32993: كيا لڑكى پتلون ( پينٹ ) ميں نماز ادا كر سكتى ہے ؟


كيا نوجوان لڑكى پتلون پہن كر نماز ادا كر سكتى ہے، اور نماز كى ادائيگى كے ليے شرعى لباس كونسا ہے ؟

الحمد للہ:

نماز ميں ہر وہ لباس شرعى ہے جو چہرہ اور ہاتھوں كے علاوہ باقى سارے جسم كے ليے ساتر اور كھلا ہو، اور جسم كے كسى عضو كى تحديد نہ كرتا ہو.

نماز ميں سارے بدن كو ڈھانپنے والے لباس كى شرط درج ذيل ميں پائى جاتى ہے.

ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا سے جب دريافت كيا گيا كہ عورت كس لباس ميں نماز ادا كرے تو انہوں نے جواب ديا:

" عورت كو نماز اوڑھنى اور اس چادر ميں نماز ادا كرنى چاہيے جس ميں اس كے پاؤں كا اوپر والا حصہ بھى چھپ جائے " سنن ابو داود حديث نمبر ( 639 ).

يہ حديث نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے مرفوعا بھى بيان كى گئى ہے چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى " بلوغ المرام " صفحہ ( 40 ) ميں كہتے ہيں:

آئمہ كرام نے اس كا موقوف ہونا صحيح قرار ديا ہے، اور ابن تيميہ رحمہ اللہ كہتے ہيں: مشہور يہ ہے كہ: يہ روايت ام سلمہ رضى اللہ تعالى عنہا پر موقوف ہے، ليكن يہ مرفوع كے حكم ميں ہے "

ديكھيں: شرح العمدۃ كتاب الصلاۃ صفحہ نمبر ( 365 ).

اور پھر رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اللہ تعالى بالغ عورت كى نماز اوڑھنى كے بغير قبول نہيں فرماتا "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 641 ) سنن ترمذى حديث نمبر ( 377 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر ( 655 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 7747 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

قولہ: حائض " حائض سے نوجوان بالغ عورت مراد ہے.

الخمار: اس اوڑھنى كو كہتے ہيں جس سے عورت اپنا سر ڈھنانپتى ہے.

الدرع: وہ قميص ہے جس سے عورت اپنا بدن اور ٹانگيں چھپاتى ہے، اور جب وہ اوپر سے نيچے تك لمبى ہو تو اسے السابغ كہتے ہيں.

ديكھيں: عون المعبود شرح سنن ابو داود.

چنانچہ لباس چہرہ كے علاوہ باقى سارے بدن كے ليے ساتر ہونا ضرورى ہے، اور علماء كرام كا اس ميں اختلاف ہے كہ آيا نماز ميں عورت كے ليے ہتھيلياں اور قدم چھپانے واجب ہيں يا نہيں ؟

جمہور علماء كرام ہتھيليوں كو چھپانے كے عدم وجوب كے قائل ہيں اور اس ميں امام احمد سے دو راويتيں ہيں: اور شيخ اسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ نے عدم وجوب كو اختيار كيا ہے، اور " الانصاف " ميں كہتے ہيں: صحيح بھى يہى ہے.

ليكن مالكيہ شافعيہ، اور حنابلہ ميں سے جمہور علماء كرام قدموں كے چھپانے ميں وجوب كے قائل ہيں، اور مستقل فتوى كميٹى كا فتوى بھى اسى پر ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 6 / 178 ).

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" نماز ميں چہرے كے علاوہ عورت كا سارا جسم ستر ہے، اور ہتھيليوں ميں علماء كرام كا اختلاف ہے: بعض علماء نے انہيں بھى چھپانا واجب قرار ديا ہے، اور بعض نے كھلا ركھنے كى اجازت دى ہے، ان شاء اللہ اس مسئلہ ميں وسعت ہے، ليكن ننگا ركھنے سے چھپانا افضل ہے، تا كہ اس مسئلہ ميں علماء كرام كے اختلاف سے بچا جائے.

اور جمہور اہل علم كے ہاں نماز ميں قدموں كا چھپانا واجب ہے " انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 10 / 410 ).

اور امام ابو حنيفہ، امام ثورى، مزنى رحمہم اللہ نماز ميں عورت كے قدموں كو ننگا ركھنے كے قائل ہيں، اور شيخ الاسلام ابن تيميہ اور المرداوى نے " الانصاف " ميں اسے ہى اختيار كيا ہے.

اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اس مسئلہ ميں كوئى واضح دليل نہيں، اسى ليے شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

آزاد عورت سارى كى سارى ستر ہے، صرف وہ اعضاء جو اپنے گھر ميں يعنى چہرہ ہتھيلياں اور قدم ننگے ركھتى ہے.

اور ان كا كہنا ہے: رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں عورتيں گھروں ميں قميصيں پہنا كرتى تھيں، اور ہر عورت كے پاس دو كپڑے نہيں تھے اسى ليے جب اسے حيض آتا تو وہ اسے دھو كر اس لباس ميں ہى نماز ادا كرتى تھى، تو اس طرح قدم اور ہتھيلياں نماز ميں ستر نہيں، نظر ميں بھى نہيں، اس بنا پر كہ اس مسئلہ ميں كوئى ايسى دليل نہيں جس پر نفس مطمئن ہو، ميں اس مسئلہ ميں شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ كى تقليد كرتا اور كہتا ہوں: يہى ظاہر ہے، اگرچہ ہم يہ بالجزم نہيں كہتے، كيونكہ چاہے عورت كا لباس اتنا لمبا ہو كہ وہ زمين پر لگ رہا ہو ليكن سجدہ كرتے وقت اس كے پاؤں كا اوپر والا حصہ ننگا ہو جائيگا " انتہى

ديكھيں: الشرح الممتع ( 2 / 161 ).

مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ المغنى ابن قدامہ ( 1 / 349 ) اور المجموع ( 3 / 171 ) اور بدائع الصنائع ( 5 / 121 ) اور الانصاف ( 1 / 452 ) اور مجموع الفتاوى ابن تيميہ ( 22 / 114 ) ضرور ديكھيں.

اور اگر لباس اتنا باريك ہو كہ وہ نيچے سے بدن كو ظاہر كرے، اور اس كے نيچے سے جلد كا رنگ ظاہر ہوتا ہو تو يہ لباس ساتر شمار نہيں ہو گا.

ديكھيں: روضۃ الطالبين للنووى ( 1 / 284 ) اور المغنى ( 2 / 286 ).

اس كى دليل مسلم شريف كى درج ذيل حديث ہے، ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" دو قسميں اہل جہنم ہيں ميں نے انہيں ديكھا نہيں، ايك وہ قوم جس كے پاس گائے كى دموں كى طرح درے ہونگے وہ اس سے لوگوں كو مارتے ہونگے اور لباس پہنے ہوئے ننگى عوتيں، لوگوں كى طرف مائل ہونے والى، اور اپنى طرف مائل كرنے واليں ... "

صحيح مسلم حديث نمبر ( 2128 ).

قولہ: " كاسيات عاريات " لباس پہنے ہوئے ننگى ہونگى.

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: اس كى شرح ميں كہا گيا ہے كہ وہ اتنا باريك لباس پہنے جو اس كے بدن كا رنگ واضح كرے، اور يہى معنى اختيار كردہ ہے. انتہى

ديكھيں: المجموع ( 4 / 3998 ).

اور ابن عبد البر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" قولہ: " كاسيات عاريات " كا معنى يہ ہے كہ: رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كى اس جملہ سے مراد وہ عورتيں ہيں جو اتنا باريك لباس پہنتى ہيں جس سے ان كا بدن ظاہر كرے اور چھپائے نہ، وہ نام كے اعتبار سے تو لباس پہنے ہوئے ہيں، ليكن حقيقت ميں ننگى ہيں " انتہى

ديكھيں: التمھيد ( 13 / 204 ).

عورت كا لباس كھلا اور لمبا چوڑا ہونے كى دليل درج ذيل حديث ہے اسامہ بن زيد رضى اللہ تعالى عنہما بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے مجھے ايك قبطى چادر پہننے كے ليے دى جو انہيں دحيہ كلبى نے بطور ہديہ دى تھى، چنانچہ ميں نے وہ چادر اپنى بيوى كو پہنا دى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تم وہ قبطى چادر كيوں نہيں پہنتے ؟

تو ميں نے عرض كيا: وہ تو ميں نے اپنى بيوى كو دے دى ہے، رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے:

" اسے كہو كہ وہ اس كے نيچے شميض پہنے، مجھے خدشہ ہے كہ وہ اس كے جسم كى ہڈيوں كى ساخت اور حجم واضح كرے گى "

اسے امام بيھقى نے سنن الكبرى ( 2 / 234 ) ميں روايت كيا اور علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے " جلباب المراۃ المسلۃ صفحہ نمبر ( 131 ) ميں حسن قرار ديا ہے.

قطبى چادر سفيد كاٹن كى باريك چادر ہے جو مصر ميں بنى جاتى تھى.

ديكھيں: لسان العرب ( 7 / 373 ).

اور غلالۃ: وہ كپڑے ہيں جو لباس كے نيچے پہنا جائے.

اس بنا پر عورت كے ليے تنگ اور چست فٹنگ والا لباس مثلا پينٹ اور پتلون وغيرہ ايسا لباس پہننا جائز نہيں جو اس كے ستر كو واضح اور محدود كر كے ظاہر كرے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

" اگرچہ پتلوں اور پينٹ كھلى اور وسيع بھى ہو، كيونكہ وہ ايك ٹانگ كو دوسرى سے ممتاز كرتى ہے، جس ميں كچھ نہ كچھ بے پردگى پائى جاتى ہے، پھر اس سے مردوں كے ساتھ مشابہت كا بھى خدشہ ہے، كيونكہ پتلون يا پينٹ وغيرہ مردوں كا لباس ہے " انتہى.

ديكھيں: مجموع فتاوى و رسائل ابن عثيمين ( 12 / 286 ).

رہا مسئلہ نماز كے صحيح يا نہ صحيح ہونے كا تو اگر وہ مخالفت كرتے ہوئے اس تنگ اور فٹنگ والے لباس ميں نماز ادا كرتى ہے تو اس كى نماز صحيح ہو گى، كيونكہ اس پر ستر چھپانا واجب تھا، اور وہ ہو گيا ہے.

مزيد تفصيل ديكھنے كے ليے آپ سوال نمبر ( 46529 ) كے جواب كا مطالعہ كريں.

اور شيخ صالح الفوزان كہتے ہيں:

" ايسا تنگ لباس جو عورت كے جسم اور اعضاء اور اس كے پچھلے حصہ اور اعضاء كے جوڑ واضح كرتا ہو اس كا پہننا جائز نہيں، تنگ لباس نہ تو مردوں كے ليے اور نہ ہى عورتوں كے ليے پہننا جائز ہے، ليكن عورتوں كے ليے ليے تو اور بھى زيادہ شديد منع ہے، كيونكہ ان كے ساتھ فتنہ زيادہ ہوتا ہے.

رہا مسئلہ نماز كا؛ تو جب انسان نماز ادا كرے اور اس كا ستر اس لباس كے ساتھ ڈھانپا ہوا ہو؛ تو اس كى نماز صحيح ہے؛ كيونكہ ستر ڈھانپا ہوا ہے، ليكن تنگ لباس ميں نماز ادا كرنے والا گنہگار ہو گا؛ اس ليے كہ اس نے لباس تنگ ہونے كى بنا پر نماز ميں مشروع اشياء ميں كچھ نہ كچھ خلل پيدا ہوا ہے اور خاص كر عورت پر تو كھلے اور وسيع لباس ميں اپنے آپ كو چھپانا واجب ہے، جو اسے ڈھانپ كر ركھے، اور اس كے كسى عضو كو واضح نہ كرتا ہو، اور نہ ہى وہ قابل التفات ہو يعنى وہ توجہ كا باعث بھى نہ بنے، اور نہ ہى لباس اتنا تنگ اور باريك ہو كہ جسم كا رنگ ظاہر كرے، بلكہ لباس عورت كے سارے جسم كو ڈھانپ كر ركھے " انتہى.

ديكھيں: المنتقى من فتاوى الشيخ صالح الفوزان ( 3 / 454 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments