3346: تعاونى كميٹياں


تجارتى تعاونى كميٹى كے نظام ميں يہ شرط ہے كہ اس كےمنافع سے دس فيصد خيراتى كاموں ميں صرف كيا جائے گا، تو كيا اس منافع پر زكاۃ واجب ہوتى ہے ؟

الحمد للہ :

اس تعاونى كميٹى كے اموال ميں زكاۃ واجب ہونے كا حكم تجارتى كمپنيوں جيسا ہى ہے، اور آپ نے جو بيان كيا ہے كہ اس كے نظام ميں شامل ہے كہ اس كے منافع ميں سے صافى دس فيصد خيراتى كاموں ميں صرف ہوتا ہے، اس سے اس پر واجب زكاۃ ساقط نہيں ہو گى، كيونكہ وہ دس فيصد جس كى طرف اشارہ كيا گيا ہے وہ نفلى صدقہ كى جگہ ہے، اور نفلى صدقہ كرنے سے فرض كردہ زكاۃ ساقط نہيں ہو جاتى، كيونكہ زكاۃ ايك ايسى واجب عبادت ہے جو ادائيگى ميں نيت كى محتاج ہے، اور يہ ادا كردہ دس فيصد بطور زكاۃ ادا نہيں كيا گيا، بلكہ نفلى صدقہ كے طور پر ادا ہوا ہے.

لہذا اس كميٹى كے اموال پر زكاۃ نكالنا واجب ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 287 ).
Create Comments