Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
3262

اگر دو شخص جماعت كرا رہے ہوں اور تيسرا آئے تو حركت كس طرح ہو گى ؟

جب كوئى شخص دو افراد كے ساتھ جماعت ميں ملنا چاہے تو كيا مقتدى پيچھے آئے يا كہ وہ امام كے ساتھ ہى رہے ؟

الحمد للہ :

اگر دو افراد كے ساتھ تيسرا شخص آ كر ملے تو دونوں مقتدى امام سے پيچھے ہو جائينگے، اس كى دليل صحيح مسلم كى درج ذيل حديث ہے:

جابر رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ:

" رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كھڑے نماز ادا كر رہے تھے تو ميں آ كر ان كے بائيں جانب كھڑا ہو گيا چنانچہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ميرا ہاتھ پكڑ كر مجھے اپنے دائيں كھڑا كر ديا، پھر جبار بن صخر آئے اور وہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے بائيں جانب كھڑے ہو گئے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے ہم دونوں كے ہاتھ پكڑ كر ہميں پيچھے دھكيل كر اپنے پيچھے كھڑا كر ديا "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 3010 ).

اور اہل علم كا كہنا ہے كہ اگر امام كے آكے جگہ ہو اور مقتديوں كے پيچھے جگہ نہ ہو تو پھر امام آگے ہو، اور آگے جگہ نہيں بلكہ پيچھے ہے تو دونوں مقتدى پيچھے ہو جائينگے، ليكن اگر امام كے آگے اور پيچھے دونوں جگہوں ميں وسعت ہو تو مقتدى پيچھے ہونگے، امام آگے نہيں جائے گا، كيونكہ امام كى اتباع كى جا رہى ہے، تو وہ نقل و حركت نہيں كرے گا، اور اس ليے بھى كہ امام كے آگے بطور سترہ ديوار يا ستون وغيرہ ہونا چاہيے.

ديكھيں: المجموع للنووى ( 4 / 292 ).

اگر دو مقتدى اور ايك امام ہو تو مقتدى پيچھے ہو كر صف بنائيں، چاہے وہ مرد ہوں يا بچے، يا ايك مرد اور ايك بچہ... پھر اگر امام كے آگے جگہ ہو اور پيچھے نہ ہو تو امام آگے ہو يا دونوں پيچھے ہٹيں اس ميں افضل كيا ہے اس ميں دو قول ہيں، صحيح وہ ہے جسے شيخ ابو حامد اور اكثر نے بيان كيا ہے كہ مقتدى پيچھے ہٹيں كيونكہ امام تو متبوع ہے اس ليے وہ نقل و حركت نہيں كرے گا.

يہ تو اس وقت ہے جب دوسرا مقتدى قيام ميں ساتھ ملے، ليكن اگر وہ تشھد يا سجدہ ميں آ كر ملے تو وہ نہ تو آگے ہو اور نہ ہى پيچھے حتى كہ دونوں اٹھ كر كھڑے نہ ہو جائيں، اس ميں كوئى اختلاف نہيں كہ آگے پيچھے دوسرا مقتدى آنے كى صورت ميں ہے، جيسا كہ ہم بيان كر چكے ہيں.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments