر ہجرت كى قدرت ركھنے پر وہاں سے ہجرت كرنا واجب تھا.

اور ہر وہ ملك جہاں كے حكمران اور ذمہ داران اور كنٹرول ركھنے والے افراد اس ميں حدود اللہ كا نفاذ نہ كريں، اور وہاں كى رعايہ پر اسلامى شريعت كا نفاذ نہ كرتےہوں، اور نہ ہى وہاں بسنے والا مسلمان شعائر اسلام پر عمل كرنے كى طاقت ركھتا ہو؛ تو وہ دار الكفر ہے.

اس كى مثال فتح سے قبل مكہ كى ہے، كہ وہ دار الكفر تھا، اور اسى وہ ممالك جہاں كے بسنے والے اسلام كى طرف منسوب ہوتے ہيں، وہاں كے حكمران اللہ تعالى كے نازل كردہ قوانين نافذ نہيں كرتے، اور نہ ہى مسلمانوں كو دينى شعائر پر عمل كرنے كى قوت حاصل ہے، تو وہاں سے ہجرت كرنا واجب ہے تا كہ وہ اپنے دين كو بچا كر فتنوں سے فرار ہوں، اور ايسے ملك ميں جا كر بس جائيں جہاں اسلامى قوانين لاگوہيں، اور اپنے اوپر شرعى واجبات كى ادائيگى كى طاقت بھى ركھتے ہوں.

اور جو كوئى ہجرت نہ كر سكے اور ہجرت كرنے سے عاجز ہو، چاہے وہ مرد ہو يا عورت يا بچہ وہ معذور ہے، اور دوسرے ملكوں ميں بسنے والے مسلمانوں كو چاہيے كہ وہ اس ملك كو دار الكفر سے دارالاسلام بدلنے كى كوشش كريں اور اسے كفر سے بچائيں.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمانہ ہے:

جو لوگ اپنى جانوں پر ظلم كرنے والے ہيں جب فرشتے ان كى روح قبض كرتے ہيں تو پوچھتے ہيں، تم كس حال ميں تھے؟ يہ جواب ديتے ہيں كہ ہم اپنى جگہ كمزور و ناتواں اور مغلوب تھے، فرشتے كہتے ہيں كيا اللہ تعالى كى زمين كشادہ نہ تھى كہ تم ہجرت كر جاتے؟ يہى لوگ ہيں جن كا ٹھكانہ جہنم ہے اور وہ پہنچنے كى بہت برى جگہ ہے، مگر جو مرد اور عورتيں اور بچے بے بس ہيں جنہيں نہ تو كسى چارہ كار كى طاقت ہے اور نہ كسى راستے كا علم ہے، بہت ممكن ہے كہ اللہ تعالى ان سے درگزر كرے، اور اللہ تعالى درگزر كرنے والا معاف فرمانےوالا ہے النساء ( 97 - 99 ).

اورايك مقام پر ارشاد بارى تعالى ہے:

{بھلا كيا وجہ ہے كہ تم اللہ تعالى كى راہ ميں اور ان ناتواں اور كمزور مردوں، اور عورتوں، اور ننھے ننھے بچوں كے چھٹكارے كے ليے جہاد نہ كرو؟ جو يوں دعائيں مانگ رہے ہيں كہ اے اللہ ہمارے پروردگار ان ظالموں كى بستى سے ہميں نجات دے، اور ہمارے ليے خود اپنے پاس سے حمائتى مقرر فرما، اور ہمارے ليے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا} النساء ( 75 ).

ليكن جو مسلمان اس ملك ميں دينى شعائر پر عمل كرنے اور ان كا اظہار كرنے كى استطاعت ركھتے ہوں، اور حكمران اور ذمہ داران پر حجت قائم كر سكتے ہوں، اور ان كے معاملات كى اصلاح كرنے كى استطاعت ركھيں، اور ان كى سيرت كو راہ راست پر لا سكتے ہوں، تو ان كے ليے ان كے درميان رہنا مشروع اور جائز ہے؛ كيونكہ اميد ہے كہ وہاں رہنے ميں ان كى اصلاح اور انہيں دعوت و تبليغ ہو گى، ليكن اس كے ساتھ اسے ان فتنوں سے محفوظ رہنا ہوگا.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments