Thu 24 Jm2 1435 - 24 April 2014
3374

آخری زمانے میں اہل خیر اوراعمال صحابہ میں تفاضل

میں نےصحیح الجامع میں ایک حديث پڑھی ہے جس میں نبی صلی اللہ نے صحابہ کرام کو یہ بتایا کہ :
جب دین ضعف اختیار کرجاۓ گاتومسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کو عمل کرنے پر پچاس صحابہ جتنا اجر ملے گا ۔
تومیری حیرت کا سبب وہ حدیث ہے کہ جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
خیرالقرون میرا زمانہ اورپھراس کے بعد والوں کا اورپھر اس کے بعد والوں کا ، اورایک حدیث میں یہ بھی فرمایا ہے کہ تم میں سے اگر کوئ احد پہاڑجتنا سونا بھی اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کردے تووہ صحابہ کے ایک یاآدھے مد ( مٹھی ) کے اجرتک بھی نہیں پہنچ سکتا ؟

الحمد للہ
مسئلہ سمجھنے کے لیے یہ علم ہونا ضروری ہے کہ اجر کی دوقسمیں ہیں، عمل کا اجر اور صحبت کا اجر ۔

تویہ ہوسکتا ہے کہ بعد میں آنے والے ایسا عمل کریں جس کا اجر اس جیسے کام پرصحابہ کے عمل سے انہیں اجر زیادہ ملے اس کا سبب فتنہ وآزمائش اورقلت و ضعف دین ہے ، لیکن اس کے باوجود وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام کے اجر اوران کی ملاقات تک نہیں پہنچ سکتے ۔

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی بیان کرتے ہیں :

یہ حدیث ( ان میں سے عمل کرنے والے کو تم میں سے پچاس کا اجر دیا جاۓگا ) اس پر دلالت نہیں کرتی کہ وہ لوگ صحابہ کرام سے افضل ہیں اس لیے کہ صرف اجرمیں زيادتی ہونا ہی افضلیت کا ثبوت نہیں ۔

اوریہ بھی کہ : اجرکا تفاضل تو صرف اس جیسے عمل میں ہے جو اس کے مماثل ہوگا لیکن وہ اجر جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشاھدہ اوران کی صحبت سے حاصل کیا ہے اس کے برابر توکوئ بھی نہیں ہو سکتا ۔

تو اس طرح سے اوپربیان کی گئ حدیث کی تاویل کی جاسکتی ہے ، دیکھیں فتح الباری ( 7 / 7 ) ۔

اورشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

اورہوسکتا ہے بعد میں آنےوالوں کےلیے ایسی نیکیاں ہوں جو ان صحابہ کرام میں سے پچاس صحابہ کے اجر جتنا ہوگا ، اس لیے کہ صحابہ کرام تواس پر اپنے مدد گار اورمعاون پا لیتے تھے ، اوروہ بعد میں آنےوالے لوگ اس نیکی کے کام پر اپنا کوئ معاون ومدد گار نہیں پائيں گے ۔

لیکن ان کے اس اجر کے زيادہ ہونے کی بنا پر یہ لازم نہيں آتاکہ وہ صحابہ کرام سے افضل ہیں ، اورپھر ان کی یہ فضیلت صحابہ کرام کی فضيلت کی طرح نہیں جس ایمان و جھاد اورزمین میں بسنے والے سب لوگوں سے اللہ تعالی اوراس کے رسول کی محبت کے لیے دشمنی میں وہ سبقت لے گۓ ہیں ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم ان پرجس چيزکوواجب کریں جس کی خـبر دیں اس کی دعوت پھیلنے اورکلمہ کے ظہوراوراس دین کے معاون ومددگار کی کثرت اوردلائل نبوت پھیلنے سے قبل ہی وہ اس پرعمل کرکے ان کی اطاعت کرنے میں بھی سبقت لے گۓ ۔

بلکہ مومنوں کی قلت اورکفارکی کثرت کے باوجود اس پرایمان و عمل میں سبقت لے گۓ ، اور ایسے حالات میں اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنے کےليۓ اپنے مال ودولت کواللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرکے سبقت لے گۓ جس کوکوئ بھی حاصل نہیں کرسکتا ۔

جیساکہ صحیحین میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کافرمان موجود ہے :

( میرے صحابہ پرسب وشتم نہ کرو اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے اگر کوئ احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرڈالے توپھر بھی وہ ان کے ایک یا آدھے مد ( مٹھی ) تک نہیں پہنچ سکتا ) مجموع الفتاوی ( 13 / 650-66 ) ۔

اورایک جگہ پرکچھ اس طرح کہتے ہیں :

اوراس کے باوجود متاخرین کے لیے کوئ زيادہ کرامت نہیں بلکہ سلف کے لیے ان سے زيادہ اوراکمل ہے ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول :

( ان کے لیے تم میں سے پچاس کا اجر ہوگا کیونکہ تم بھلائ اورخیرپر معاون ومددگار پاتے ہو ، اوروہ خیروبھلائ پرکوئ معاون و مدد گارنہيں پائيں گے ) یہ توصحیح ہے کہ متاخریں میں سے جب کوئ متقدمین کی طرح کا عمل کرے تواسے پچاس متقدمین کا اجر حاصل ہوگا ۔

لیکن اس سے یہ تصورنہیں کیا جاسکتا کہ بعض متاخرین کسی متقدمین کے اکابر جیسے عمل کرسکتے ہیں مثلا ابوبکر او رعمر رضي اللہ تعالی عنہما اس لیے کہ اب محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کوئ نبی مبعوث نہیں ہوگا کہ اس کے ساتھ اس طرح کے اعمال کیے جائيں جس طرح کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے عمل کیے ۔

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان :

( میری امت بارش کی مانند ہے اس کا علم نہیں کہ اس کی ابتدا بہتر ہے یا کہ اخیر )

( باوجود اس کے اس حدیث میں لین ہے )

اس کا معنی یہ ہے کہ متاخرین میں ایسے بھی ہوں گے جومتقدمین کے مشابہ اوران کے قریب ہوں گے حتی کہ ان کی قوت تشابہ اورمقارنہ سے ان کودیکھنے والے کو یہ پتہ نہیں چل سکے گا کہ ان میں سے بہتر کون ہے ، اگرچہ نفس الامر دونوں ہی بہتر ہیں ۔

تواس میں متاخرین کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ سابقین کے قریب ہوں گے جس طرح کہ حدیث میں آيا ہے :

( میری امت کا بہتر حصہ اس کا اول اورآخر ہے اوراس کے درمیان الٹ یا ٹیڑھا ہے ، میری خواہش ہے کہ میں اپنے ان بھائیوں کو دیکھوں ، صحابہ کہنے لگے کیا ہم آپ کے بھائ نہيں ؟ ، تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میرے صحابی ہو ) ۔

یہ صحابہ کی فضيلت ہے اس لیے کہ ان کو صحبت کی خصوصیت حاصل ہے جو کہ اخوۃ سے اکمل ہے ۔ دیکھیں مجموع الفتاوی ( 11 / 370 ) ۔

اورجس پرتنبیہ کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ سوال میں جوحدیث کے الفاظ ذکر کيے گۓ ہيں ( خیر القرون قرنی ) ان الفاظ کی کوئ اصل نہیں ملتی اگرچہ کتب اہل سنت میں اس کا استعمال کثرت سے ہے ، پھریہ معنی کے اعتبارسےبھی صحیح نہیں ، اگر حدیث کے لفظ یہی ہوں توپھر اس کے بعد یہ کہنا چاہیے تھا ( ثم الذین یلیہ ) لیکن حدیث کے لفظ ( ثم الذین یلونھم ) ہیں ، اورصحیح حديث کے الفاظ اس طرح ہیں ( خیرالناس قرنی " و " خیر امتی قرنی ) ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments