3462: مالدار بيٹے كا فطرانہ ادا كرنا


اگر كوئى والد اپنے مالدار بيٹے كى جانب سے فطرانہ ادا كرنا چاہے تو بيٹے كو كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ:

اگر بيٹا مالدار ہے تو وہ خود فطرانہ ادا كرے، چاہے ا سكا والد بھى اس كى طرف سے فطرانہ ادا كر دے تو بھى كوئى حرج اور ضرر نہيں، اور خاص كر جب والد كى عادت ہو كہ وہ اپنى اولاد كا ہر سال فطرانہ ادا كرتا ہو، چاہے اولاد بڑى بھى ہو كر ملازمت بھى كرنے لگے، ليكن والد اپنى عادت كے مطابق ان كا فطرانہ بھى دينا چاہتا ہو، تو كوئى حرج نہيں.

كيونكہ جب بيٹا والد كو فطرانہ ادا كرنے سے منع كرے تو ہو سكتا ہے والد كو يہ بات اچھى نہ لگے، اس ليے بيٹے كو چاہيے كہ وہ اپنے والد كو فطرانہ ادا كرنے دے، اور وہ اپنى جانب سے خود بھى فطرانہ ادا كر دے.

اور بعض علماء كے ہاں والد كا اولاد كى جانب سے فطرانہ كى ادائيگى ميں تسلسل جارى ركھنا اولاد كو والد كى نگرانى و اطاعت ميں باقى ركھنے كى علامت شمار ہوتى ہے، اس ليے بيٹے كو چاہيے كہ وہ والد كو اس كام كا موقع فراہم كرے جو اللہ نے اس كے والد كے ليے آسان كيا ہے.

اللہ تعالى سے دعا ہے كہ وہ مسلمانوں كى حالات كو سدھارے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments