34630: اللہ پر ايمان لانے كا معنى


ميں نے اللہ تعالى پر ايمان لانے كے بہت فضائل سنے اور پڑھے بھي ہيں، ميرى آپ سے گزارش ہے كہ اللہ تعالى پر ايمان كا معنى كيا ہے اس كے متعلق كچھ روشنى ڈاليں تا كہ ميں اس پر عمل كرسكوں، جو مجھے نبى صلى اللہ عليہ وسلم اور صحابہ كرام كے منھج كي مخالفت سے دور ركھے ؟

الحمد للہ :

اللہ تعالى پر ايمان يہ ہے كہ اللہ تعالى كے وجود پر يقين جازم ہو اور اس كي ربوبيت اور الوہيت اور اسماء صفات پر بھي يقين جازم ہو.

اللہ تعالى پر ايمان چار امور پر مشتمل ہے، جو شخص بھي ان پر ايمان ركھے وہ پكا اور سچا اور حقيقى مومن ہے:

اول: اللہ تعالى كے وجود پر ايمان:

اللہ تعالى كے وجود پر عقل اور فطرۃ بھي دلالت كرتى ہے چہ جائے كہ اس كے وجود پر شرعى دلائل بہت زيادہ ہيں:

1 - اللہ تعالى كي موجودگى پر فطرتى دليل: ہر مخلوق فطرتى طور پر اپنے بغير كسي سوچ يا تعليم كے اپنےخالق پر ايمان ركھتى ہے، اور اس فطرت كے مقتضى سے اسے كوئي بھي عليحدہ نہيں كرسكتا ليكن جس كے دل پر كوئي ايسى چيز آجائے جو اسے اس سے دور كر دے.

اسي ليے نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پيدا ہوتا ہے ليكن اس كے والدين يا تو اسے يہودي بنا ديتےہيں يا پھر عيسائي يا مجوسي " صحيح بخاري حديث نمبر ( 1358 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2658 ) .

2 - اور اللہ تعالى كے وجود پر عقلى دليل يہ ہے كہ: يہ سارى مخلوق جو پہلے تھى اور آنے والے ہے اس كا ضرور كوئى خالق ہے جس نے اسے مخلوق كو عدم سے وجود ديا، كيونكہ يہ تو ممكن ہى نہيں كہ مخلوق اپنے نفس كي خود موجود ہو.

اس مخلوق كے لئے ممكن نہيں كہ وہ اپنے آپ نفس كو خود ہي وجود ميں لے آئے كيونكہ كوئي چيز اپنے آپ كو پيدا نہيں كرسكتى اور نہ ہي يہ ممكن ہے، كيونكہ اس كے وجود سے قبل وہ معدوم اور تھي ہى نہيں تو پھر وہ خالق كيسے ہو سكتى ہے؟ !

اور يہ بھي ممكن نہيں كہ وہ حادثاتى طور پر ہو، كيونكہ ہر حادث كا كوئي محدث ہونا ضروري ہے، اور اس لئے كہ اس بديع اور محكم نظام ميں اس كا موجود ہونا اسباب اور مسبب ميں ربط ہے، اور كائنات كا بعض كے ساتھ بعض كا ربط اور تعلق اس ميں قطعى مانع ہے كہ يہ حادثاتى طور پر وجود ميں آيا ہو كيونكہ اس كا وجود اصلا نظام ميں ہے ہي نہيں تو پھر يہ باقى رہنے كي صورت ميں منتظم كيسے ہوسكتا ہے؟

لھذا جب نہ تو يہ ممكن ہے كہ يہ مخلوقات اپنے نفس كو خود وجود دے سكتى ہيں اور يہ بھي ممكن نہيں كہ حادثاتى طور پر بھي وجود ميں نہيں آئيں تو پھر اس كا تعين ہوا كہ اس كا كوئي موجد ہے اور وہ اللہ رب العالمين ہے.

اللہ تعالى نے يہ عقلى دليل اور قطعى برہان سورہ طور ميں ذكر كرتے ہوئے فرمايا:

كيا يہ بغير كسي ( پيدا كرنے والے ) كے خود بخود پيدا ہو گئے ہيں؟ يا يہ خود پيدا كرنے والے ہيں؟ الطور ( 35 ) .

يعنى وہ بغير كسي خالق كے پيدا نہيں ہوئے، اور نہ ہى انہوں نے اپنے آپ كو خود پيدا كيا ہے تو يہ تعين ہو گيا كہ ان كا خالق اللہ تعالى تبارك وتعالى ہى ہے.

اور اسي لئے جب جبير بن مطعم نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو سورۃ الطور كي تلاوت كرتے ہوئے سنا اور جب وہ اس آيت پر پہنچے:

{كيا يہ بغير كسي ( پيدا كرنے ) والے كے خود بخود پيدا ہو گئے ہيں؟ يا يہ خود پيدا كرنے والے ہيں؟ كيا انہوں نے ہى آسمان وزمين كو پيدا كيا ہے؟ بلكہ يہ يقين نہ كرنے والے لوگ ہيں، يا كيا ان كے پاس تيرے رب كے خزانے ہيں ؟ يا يہ ان خزانوں كے داروغہ ہيں؟} الطور ( 35 - 37 )

اورجبير اس وقت مشرك ہونے كےباوجود كہنے لگے: ميرا دل نكل كر اڑنے لگا اور يہ ميرے دل ميں ايمان كي سب سے پہلى كرن تھى. اسے امام بخاري رحمہ اللہ تعالى نے كئي ايك مقام پر بيان كيا ہے.

اس كي مزيد وضاحت كے لئے ہم ايك مثال بيان كرتےہيں:

اگر كوئي شخص آپ كو ايك پختہ محل كي كے متعلق بتائے جسے باغات نے گھير ركھا اور اس كے درميان نہريں جاريں ہوں اور وہ محل قالينوں اور پلنگوں سے بھرا ہوا ہو اور كئي قسم كي زينت والى اشياء سے مزين كيا گيا ہو تو وہ شخص كہے كہ يہ محل اور اس ميں جو كچھ ہے اس نے اپنے آپ كو خود بنايا ہے يا يہ حادثاتى طور پر بغير كسي موجود كے ہى بن گيا، تو آپ فورا انكار كريں گے اور اسے جھوٹا اور كذاب قرار ديں گےاور اس كي اس بات كو بے وقوفي قرار دينگے.

تو كيا اس كے بعد اس وسيع آسمان وزمين اور يہ سارا فلك جو ظاہر اور محكم اور مضبوط ہے اس نے كيا اپنےآپ كو خود وجود ديا ہے يا يہ سب كچھ حادثاتى طور پر بغير كسي موجد كے ہي بن گيا ہے؟

اور اس دليل كو تو ايك صحراء ميں رہنے والا خانہ بدوش سمجھ گيا اور اس نے اسے اپنے اسلوب ميں بيان كيا، جب كسي نے اس سے پوچھا كہ تو نے اپنے رب كو كيسے پہچانا؟

تو اس خانہ بدوش كا جواب تھا: اونٹ كي مينگنى اونٹ پر دلالت كرتى ہے اور پاؤں كے نشانات چلنے كي دليل ہيں، تو برجوں والا آسمان اور راستوں والى زمين اور موجوں والے سمندر كيا يہ سننے اور ديكھنے والے پر دلالت نہيں كرتے؟ !!

دوم: اللہ تعالى كي ربوبيت پر ايمان:

يعني يہ ايمان ركھنا كہ وہ رب اكيلا ہے اس كا كوئي شريك نہيں اور نہ ہى اس كا كوئي معين ومددگار ہے.

اور رب وہ ہے جس كى مخلوق، اور بادشاہي ہو اور وہ مدبر ہو اور تدبير اسى كى ہے، اللہ تعالى كے علاوہ خالق كوئي نہيں اور نہ ہى اللہ كے سوال كوئي مالك ہے اور امور كي تدبير كرنے والا اللہ كے سوا كوئي نہيں.

