Sat 19 Jm2 1435 - 19 April 2014
34571

برے اخلاق کی مالک بیوی کوطلاق

میرے سالے کی بیوی اپنی ساس کے ساتھ برے اخلاق اوربے ادبی سے پیش آتی اوراس کی ہمیشہ بے عزتی کرتی ہے ، ساس میری بیوی کوٹیلی فون کرکے بہو سے تنگ آکر روتی ہے میری ساس کی ایک ہی بیٹی اورایک بیٹا ہے ، کئی بار شکوی شکایت کے بعد انہوں نے بہو کے گھروالوں سے بات کرکے ان کی بیٹی معاملات کی شکایت بھی کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ۔
اورنہ ہی معاملہ سدھرتا نظر آتا ہے اس لیے انہوں نے طلاق کا سوچا اوراسے طلاق دے دی توکیا ایسا کرنا صحیح تھا ؟

الحمدللہ

اصل میں طلاق مکروہ ہے جس کی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے :

{ جولوگ اپنی بیویوں سے ایلاء کرتے ہیں وہ چار مہینے انتظار کریں اگرتووہ باز آجائيں اورواپس آجائيں تو اللہ تعالی بخشنے والا اوررحم کرنے والا ہے ، اوراگروہ طلاق دینے کا عزم کرلیں تو اللہ تعالی سننے اورجاننے والا ہے } ۔

اللہ تعالی نے لوٹنے کےبارہ میں فرمایا کہ { بخشنے والا اوررحم کرنے والا ہے } ، اورطلاق میں فرمایا : { سننے والا اورجاننے والا ہے } تواس میں کچھ تھدید اور ڈراویا ہے جو اس پر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالی کے ہاں طلاق مکروہ اورناپسندیدہ ہے ۔

لیکن بعض اوقات حالات ایسے پیدا ہوجاتے ہیں کہ طلاق کے بغیر کوئي چارہ ہی نہيں ہوتا ، بلکہ بعض اوقات تومعاملہ طلاق کے وجوب تک جا پہنچتا ہے ، توجوحالات سائل نے ذکر کیے ہیں اس میں ہوسکتا ہے کہ مناسب حل طلاق ہی ہو ۔

اس لیے کہ خاوند کے بیوی پرحقوق میں شامل ہے کہ وہ اس کے خاندان والوں کی عزت و توقیر اوراحترام کرے ، اورپھر خاص کر ساس جو کہ خاوند کی والدہ بھی ہے کیونکہ آدمی پر والدہ کا حق بیوی کے حق سے مقدم ہے ، تو اس لیے بیوی کوخاوند کی والدہ کے بارہ میں ادب و احترام اورصلہ رحمی میں خاوند کا معاون و مدد گار ہونا چاہیے ۔

علماء رحمہم اللہ تعالی نے ذکر کیا ہے کہ طلاق ضرورت کے وقت مباح ہے ( جب اس کی ضرورت پیش آۓ بیوی کے برے اخلاق اوراس کی بری معاشرت اوررہن سہن اوربغیر کسی غرض کے ضرر اورنقصان دینے کی حالت میں ) دیکھیں المغنی ابن قدامہ ( 10 / 324 ) ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments