Fri 25 Jm2 1435 - 25 April 2014
34801

فطرانہ سے زيادہ ادا كرنا

كيا فطرانہ محدود ہے كہ فيملى كے ہر فرد كى جانب سے صرف ايك ہى صاع ديا جائے يا كہ زيادہ بھى ديا جا سكتا ہے، كيونكہ ميں زيادہ بطور صدقہ دينا چاہتا ہوں، نہ كہ بطور احتياط اور اس زيادہ كا متحاج كو بتانا بھى نہيں چاہتا، مثلا ميرى فيملى كے دس افراد ہيں اور ميں پچاس كلو گرام چاول كى بورى خريد كر ان دس افراد كى جانب سے فطرانہ ادا كرتا ہوں اور باقى بيس يا اس سے زائد كلو چاول صدقہ ہونگے.
اور ميں اس زيادہ كا محتاج كو نہيں بتاتا بلكہ اسے كہتا ہوں كہ يہ فطرانہ ہے، اور اس كو علم نہيں كہ اس بورى ميں فطرانہ كى مقدار سے زائد چاول ہيں تو وہ راضى خوشى لے ليتا ہے اس عمل كا حكم كيا ہے ؟

الحمد للہ:

فطرانہ ايك صاع گندم يا ايك صاع كھجور يا ايك صاع چاول وغيرہ جسے لوگ بطور خوراك استعمال كرتے ہيں، يہ ايك صاع ہر مرد اور عورت چھوٹے اور بڑے مسلمان شخص پر واجب ہے، اور فطرانہ كى مقدار سے زيادہ دينے ميں كوئى حرج نہيں جيسا كہ آپ نے صدقہ كى نيت سے كيا ہے، چاہے محتاج كو اس كے متعلق نہ بھى بتايا گيا ہو "

اللہ تعالى ہى توفيق دينے والا ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 9 / 370 ).
Create Comments