فرمان بارى تعالى ہے:

{ياد ركھو اللہ ہى كے لئے خاص ہے خالق ہونا اور حاكم ہونا} الاعراف ( 54 )

اور ايك مقام پر اس طرح فرمايا:

{آپ كہہ ديجئے كہ وہ كون ہے جو تم كو آسمان اور زمين سے روزى ديتا ہے يا وہ كون ہے جو كانوں اور آنكھوں پر پورا اختيار كرتا ہے اور وہ كون ہے جو زندہ كو مردہ سے نكالتا ہے اور مردہ كو زندہ سے نكالتا ہے اور وہ كون ہے جو تمام كاموں كي تدبير كرتا ہے ؟ وہ ضرور يہى كہيں گے كہ اللہ ، تو ان سے كہيں كہ پھر تم كيوں نہيں ڈرتے} يونس ( 31 ) .

اور ايك مقام پر فرمايا:

{وہ آسمان سے لے كر زمين تك ہر كام كي تدبير كرتا ہے پھر وہ اسى كي طرف چڑھ جاتا ہے} السجدۃ ( 5 ) .

اور ايك مقام پر ارشاد ربانى ہے:

{يہى ہے اللہ تم سب كو پالنے والا اسى كي سلطنت ہے، اور جن كوتم اللہ كے سوا پكار رہے ہو وہ تو كھجور كي گٹھلى كے چھلكے كے بھى مالك نہيں} فاطر ( 13 ).

اور سورۃ فاتحہ ميں اللہ تعالى كے اس فرمان {وہ جزا كے دن كا مالك ہے} الفاتحۃ ( 4 ) پر غور كريں اور متواتر قرات ميں ملك يوم الدين بھي آيا ہے كہ وہ يوم جزا كا بادشاہ ہے، اور جب ان دونوں قراتوں كو جمع كريں تو بديع معنى ظاہر ہو گا، لھذا ملك سلطہ و قوت ميں مالك سے زيادہ بليغ معنى ہے ليكن بعض اوقات بادشاہ صرف نام كا ہى بادشاہ ہوتا ہے نہ كر تصرف كا، يعني وہ كسي چيز ميں تصرف كي قدرت نہيں ركھتا، تو اس وقت ملك تو ہے ليكن مالك نہيں اور جب يہ دونوں جمع ہو گئے كہ اللہ تعالى مالك بھى ہے اور بادشاہ بھى تو يہ تدبير اور ملك سے يہ معاملہ پورا ہوگيا.

سوم: اللہ تعالى كي الوہت پر ايمان:

يعنى وہ معبود برحق ہے اس كا كوئي شريك نہيں.

اور الہ مالوہ يعنى معبود كے معنى ميں ہے مبحت اور تعظيم ميں، اور لا الہ الا اللہ كا بھي يہى معنى ہے: يعنى اللہ تعالى كےسوا كوئي حقيقى معبود نہيں: اللہ تعالى كا فرمان ہے:

{اور تمہارا معبود ايك ہى ہے اس كے علاوہ كوئي معبود نہيں وہ رحمن بھى اور رحيم بھي} البقرۃ ( 163 ) .

اور ايك دوسرے مقام پر اس طرح فرمايا:

{اللہ تعالى، فرشتے، اور اہل علم اس بات كي گواہي ديتے ہيں كہ اللہ تعالى كے سوا كوئي معبود برحق نہيں اور وہ عدل كو قائم ركھنے والا ہے، اس غالب اور حكمت والے كے سوا كوئي عبادت كے لائق نہيں} آل عمران ( 18 )

اور اللہ تعالى كے ساتھ اللہ كے علاوہ جس كو بھي الہ اور معبود بنايا جائے اور اس كي عبادت كي جائے تواس كي الوہي باطل ہے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{يہ سب اس ليے كہ اللہ ہى حق ہے اور اس كے سوا جسے بھى يہ پكارتے ہيں وہ باطل ہے ، بيشك اللہ تعالى بلندى والا اور كبريائى والا ہے} الحج ( 62 )

اور انہيں معبود اور الہ كا نام دينے سے انہيں الوہيت كا حق حاصل نہيں ہوجاتا، اللہ تعالى نے ( لات اور عزى اورمناۃ ) كے بارہ ميں فرمايا:

{يہ تو سوائے ناموں كے كچھ نہيں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ركھ ليے ہيں اللہ تعالى نے ان كي كوئي دليل نہيں اتارى} النجم ( 23 ).

اور اللہ تعالى نے يوسف عليہ السلام كے بارہ ميں فرمايا كہ انہوں نے اپنے قيدى ساتھيوں سے كہا:

{اے ميرے قيد خانے كےساتھيو! كيا متفرق كئي ايك پروردگا بہتر ہيں ؟ يا ايك اللہ زبردست طاقت ور؟

اس كے سوا تم جن كي پوجا پاٹ كر رہے ہو وہ سب نام ہى نام ہيں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے خود ہى گھڑ ليے ہيں اللہ تعالى نے اس كي كوئي دليل نازل نہيں فرمائى} يوسف ( 40 )

لھذا كوئي بھي عبادت كا مستحق نہيں صرف ايك اللہ ہى كي عبادت كي جائےگي اس كےعلاوہ كسي كي نہيں، اور اس حق ميں كوئي ايك بھي شريك نہيں ہو سكتا، نہ تو كوئي مقرب فرشتہ اور نہ ہى كو مبعوث كردہ رسول اور نبى، اسى ليے سب انبياء كرام كي دعوت اول سے ليكر آخرتك يہى تھى كہ لا الہ الا اللہ اللہ تعالى كي علاوہ كوئي معبود برحق نہيں.

فرمان بارى تعالى ہے:

{اور آپ سے قبل جو نبى بھي ہم نے بھيجا اس كي طرف يہى وحى كي كہ ميرے علاوہ كوئي معبود برحق نہيں لھذا ميرى ہى عبادت كرو} الانبياء ( 25 )

اور ايك مقام پر فرمايا:

{ہم نے ہر امت ميں رسول بھيجا كہ لوگو صرف اللہ كي عبادت كرو اور اس كے سوا تمام معبودوں سے بچو} النحل ( 36 )

ليكن ان مشركوں نے اس كا انكار كيا اور اللہ تعالى كے علاوہ كئي ايك كو الہ بنايا اور اللہ سبحانہ وتعالى كے ساتھ ان كي بھي عبادت كرنے لگےاور ان سے مدد و استغاثہ مانگنےلگے.

چہارم: اللہ تعالى كے اسماء اور اس كي صفات پر ايمان:

يعنى: اللہ تعالى نے جو كچھ اپنى كتاب عزيز ميں اپنے ليے ثابت كيا ہے اور سنت نبويہ ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اللہ تعالى كے ليے جو اسماء وصفات بيان كيے ہيں انہيں اللہ تعالى كي شايان بغير كسي تحريف اور اور تمثيل اور بغير كوئي كيفيت بيان كيے اور اس كي تاويل اور انہيں معطل كيے بغير ان پر ايمان ركھنا اور انہيں ثابت كرنا.

اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

{اور اللہ تعالى كے ليے ہى اچھے اچھے نام ہيں تم اسے انہيں ناموں سے پكارو اور جو لوگ اس كے ناموں ميں الحاد كرتے ہيں انہيں چھوڑ دو عنقريب انہيں ان كے اعمال كي سزا دى جائے گى} الاعراف ( 180 )

لھذا يہ آيت اللہ تعالى كے اسماء حسنى كےاثبات كي دليل ہے اور ايك دوسرے مقام پر اللہ تعالى كا فرمان ہے:

{اسي كي بہترين اور اعلى صفت ہے آسمانوں اور زمين ميں بھى اور وہى غلبے والا اور حكمت والا ہے} الروم ( 27 ) .

اور يہ آيت اللہ تعالى كي صفات كمال كے اثبات كي دليل ہے، كيونكہ المثل الاعلى يعنى كامل اور اكمل وصف ہے، تو دونوں آيتيں اللہ تعالى كے اسماء حسنى اور بلند صفات كو عمومى طور پر ثابت كرتى ہيں، اور كتاب و سنت ميں اس كي تفصيل بہت زيادہ ہے.

اور يہ باب بھى علم كے ابواب ميں سے ايك باب ہے يعنى اللہ تعالى كے اسماء اور اس كي صفات ايك ايسا مسئلہ ہے جس ميں امت كے اكثر افراد كے مابين اختلاف پايا گيا ہے اور اللہ تعالى كے اسماء اور صفات كے متعلق امت كئي ايك فرقوں ميں بٹ گئي ہے .

اور اس اختلاف ميں ہمارا موقف وہى ہے جس كا ہميں اللہ تعالى نےحكم ديا ہے :

فرمان باري تعالى ہے:

{لھذا اگر تم كسي چيز ميں اختلاف كرو تو اسے اللہ تعالى اور اس كے رسول كي طرف لوٹاؤ اگر تم اللہ تعالى اوريوم آخرت پر ايمان ركھتے ہو} النساء ( 59 ).

لھذا ہم يہ تنازع اوراختلاف اللہ تعالى كي كتاب اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كي سنت پر پيش كرتے ہيں اور اس ميں صحابہ كرام رضي اللہ تعالى عنہم اور تابعين عظام كي ان آيات اور احاديث ميں فہم اور سمجھ سے راہنمائى حاصل كرتے ہيں، كيونكہ وہ امت سے اللہ تعالى اور اس كے رسول كي مراد كو سب سے زيادہ جاننے والےہيں، عبد اللہ بن مسعود رضي اللہ تعالى عنہ نے سچ فرمايا: وہ نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام كي صفت بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:

( تم ميں جو كوئي بھي كوئي طريقہ اختيار كرنا چاہتا ہے تو وہ فوت شدگان كے طريقہ پر چلے كيونكہ زندہ شخص سے فتنہ كا ڈر رہتا ہے، نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ اس امت كے سب سے نيك دل اور علمى گہرائى ركھنے والے اور سب سے كم تكلف كرنے والے تھے وہ ايسى قوم تھے جنہيں اللہ تعالى نے اپنا دين پھيلانے كے ليے اور اپنے نبى كي صحبت كے ليے چن ركھا تھا لھذا ان كے حق كو پہچان كرو اور ان كے طريقہ پر چلو كيونكہ وہ صراط مستقيم پر تھے ) .

اور اس مسئلہ ميں جو كوئي بھي امت كے سلف كے طريقہ سے ہٹا اس نے غلطى كي اور گمراہ ہو گيا، اور اس نے مومنوں كے علاوہ دوسرے راستے كي پيروي كي اور مندرجہ ذيل فرمان باري تعالى ميں جو وعيد ہے اس كا مستحق ٹھرا :

فرمان بارى تعالى ہے:

{جو شخص باوجود راہ ہدايت كے واضح ہو جانے كے بھى رسول صلى اللہ عليہ وسلم كي مخالفت كرے اور تمام مومنوں كي راہ چھوڑ كر چلے ہم اسے ادھر ہى متوجہ كرديتے ہيں جدھر وہ خود متوجہ ہوا اور اسے دوزخ ميں ڈاليں گے اور پہنچنے والى يہ بہت برى جگہ ہے} النساء ( 115 )

اور اللہ تعالى نے ہدايت كے ليے يہ شرط لگائى ہے كہ ايمان اس طرح كا ہونا چاہئے جس طرح كا ايمان نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے صحابہ كرام لائے تھےاس كو بيان كرتے ہوئے اللہ تعالى نے فرمايا:

{اگر وہ اس طرح ايمان لائيں جس طرح تم ايمان لائے ہو تو پھر وہ ہدايت يافتہ ہيں} البقرۃ ( 137 ) .

لھذا جو بھي سلف كے طريقہ سے ہٹا اور دور ہوا تو اس كي ہدايت ميں مقدار سے نقص پيدا ہوا جتنا وہ سلف كے راستے سے دور ہوا .

تو اس بنا پر اس مسئلہ اور باب ميں يہ واجب اور ضروري ہے كہ اللہ تعالى نے جو اپنے ليے ثابت كيا ہے يا نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اللہ تعالى كے ليے جو اسماء و صفات ثابت كيے ہيں وہ ثابت كيے جائيں اور كتاب و سنت كي نصوص كو اس ميں ظاہر پر ہي رہنے ديں ، اور ان پر اس طرح ايمان لائيں جس طرح صحابہ كرام ايمان ركھتے تھے، امت ميں سب سے افضل اور زيادہ علم ركھنے والے ہيں.

ليكن يہ جاننا بھي ضروري اور واجب ہے كہ يہاں چار ممنوعات يا محذورات ہيں جو كوئي بھي ان ميں پڑ گيا اس كا اللہ تعالى كے اسماء وصفات پر اس طرح ايمان نہيں جس طرح ايمان لانا واجب ہے، اور جب تك يہ ممنوعات يا محذورات سے بچا نہ جائے اور ان كي نفى نہ ہو اس وقت تك اسماء وصفات پر ايمان صحيح نہيں ہوتا وہ چار محذورات يہ ہيں:

تحريف، تعطيل، تمثيل، اور تكييف:

اسي ليے ہم نے اللہ تعالى كےاسماء وصفات پر ايمان كے معنى ميں كہا تھا اسماء و صفات پر ايمان يہ ہے كہ:

( اللہ تعالى نے اپنى كتاب ميں جو كچھ اپنے ليے اسماء و صفات ثابت كيے ہيں يا رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كي سنت نے ان پر اس طرح ايمان لانا جو اللہ تعالى كي شايان شان ہے بغير كسي تحريف اور كيفيت اورمثال بيان كيے اور نہ ہى انہيں معطل كيا جائے )

ذيل ميں ہم ان چاروں محذورات كا بيان كرتے ہيں:

1 - تحريف:

اس سے كتاب و سنت كي نصوص كے معانى كو بدلنا مراد ہے كہ انہيں اس حقيقى معنى سے جس پر يہ نصوص دلالت كرتى ہيں بدل كر كسي دوسرے معنى ميں لے جانا، كہ ان اسماء اور صفات كو كسي اور معنى ميں بيان كرنا جو اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم سے وارد نہيں.

اس كي مثال يہ ہے كہ : تحريف كرنے والوں نے يد ہاتھ جو كہ بہت سي نصوص سے ثابت ہے كو ہاتھ كے معنى سے بدل كر اسے نعمت اور قدرت كے معنى ميں ليا ہے.

2 - التعطيل:

تعطيل سے مراد اللہ تعالى سے اس كے سب اسماء حسنى اور بلند صفات كي نفى يا اس ميں سے كچھ كي نفى ہے.

لھذا جس نے بھي اللہ تعالى سے اس كے كسي اسم يا صفت كي نفى كي جو قرآن و سنت سے ثابت ہيں اس كا اللہ تعالى كے اسماء اور صفات پر ايمان صحيح نہيں.

3 - التمثيل:

يہ اللہ تعالى كي صفات كو مخلوق كي صفات سے مثال دينا، مثلا يہ كہنا كہ: اللہ تعالى كا ہاتھ مخلوق كے ہاتھ كي مثل ہے، يا اللہ تعالى مخلوق كي مثل سنتا ہے، يا اللہ تعالى عرش پر اس طرح مستوى ہے جس طرح انسان كرسى پر مستوى ہوتا ہے. اسي طرح دوسرى صفات ميں .

اور اس ميں كوئي شك نہيں كہ اللہ تعالى كي صفات كو اس كي مخلوق كي صفات كے ساتھ ملانا اور تشبيہ دينا ايك برائي اور باطل كام ہے.

فرمان بارى تعالى ہے:

{اس كي مثل كوئي نہيں اور وہ سننےوالا ديكھنے والا ہے}الشورى(11)

4 - التكيف:

يعنى كيفيت بيان كرنى: يہ اللہ تعالى كي صفات كي كيفيت اور حقيقت كي تحديد كرنا، انسان اپنے دل كے اندازے يا زبان كےساتھ قول سے اللہ تعالى كي صفت كي كيفيت كي تحديد كرے.

اور يہ قطعى طور پر باطل ہے، اور كسي بشر كے ليے اس كا جاننا ممكن ہى نہيں. فرمان بارى تعالى ہے:

{اور اس كے علم كا احاطہ كر ہى نہيں سكتے} طہ ( 110 ) .

لھذا جس نے بھى يہ چاروں امور مكمل كرليے اور ان سے دور رہا تو اس كا ايمان صحيح اور مكمل ہے.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ ہميں اس ايمان پر ثابت قدم ركھے اور اسى پر موت دے. ديكھيں: رسالۃ شرح اصول الايمان تاليف شيخ ابن عثيمين

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments