34359: حج کی فضيلت


کیا حج مبرورسے کبیرہ گناہ بھی معاف ہوجاتے ہيں ؟

الحمد للہ:

صحیحین میں ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ سے ثابت ہے وہ بیان کرتے ہيں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا :

( جس نے بھی حج کیا اوراس میں فسق وفجور نہ کیا تووہ اس طرح واپس لوٹتا ہے جس طرح کہ اسے اس کی ماں نے آج ہی جنم دیا ہے ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1521 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1350 ) ۔

اورایک حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کچھ اس طرح ہے :

( عمرہ سے عمرہ تک ان دونوں کے مابین ( گناہوں کا ) کفارہ ہے ، اورحج مبرور یعنی خالص حج کا بدلہ جنت کے علاوہ کچھ نہيں ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1773 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1349 ) ۔

لھذا حج اوراس اس کےعلاوہ دسرے اعمال صالحہ برائيوں اورگناہوں کے کفارہ کا سبب ہیں ، لیکن شرط یہ ہے کہ جب انہيں شرعی طریقہ پرکیا جائے تویہ کفارہ بنتے ہیں ، اورجمہور اہل علم کا کہنا ہے کہ اعمال صالحہ صرف صغیرہ گناہوں کا کفارہ بنتے ہیں ، لیکن گناہ کبیرہ کے لیے توبہ واستغفار ضروری ہے اوراس پرانہوں نےمسلم شریف کی مندرجہ ذيل حدیث سے استدلال کیا ہے:

ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( پانچوں نمازیں ، اورجمعہ جمعہ تک ، اوررمضان رمضان تک جب کبیرہ گناہوں سے اجتناب کیا جائے توان کے مابین گناہوں کا کفارہ ہے ) صحیح مسلم ( 1 / 209 ) ۔

امام ابن المنذر اوراہل علم کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ : مذکورہ دونوں احادیث کے ظاہر کی بنا پرحج مبرور سب گناہوں کا کفارہ بنتا ہے ۔

واللہ تعالی اعلم .

دیکھیں : فتاوی اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلمیۃ والافتاء ( 11 / 13 )
Create Comments