33699: ايك عورت نے دعا كى تو اس كى دعا قبول نہ ہوئى تو وہ كہنے لگى: اللہ تعالى كا كوئى وجود ہى نہيں!


ميں نے چند برس قبل اللہ تعالى سے ايك دعا كى كہ ميرا فلاں كام يا مقصد پورا ہو جائے، ليكن ميرى يہ دعا پورى نہ ہوئى، تو ميں نے يہ كہہ ديا كہ اللہ تعالى موجود نہيں ہے.
اب ميں اپنے اس قول پر نادم ہوں كہ ميں نے علم ہونے كے باوجود كہ يہ شرك شمار ہوتا ہے يہ بات كہہ دى، تو كيا ميرے ليے دوبارہ كلمہ پڑھنا اور توبہ كرنا اور نئے سرے سے مسلمان ہونا ممكن ہے؟
كيا يہ شرك شمار ہوتا ہے، كيونكہ ميں نے يہ بات شديد غصہ كى حالت ميں كى تھى، تو كيا اس كا اعتبار كيا جائے گا ؟

الحمد للہ :

اول:

سوال كرنے والى نے جو كچھ كہا ہے وہ بعينہ كفر ہے، اسے چاہيے تھا كہ غصہ كے وقت اپنے آپ پر كنٹرول اور قول و فعل كو رد كر ديتى، ديكھيں غصہ كى حالت ميں اس قول نے اسے كفر ميں دھكيل ديا.

اس ليے ہم تو يہى سمجھتے ہيں كہ وہ اسلام ميں داخل ہونے كى نيت سے كلمہ پڑھ لے، يہ اس وقت ہے جب اس نے يہ قول كہا تھا تو وہ مكمل طور پر اس غلط كلمہ كو سمجھتى تھى، غصہ كوئى عذر نہيں ليكن اگر غصہ كى حالت ميں اسے كوئى عقل نہ رہے اور اسے يہ پتہ نہ چلے كہ وہ كيا كہہ رہى ہے تو پھر يہ غصہ عذر بنے گا.

اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بيان فرمايا ہے كہ: بعض اوقات مسلمان شخص كوئى كلمہ كہتا ہے جو اسے جہنم ميں دھكيل ديتا ہے، اور اللہ تعالى كے غضب كا باعث بن جاتا ہے.

ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" بعض اوقات بندہ اللہ تعالى كى رضا اور خوشنودى كا كلمہ بولتا ہے جسے كوئى دھيان نہيں ديتا، اور اللہ تعالى اس كلمہ كے سبب اس كے درجات بلند كر ديتا ہے، اور بعض اوقات بندہ اللہ تعالى كى ناراضگى ميں ايسا كلمہ كہہ جاتا ہے جس كى طرف كوئى دھيان نہيں ديتا تو اس كے باعث وہ جہنم ميں گر جاتا ہے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6113 ).

اور مسلم شريف كے لفظ يہ ہيں:

" بعض اوقات بندہ ايسا كلمہ بولتا ہے جو كچھ اس ميں وہ بيان نہيں ہوتا، تو اس كے باعث وہ جہنم ميں مشرق و مغرب كى دورى جتنا گر جاتا ہے"

لھذا جب آپ كلہ پڑھ كر نئے سرے سے مسلمان ہونگى اور اپنے قول پر ندامت كا اظہار كرينگى تو اميد كى جاتى كہ آپ كى نيكياں اور اعمال صالحہ صالحہ ضائع نہيں ہونگے.

حكيم بن حزام رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے عرض كيا:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم مجھے ان اشياء كے متعلق بتائيں جو ميں جاہليت ميں صدقہ يا غلام آزاد كركے، اور صلہ رحمى كے كے عبادت كيا كرتا تھا كيا مجھے ان كا اجروثواب ملےگا؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" تو نے ايسى حالت ميں اسلام قبول كيا كہ پہلے بہت كچھ خير بھلائى كى "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1369 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 123 ).

ميرى مسلمان بہن آپ اور سب مسلمان بھائيو آپ كو بھى چاہيے كہ اس طرح كے بھاؤ تاؤ سے دينى معاملات اور اعتقاد كو دور ہى ركھيں، كيونكہ دين اور عقيدہ كى سلامتى انسان كے ليے راس المال ہے جس سے دنيا و آخرت كى سعادت اور اللہ سبحانہ وتعالى كى رضامندى حاصل ہوتى ہے.

دوم:

اور جس كسى نے بھى اپنے رب تبارك وتعالى سے دعا كى وہ ہر حال ميں قبول ہوتى ہے، قبوليت صرف يہى نہيں كہ اس نے جو كچھ مانگا تھا وہ اسے مل جائے، بلكہ قبوليت اس كے علاوہ دو اور طريقوں سے بھى ہوتى ہے اور وہ يہ ہيں:

دعا كرنے والے سے حسب دعا شر اور برائى دور ہو جاتى ہے.

اور دعا كا اجروثواب اس كے ليے جمع كر ليا جاتا ہے، جو اسے روز قيامت ملے گا.

اور پھر اللہ تعالى كے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنى زبان مبارك سے مكمل شروط كے ساتھ دعا كرنے والے شخص كے ليے ان تينوں ميں سے ايك كا وعدہ فرمايا ہے.

ابو سعيد خدرى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو كوئى مسلمان شخص اللہ تعالى سے كوئى ايسى دعا كرتا ہے جس ميں نہ تو گناہ اور نہ ہى قطع رحمى ہو تو اللہ تعالى اسے تين چيزوں ميں سے ايك ضرور عطا كرتا ہے: يا تو اس كى دعا جلد قبول كر لى جاتى ہے، اور يا پھر اس كے ليے اتنى خير وبھلائى جمع كر دى جاتى ہے، يا اس سے اتنا شر اور برائى دور كر دى جاتى

صحابہ كرام كہنے لگے: اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم پھر تو ہم بہت زيادہ دعا كيا كرينگے؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: اللہ تعالى اس سے بھى زيادہ ( عطا كرے گا) "

مسند احمد حديث نمبر ( 10709 ) امام منذرى رحمہ اللہ تعالى الترغيب و الترھيب ( 2 / 479 ) ميں اس كى سند كو جيد قرار ديا ہے، اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالى نے فتح البارى ( 11 / 115 ) ميں اس كى سند كو صحيح قرار ديا ہے.

اور يہ سب اللہ تعالى كے مندرجہ ذيل فرمان كا معنى ہے:

﴿ اور تمہارے رب كا فرمان ہے تم مجھ سے دعا كرو اور مجھے پكارو ميں تمہارى دعا قبول كرونگا، بلا شبہ جو لوگ ميرى عبادت سے تكبر كرتے ہيں وہ ذليل و رسوا ہو كر جہنم ميں داخل ہونگے ﴾غافر ( 60 ).

اور ايك دوسرى آيت ميں فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ اور جب ميرے بندے آپ سے ميرے متعلق دريافت كريں تو انہيں كہہ ديجئے يقينا ميں بہت قريب ہوں دعا كرنے والى كى دعا قبول كرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا كرتا ہے، انہيں چاہيے كہ وہ بھىميرى بات تسليم كريں اور مجھ پر ايمان لائيں تا كہ وہ ہدايت يافتہ ہو جائيں ﴾البقرۃ ( 186 ).

اور ہو سكتا ہے دعا كرنے والے كے ليے مطالبہ كے عدم حصول ميں ہى اس كے خير وبھلائى ہو، جبكہ اس نے جو كچھ دعا ميں مانگا ہے وہ ملنا اس كے ليے شر يا فتنہ ہو، ليكن وہ اس سے جاہل ہے اور اسے نہيں جانتا، تو اللہ تعالى نے اس سے اسے دور كر ديا اور اسے دنيا ميں شر ميں دور كر كے اس سے بہتر اچھى چيز عطا كردى، يا پھر اس دعا كا ثواب آخرت كے ليے جمع كرديا.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كا كہنا ہے:

وہ دعا جس ميں كوئى زيادتى نہ ہو اس سے مطلوبہ چيز يا اس كى مثل ضرور حاصل ہوتى ہے، اور يہ قبوليت كى انتہاء ہے، كيونكہ بعض اوقات بعينہ مطلوبہ چيز دعا كرنے والے يا كسى دوسرے شخص كے ليے نفع مند يا نقصان دہ ہوتى ہے، اور دعا كرنے والا اس سے جاہل ہوتا ہے، اور وہ اس ميں پائى جانے والى خرابى سے بے علم ہوتا ہے.

اور اللہ رب العالمين دعا قبول كرنے والا اور قريب ہے، اور وہ اپنے بندوں پر والدہ كا اپنے بچے پر رحم كرنے سے بھى زيادہ رحم كرتا ہے، اور اللہ سبحانہ وتعالى كريم و رحيم ہے، جب اس سے كوئى بعينہ چيز طلب كى جاتى ہے اور وہ جانتا ہے كہ بندے كو يہ چيز ديا جانا صحيح نہيں تو اللہ تعالى اسے اس كے بدلے ميں اس جيسى كوئى اور چيز عطا فرماتا ہے، جس طرح ايك والد اپنے بچے كے ساتھ كرتا ہے، جب بچہ ايسى چيز طلب كرے جو اس كے ليے نہ ہو تو والد اسے اپنے مال سے اس جيسى كوئى چيز ديتا ہے، اور اللہ تعالى كے ليے اچھى اچھى مثاليں ہيں.

ديكھيں: مجموع الفتاوى لابن تيمہ ( 14 / 368 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments