Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
32503

كفريہ ممالك ميں كمپنى كے مال سے تنخواہ سے زيادہ مال وصول كرنا

ميں ايك نوجوان ہوں اور ايك يورپى ملك ميں مقيم اور ٹرانسپورٹ كمپنى ميں ملازمت كرتا ہوں، ميرے ساتھ ميرا ايك دوست بھى ملازمت كرتا ہے، گاہكوں كى جانب سے ادا كردہ رقم ميں ہميں تصرف كا مكمل كنٹرول حاصل ہے، ميرا دوست ہميشہ رقم سے كچھ حصہ لے ليتا ہے اور كہتا ہے كہ ہميں ايسا كرنے كا حق حاصل ہے، اور دليل يہ ديتا ہے كہ: كمپنى كا مالك ہميں ہمارا حق نہيں ديتا، جو تنخواہ ہم ليتے ہيں وہ ہمارى ملازمت قبول كرنے كى شروط كے موافق ہے.
ہم ايك اور كام بھى كرتے ہيں: اگر گاہك ہمارا واقف ہو تو پھر ہم رقم حذف كر ديتے ہيں.
ميں آپ سے مدد كا طلبگار ہوں كيونكہ ميں اپنے دوست كو بہت سمجھايا ہے، ليكن وہ مطمئن ہے كہ اس كا فعل جائز ہے ؟

الحمد للہ :

اللہ سبحانہ وتعالى نے امانت كو اس كے صحيح طريقہ پر ادا كرنے كا حكم ديا اور اس كى ادائيگى واجب قرار دي ہے:

فرمان بارى تعالى ہے:

{يقينا اللہ تعالى تمہيں حكم ديتا ہے كہ امانتيں ان كے مالكوں كو لوٹا دو}

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے امت كى خيانت كو نفاق كى علامت قرار ديا ہے، اللہ تعالى اس سے محفوظ ركھے.

ابو ھريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" منافق كى تين علامتيں ہيں: جب بات كرے تو جھوٹ بولے، اور جب وعدہ كرے تو وعدہ خلافى كرے، اور جب اس كے پاس امانت ركھى جائے تو اس ميں خيانت كرے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 33 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 59 ).

خيانت كى حرمت ميں كوئى فرق نہيں كہ مسلمان شخص اپنے كسى مسلمان بھائى كى امانت ميں خيانت كرے يا پھر كسى كافر كى امانت ميں جس نے اس كے پاس مال بطور امانت ركھا ہو، بلكہ اسے اپنى سچائى و صدق اور امانت كے ساتھ مسلمانوں اچھا اور بہترين نمونہ پيش كرنا چاہيے.

كيونكہ بہت سے ممالك تو صرف مسلمان تاجروں كى امانت اور ان كى سچائى اورصدق كى وجہ سے ہى اسلام ميں داخل ہوگئے، اور اس كے برعكس جب وہ خيانت كرے گا يا پھر جھوٹ بولے گا تو يہ لوگوں كے ليے دين اسلام سے نفرت اور دور بھاگنے اور انہيں اللہ تعالى كے راستے سے روكنے كا باعث بنے گا.

امام شافعى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

جب كوئى مسلمان شخص امن و امان كے ساتھ دار الحرب ميں داخل ہو تو ..... اور وہ ان كے كسى مال پر قدرت حاصل كرلے تو اس كے ليے اس مال ميں سے كوئى چيز بھى لينا حلال نہيں، چاہے وہ چيز كم ہو يا زيادہ، كيونكہ جب وہ ان كى جانب سے امن و امان ميں ہے تو پھر وہ بھى اس كى جانب سے اسى طرح ہيں، اور اس ليے بھى كہ ان كى امان ميں ہوتے ہوئے اس كے ليے صرف وہى چيز حلال ہے جو اس كے ليے مسلمانوں اور اہل ذمہ كے مال ميں سے حلال ہے.

ديكھيں: كتاب الام ( 4 / 284 ).

اور پھر اس ليے بھى كہ آپ كمپنى كے ساتھ معين كردہ تنخواہ پر اتفاق كر چكے ہيں تو پھر آپ كے ليے كمپنى كے مالك كے علم كے بغير مقرر كردہ تنخواہ سے زيادہ رقم لينا حلال نہيں.

اور يہ دعوى كرنا كہ وہ آپ لوگوں كو اتنا نہيں ديتے جس كے آپ مستحق ہيں، كوئى عذر شمار نہيں ہوتا، اس ليے كہ جب يہ دروازہ كھول ديا جائے تو پھر ہر ملازم يہ دعوى كرنے لگے اور حقوق اور امانتيں ضائع ہو كر رہ جائيں.

اور - اسى طرح - آپ كے ليے يہ بھى حلال نہيں كہ آپ كمپنى كے كسى بل ميں ڈسكاؤنٹ كريں، اور نہ ہى يہ حق حاصل ہے كہ اسے مكمل طور پر ختم كرديں، كيونكہ يہ مال آپ كا نہيں حتى كہ آپ يہ كام كرتے پھريں، چاہے كوئى بھى اس سے پورے حقوق لينا واجب ہے.

اس ليے آپ دونوں پر واجب ہے كہ اس كام سے ركتے ہوئے اللہ تعالى كے ہاں توبہ و استغفار كريں، اور اس فعل پر نادم ہوں اور آئندہ كے ليے ايسا كام نہ كرنے كا عہد كريں، اور اس كے ساتھ ساتھ كمپنى كے حقوق جو تنخواہ سے زيادہ حاصل كردہ اور اپنى جان پہچان والے افراد كو ريٹ ميں كمى كرنے كى صورت ميں ہيں كمپنى كو ضرور واپس كريں.

مزيد تفصيل كے ليے سوال نمبر ( 14367 ) كا جواب ضرور ديكھيں.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments