32719: وعدے اورنذریں پوری کرنا واجب ہے


میں نے ایک تجارتی کام کیا اوریہ وعدہ کیا کہ اس کے نفع میں سے کچھ معین رقم اللہ تعالی کے لیے خرچ کرونگا ، میراسوال یہ ہے کہ :
کیا میں یہ رقم اپنے بھائي یا چچازاد اوراپنے رشتہ داروں کی شادی پرخرچ کرسکتاہوں اس لیے کہ ان کی مالی حالت صحیح نہيں ؟
اورکیا انہيں لازما بتانا ہوگا کہ یہ صدقہ ہے ؟ اورکیا میں کسی قریبی کو اس میں دے سکتاہوں چاہے وہ ایسے لوگ ہی ہوں جو شادی میں فخر کرتے ہوں اوررقم اپنی ضروریات میں صرف کریں ؟

الحمد للہ
آپ پر واجب ہے کہ آپ اپنا وعدہ پورا کریں اوراللہ تعالی کے لیے معین کردہ رقم کواس کے راستے میں صرف کریں ، اوراگر آپ نے اس رقم کوکسی خاص جگہ میں صرف کرنے کی نذر مانی تھی تو پھر آپ اسی مد میں رقم صرف کرسکتے ہیں کسی اورمیں نہیں ، لیکن اگر آپ نے نہ توکسی خاص مد کی نیت کی اور نہ ہی اسے ذکر کیا ہے تو آپ کو خیروبھلائي کے راستے میں جہاں چاہيں خرچ کرنے پر اختیار ہے ۔

فتاوی اللجنۃ الدائمۃ ( مستقل فتوی کمیٹی کے فتوی ) میں ہے کہ :

اصل تویہی ہے کہ جب نذر کسی شرعی معاملہ میں مانی گئي ہو تویہ نذر بھی اسی میں پوری کی جائے گي جس کی تعیین نذر ماننے والے نے کی ہے ، اوراگر کوئي جہت معین نہيں کی گئي تویہ عمومی صدقات وخیرات میں سے ایک صدقہ ہی ہے ، اورصدقات وخیرات کی طرح غرباء ومساکین پر خرچ کیا جائے گا ۔۔۔ اھـ

دیکھیں فتاوی الاسلامیۃ ( 3 / 485 ) ۔

آپ کا اپنے محتاج بھائي اورچچازاد کورقم دینا بھی بھلائي اورخير ہی ہے ، بلکہ اپنے محتاج رشتہ داروں کی مدد کرنا توزيادہ اجروثواب کا باعث اوردوسروں کودینے سے افضل ہے ۔

امام بخاری اورمسلم رحمہمااللہ نے اپنی اپنی صحیح میں انس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ :

مدینہ میں انصار صحابہ میں سے سب سے زيادہ کھجوروں کے مالک ابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ تھے اورانہيں سب سے زيادہ محبوب باغ بیر حاء تھا اوریہ مسجد کے قبلہ والی جانب واقع تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں داخل ہوتے اوروہاں سے ٹھنڈا اورمیٹھا پانی نوش فرماتے تھے اورجب یہ آیت نازل ہوئي :

{ تم اس وقت تک نیکی حاصل ہی نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی سب سے زيادہ محبوب چيز اللہ کے راستے میں خرچ نہ کردو }

توابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکھڑے ہوئے اورکہنے لگے : اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کا فرمان ہے کہ :

{ تم اس وقت تک نیکی حاصل ہی نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی سب سے زيادہ محبوب چيز اللہ کے راستے میں خرچ نہ کردو }

اورمیرا سب سے پسندیدہ اورمحبوب باغ بیر حاء ہے میں اسے اللہ تعالی کے راستے میں صدقہ کرتا ہوں اوراللہ تعالی سے اس کے اجروثواب کی امید رکھتا ہوں ، لھذا اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ اسے اللہ تعالی کے حکم سے جہاں چاہیں صرف کریں تورسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :

شاباش اورآفریں ! یہ مال توبہت نفع والا ہے ، یہ مال توبہت نفع مند ہے ، جوکچھ تو نے کہا میں نے سن لیا ہے ، میرا خیال ہے کہ تم اسے اپنے عزيز واقارب میں صرف کرو توابوطلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کہنے لگے : اے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسا ہی کرتا ہوں ، لھذا ابوطلحہ رضي اللہ تعالی عنہ نے اپنے چچازاد اوررشتہ داروں میں تقسیم کردیا ۔

صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1461 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 998 ) ۔

اورمسئلہ یہ ہے کہ کسی قریبی اوررشتہ دار پر صدقہ کرنا صدقہ اورصلہ رحمی دونوں ہی ہیں ، آپ اس کی تفصیل دیکھنے کے لیے سوال نمبر ( 21810 ) اور ( 20173 ) کے جوابات کا مطالعہ ضرور کریں ۔

اوراس کے یہ بھی ضروری نہيں کہ آپ انہيں یہ بتائيں کہ یہ صدقہ کا مال ہے آپ اس کی تفصیل دیکھنے کے لیے سوال نمبر ( 33777 ) کے جواب کا مطالعہ کریں ۔

لیکن یہاں ایک بات یاد رکھیں کہ یہ مال آپ ایسے شخص کو نہ دیں جواس مال سے اللہ تعالی کی کوئي معصیت کرے یا اس کی معصیت میں مددگار معاون ثابت ہو ، یا ایسے شخص کوبھی نہ دیں توفضول خرچی میں معروف ہو اوربطور فخر مال خرچ کرتا ہو کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ نیکی اوربھلائي کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کرتےرہو لیکن برائي اورشر میں ایک دوسرے کا تعاون نہ کرو } المائدۃ ( 2 ) ۔

اوریہ بھی ممکن ہے کہ آپ انہيں نقد رقم دینے کی بجائے ان کی ضروریات کی اشیاء خرید کرانہيں دے دیں ، اس سے آپ کو یقین ہوجائے گا کہ آپ کا صدقہ صحیح جگہ میں صرف ہوا ہے ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments