Fri 18 Jm2 1435 - 18 April 2014
33594

شرم كے مارے حالت حيض ميں ہى نماز ادا كر لى

ايك لڑكى نے شرم كے مارے حالت حيض ميں ہى نماز ادا كر لى تو اس كا حكم كيا ہے اور اس كا كيا كفارہ ہے ؟

الحمد للہ:

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں كہ:

امت كا اجماع ہے كہ حائضہ عورت كے ليے نفلى اور فرضى نماز ادا كرنى حرام ہے.

ديكھيں: المجموع للنووى ( 2 / 351 ).

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے اس كے متعلق دريافت كيا گيا تو ان كا جواب تھا:

" حائضہ يا نفاس والى عورت كے ليے نماز ادا كرنا حلال نہيں، كيونكہ عورت كے متعلق رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" كيا ايسا نہيں كہ جب اسے حيض آتا ہے تو وہ نہ نماز ادا كرتى ہے اور نہ ہى روزہ ركھتى ہے ؟ "

اور مسلمانوں كا اجماع ہے كہ حائضہ عورت كے ليے نہ تو روزہ ركھنا حلال ہے اور نہ ہى نماز ادا كرنى، جس عورت نے بھى يہ كام كيا اسے اللہ تعالى كے ہاں توبہ و استغفار كرنى چاہيے "

ديكھيں: فتاوى المراۃ المسلمۃ ( 1 / 285 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments