Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
34517

حرام مال کے ساتھ حج کرنا

میری بیوی ایسی جگہ پرسیلزمین تھی جہاں پرایسے لیڈيزلباس فروخت ہوتے جوشرعا حرام ہیں ، لیکن الحمدللہ اب اس نے یہ ملازمت ترک کردی ہے اورمدت ملازمت کے کچھ مالی حقوق باقی رہتے ہیں جواسے حاصل ہونگے ، بیوی کی رضامندی سے ہم اس پرمتفق ہوئے ہیں کہ یہ رقم میں اپنے والدین کے حج کے لیے صرف کرونگا والد صاحب توحج کرچکے ہیں لیکن والدہ نے ابھی تک حج نہيں کیا اوراب وہ دونوں ہی عمررسیدہ ہوچکے ہیں توکیا ایسا کرنا جائز ہے یا یہ اولی اورافضل ہےکہ اس سے میں اوربیوی حج کریں ؟
آپ کوعلم ہونا چاہیے کہ ان شاء اللہ ہم آئندہ برس حج کرنے کا ارادہ رکھتےہیں ، اوریہ بھی علم میں ہو کہ اس رقم کے علاوہ ہمارے پاس اورکوئي جمع پونجی نہيں توکیا ہمیں ان دونوں حالتوں میں ہی اصلاحج کرنے کی فرصت سے فائدہ اٹھانا چاہیے ، گزارش ہےکہ ہمیں معلومات فراہم کریں ؟

الحمد للہ
اول :

حج کرنےوالے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا مال حلال کمائي سے کمایا ہوا پاک صاف ہو کیونکہ حلال ہی اطاعت وفرنبرداری پرتعاون اوربرائي ونافرمانی سے دور بھگاتا ہے ۔

جوبھی حرام کمائي کے مال سے حج کرے خدشہ ہے کہ اللہ تعالی اس کا حج ہی قبول نہ فرمائے کیونکہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( یقینااللہ تعالی پاک ہے اورپاکیزہ چيزہی قبول کرتا ہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1015 ) ۔

ابن عبدوس رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

آپ یہ جان لیں کہ پاکیزہ کھانا دین کا ستون اوراسے قائم رکھنے کا باعث ہے ، لھذا جس کی بھی کمائي پاکيزہ ہوئي اس کا عمل بھی پاک صاف ہوگا ، اورجس نےاپنی کمائي کوصحیح پاک صاف نہ کیا خدشہ ہے کہ اس کی نماز روزہ اوراس کا حج اورجھاد باقی سارے اعمال بھی قبول نہ ہوں ۔

کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :

{ بلکہ اللہ تعالی تومتقی اورپرہیزگاروں سے ( اعمال ) قبول فرماتا ہے } ۔

اورعمررضي اللہ تعالی عنہ نے نمازیوں کی جانب نظردوڑائي اورکہنے لگے : مجھے تم میں سے کسی ایک کا سراوپرنیچے کرنا دھوکہ میں نہ ڈال دے ، دین تواللہ تعالی کے دین میں تقوی وورع اختیارکرنے اوراللہ تعالی کی حرام کردہ اشیاء سے اجتناب اوراللہ تعالی کے حلال وحرام کردہ پرعمل کا نام ہے ۔

اورابن عمررضي اللہ تعالی عنہما کہتے ہیں :

حجاج کرام میں سے سب سے افضل اوربہتر وہ ہے جس کی نیت سب سے زيادہ خالص ہو اورجس کا مال اورنفقہ سب سے زیادہ پاکیزہ اورصاف ہو ، اورجس کا یقین سب سے زيادہ بہت اوراچھا ہو ۔ اھـ

دیکھیں : المدخل لابن الحاجب المالکی ( 4 / 210 ) ۔

اوربعض آئمہ کرام سے روایت کیا جاتا ہے کہ :

جب آپ اصل مال حرام سے حج کریں توآپ نے حج نہيں کیا بلکہ گدھے نے حج کیا ہے ، اللہ تعالی توپاکیزہ چیز ہی قبول کرتا ہے یہ نہیں کہ جوبھی بیت اللہ کا حج کرے وہ قبول ہوتا ہے ۔

اس قول میں العیر سے مراد وہ جانور مراد ہے جس پرحاجی سوار ہوکرحج کرتا ہے یعنی گدھا ۔

اورمختصرخلیل کی شرح مواھب الجلیل میں ہے کہ :

جس نے بھی حرام مال کے ساتھ حج کیا اس کا حج قبول نہيں ، جیسا کہ کئي ایک علماء نے صراحت سے بیان کیا ہے ، اوریہ اس لیے کہ اس میں قبول اعمال کی شروط میں سے ایک شرط مفقود ہے ، کیونکہ اللہ تعالی کا توفرمان ہے :

{ بلکہ اللہ تعالی تو متقی وپرہیزگاروں سے قبول فرماتا ہے } ۔۔۔ دیکھیں : مواھب الجلیل شرح مختصر خلیل ( 2 / 530 ) ۔

اورعلماء کرام کی ایک جماعت نے کا کہنا ہے کہ ان سے قبول نہيں ہوتا ، ان میں قرافی ، امام قرطبی ، امام غزالی ، امام نووی شامل ہیں ، اورغزالی نے ابن عباس رضي اللہ تعالی سے روایت کیا ہے کہ اس کا حج ادا ہوجائيگا ۔

اور شیخ ابوعبداللہ محمد رشیدالبغدادی نے مناسک کے بارہ میں اپنے قصیدہ ذھبیۃ میں ذکر کیا ہے کہ :

اوراس مال سے حج کروجس کاتمہیں علم ہوکہ وہ حلال کا ہے ، اوراورحرام مال سے بچواورنہ ہی اس سے حج کرو۔

جس نے بھی حرام مال سے حج کیا اللہ کی قسم اس کا حج ادا نہيں ہوا ۔

جب وہ تلبیہ کہتے ہوئے لبیک اورحاضرہوں کہتا ہے تواللہ تعالی کی طرف جواب ملتا ہے نہ توتیرا لبیک اورنہ ہی حج ہم نےاسے رد کردیا ۔اھـ

کچھ کمی وبیشی کے ساتھ ۔

دوم :

حرام مال سے نفع حاصل کرنا جائز نہيں ، بلکہ اس سے خلاصی حاصل کرنی چاہیے اوراس سے توبہ یہ ہےکہ اسے خیروبھلائي کے کاموں میں صرف کردیا جائے ، اورآپ کا اس مال کواپنے والدین پرخرچ کرنا اپنے لیے نفع حاصل کرنا ہے اس لیے کہ یہ واجب کردہ نفقہ وخرچہ کے مقابلہ میں ہے اورایسا کرنا جائز نہيں ۔

سوم :

جب آپ کے پاس حلال کمائي کامال نہيں ہے توپھرآپ اورآپ کی بیوی اس حرام مال سے حج نہ کریں بلکہ آپ انتظارکریں کہ حلال کمائي جمع ہوسکے اورجب آپ کواللہ تعالی رزق حلال اورپاکيزہ مال سے نوازے توپھر حج کرنے میں جلدی کریں ۔

ہم اللہ تعالی سے دعا گوہيں کہ وہ ہمارے اورآپ کے اعمال قبول فرمائے اورسچی توبہ کرنے میں ہماری مدد وتعاون فرمائے ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments