34651: متواتر حدیث


سوال: اسلام میں متواتر حدیث کا کیا حکم ہے؟

الحمد للہ:

الحمد للہ:

حدیث متواتر کی لغوی تعریف:  "متواتر" کا لفظ "تواتر" سے ماخوذ ہے، جس کا معنی ہے: مسلسل، پے در پے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
( ثُمَّ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تتْرَى ) ترجمہ: پھر ہم نے پے در پے رسول بھیجے [المؤمنون :44]

اصطلاحی  تعریف: 
وہ روایت جسے  ایک بہت بڑی تعداد  روایت کرے جن کا جھوٹ پر متفق و متحد  ہونا ناممکن ہو ، یہ تعداد اپنے ہی جیسی  تمام صفات کی حامل  ایک بڑی جماعت سے  روایت  کرے، اور انہوں نے یہ خبر بذریعہ حس حاصل کی ہو۔

علمائے کرام نے متواتر حدیث کیلئے 4 شرائط ذکر کی ہیں:

1-             اسے بہت بڑی تعداد بیان کرے۔

2-             راویوں  کی تعداد اتنی  ہو کہ عام طور پر اس قدر عدد کا کسی جھوٹی خبر کے بارے میں  متفق ہونا محال ہو۔

3-             مذکورہ راویوں کی تعداد سند کے ہر طبقے میں ہو، چنانچہ  ایک بہت بڑی جماعت  اپنے ہی جیسی ایک بڑی جماعت سے روایت کرے، یہاں تک کہ سند نبی صلی اللہ علیہ وسلم  تک پہنچ جائے۔

4-              ان راویوں کی بیان کردہ خبر  کا استنادی ذریعہ حس ہو، یعنی: وہ یہ کہیں کہ : ہم نے سنا، یا ہم نے دیکھا، کیونکہ  جو بات سنی نہ گئی ہو، اور نہ دیکھی گئی ہو، تو اس میں غلطی کا احتمال ہوتا ہے، اس لیے وہ روایت متواتر نہیں رہے گی۔

متواتر حدیث کی اقسام:

1-             متواتر لفظی:  ایسی روایت جس کے الفاظ اور معنی دونوں تواتر کیساتھ ثابت ہوں

اس کی مثال:  حدیث: (‏مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا ‏ ‏فَلْيَتَبَوَّأْ ‏ ‏مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ)
ترجمہ: جو مجھ [محمد صلی اللہ علیہ وسلم] پر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ  جہنم میں بنا لے۔
اس روایت کو بخاری: (107) ، مسلم (3) ، ابو داود (3651)  ترمذی (2661) ، ابن ماجہ (30 ، 37) اور احمد (2/159) نے روایت کیا ہے۔

اس روایت کو نقل کرنے  والے صحابہ کرام کی تعداد72  سے بھی زیادہ ہے، اور  صحابہ کرام سے یہ روایت بیان کرنے والوں کی تعداد نا قابل شمار ہے۔

2-              متواتر معنوی: ایسی روایت جس  کا مفہوم تواتر کیساتھ ثابت ہو،  الفاظ  میں کچھ کمی بیشی ہو۔

اس کی مثال:  دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے کی احادیث ہیں، چنانچہ دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے سے متعلق ایک سو  کے قریب روایات ملتی ہیں، ان تمام احادیث میں  یہ بات  مشترک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے وقت ہاتھ اٹھائے، ان تمام روایات کو سیوطی رحمہ اللہ نے  اپنے ایک رسالے میں جمع کیا ہے، جس کا نام ہے: " فض الوعاء في أحاديث رفع اليدين في الدعاء "

متواتر حدیث کا حکم:

متواتر حدیث   کی تصدیق کرنا  یقینی طور پر لازمی امر ہے؛ کیونکہ متواتر حدیث سے  قطعی اور یقینی علم حاصل ہوتا ہے؛  اور اس قطعی و یقینی علم کیلئے ایسی حدیث کو کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی، نیز ایسی روایت کے حالات بھی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں رہتی، یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی عقلمند  اس  حدیث کے بارے میں کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہیں رکھتا۔

مصادر:

-         "نزہۃ النظر" از حافظ ابن حجر

-        "الحدیث المتواتر" از ڈاکٹر خلیل ملا خاطر

-        "الحديث الضعيف وحكم الاحتجاج به "از: شیخ ڈاکٹر  عبد الكريم بن عبد الله الخضیر

-        " معجم مصطلحات الحديث ولطائف الأسانيد"از: ڈاکٹر  محمد ضياء الرحمن اعظمی

واللہ اعلم.

اسلام سوال و جواب
Create Comments