3619: تفريح كے ليے بيوى ٹى وى كا مطالبہ كرتى ہے


ميں نے قسم اٹھا ركھى ہے كہ گھر ميں ٹى وى داخل نہيں كرونگا، اور نہ ہى مجھے ٹى وى كى كوئى رغبت ہے، ميں شادى شدہ ہوں، ميرى بيوى چھوٹى عمر كى ہے، اور ميں ملازمت پر جاتا ہوں تو وہ گھر ميں اكيلى ہوتى ہے اس كى مشغوليت كى كوئى چيز نہيں، نہ تو ہمارى اولاد ہے اور نہ ہى بيوى كو رغبت ہے، كيونكہ وہ دينى علم اور قرآن كا علم حاصل كرنے ميں وقت بسر كرتى ہے، اور فارغ رہنے سے وہ بہت زيادہ تنگ آ چكى ہے، مجھے كيا كرنا چاہيے، مجھے خدشہ ہے كہ كہيں شيطان اس كو ورغلا نہ دے ؟

الحمد للہ:

سبحان اللہ معاملہ كہاں تك جا پہنچا كہ ايك مسلمان عورت كو يہ بھى علم نہيں كہ وہ اپنا وقت كيسے بسر كرے، اور اللہ تعالى كى اس وقت جيسى نعمت كوعبادت و اطاعت اور اللہ كے ذكر سے بھر كر پورا كرے، جيسا كہ اللہ سبحانہ وتعالى نے اس پر متنبہ كرتے ہوئے فرمايا ہے:

﴿ اور اللہ وہ ذات ہے جس نے رات اور دن كو ايك دوسرے كے پيچھے آنے جانے والا بنايا، اس شخص كى نصيحت كے ليے جو نصيحت حاصل كرنے يا شكر گزارى كرنے كا ارادہ ركھتا ہو ﴾الفرقان ( 62 ).

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" پانچ كو پانچ سے قبل غنيمت جانو: اپنى زندگى كو اپنى موت سے قبل، اپنى صحت كو بيمارى سے قبل، اور اپنى فراغت كو مشغول ہونے سے قبل، اور اپنى جوانى كو بڑھاپے سے قبل، اور اپنى مالدارى كو فقيرى سے قبل "

اسے حاكم نے روايت كيا ہے، اور يہ صحيح الجامع حديث نمبر ( 1077 ) ميں مذكور ہے.

بہت افسوس ہے كہ مسلمان شخص كو ٹى وى سكرين كے سامنے بيٹھ كر كفريہ اور شركيہ، اور گانے بجانے اور موسيقى جيسى برائى پر مشتمل پروگرام ديكھنے كے علاوہ كچھ نہيں مل سكتا، جس سے وہ وقت بسر كر سكے؟

اس تكليف دہ چيز كو ديكھنے والا شخص حقيقت ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے فرمان كى تطبيق پاتا ہے، جس ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" دو نعمتيں ايسى ہيں جس ميں بہت سارے لوگ خسارے ميں رہتے ہيں، ايك تو صحت و تندرستى اور دوسرى فراغت ہے "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 5933 ).

اس ليے اس عوت كو بڑے پيارے اوراحسن انداز ميں نصيحت كرنا ضرورى ہے، اوراسے بڑے لطف سے وعظ كريں اور اللہ كى ياد دلائيں، اور يہ بيان كيا جائے كہ وہ اس دنيا ميں كس ليے پيدا كى گئى اور زندگى كا مقصد كيا ہے، ذيل ميں ہم چند ايك مفيد مشرورے اور تجاويز پيش كرتے ہيں جس ميں مباح اشياء كے ساتھ سير و تفريح اور دل بہلايا جا سكتا ہے:

1 - اذكار و دعاء، اور نوافل اور تلاوت قرآن اور روزے پر مشتمل مختلف عبادات بجا لانا، اور اللہ تعالى كى نشانيوں اور آيات و نعمتوں ميں سوچ و بچار اور غور و فكر كرنا.

2 - جس ملك اور علاقے ميں وہ رہتى ہے وہاں كى مسلمان عورتوں كے كسى قضيہ اور معاملات كا خيال كرنا: مثلا مسلمانوں كى بچيوں كو تعليم كےزيور سے آراستہ كرنا، اور اسلامى ميگزين اور رسالوں ميں اسلامى مضامين اور سروے اور مفيد قسم كى معلومات جن كا يورپ ميں مسلمانوں كو فائدہ ہو لكھ كر معاونت كرنا.

اور اسى طرح خيراتى منصوبہ جات يعنى يتيموں اور بيوگان كى ديكھ بھال اور طلاق شدہ اور بوڑھى مسلمان عورتوں كو سہارا دينا، اور عيدين اور دوسرے اجتماعات، اور فقراء مسلمان كى لڑكيوں كى خوشى جيسى محافل كا انتظام كرنے والى كميٹى ميں شركت كرنا.

3 - نيك اور صالح قسم كى سہيلياں بنانا كر اكٹھے ہونا، اور اچھے پڑوسيوں سے ميل جول ركھنا.

4 - اسلامى كتب كا مطالعہ كرنا، اور خاص كر عام اور بہترين قصے پڑھنا.

5 - اسلامك سينٹر ميں منعقد ہونے والے عورتوں ميں دعوتى پروگرام اور عورتوں كى دوسرى مصروفيات اور بچوں كى تربيت ميں شامل ہونا.

6 - دينى كسيٹيں اور ليكچر سننا، اور اس كى خلاص كر كے لوگوں ميں تقسيم كرنا تا كہ وہ اس سے مستفيد ہوں.

7 - ٹيكنيكل كام كر كے، اور خيراتى مقصد سے كوئى چيز تيار كر كے فروخت كرنے كے بعد اس قيمت اور نفع اسلامك سينٹر ميں دينا.

8 - مفيد قسم كے پروگرام اور كمپيوٹر ركھنا، يہ بہت وسيع دائرہ ركھتا ہے جس سے اسلامى معلومات وغيرہ حاصل ہو سكتى ہيں، اور كئى قسم كى اچھى اشياء تيار كر كے سرمايہ كارى بھى كى جا سكتى ہے، اور اس كے ساتھ ساتھ مباح قسم كى گيمز سے تفريح بھى كى جا سكتى ہے.

9 - كپڑے سلائى، اور كڑھائى كرنا، اور سويٹر وغيرہ بننا.

10 - كھيتى باڑى كرنا.

11 - گھريلو ايكسر سائز كرنا.

سب حالات ميں آپ پر واجب ہوتا ہے كہ آپ ہر قسم كے اس دباؤ كا مقابلہ بڑى دليرى سے كريں جو آپ كے گھر كو خراب كرنا اور اس ميں شر پھيلانے كا باعث بنے.

اللہ تعالى سےدعا ہے كہ وہ آپ كى بيوى كو نيك و صالح اولاد دے، اور اس كے اوقات كو بچے كى تربيت سے بھر دے.

اللہ تعالى ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے.

واللہ اعلم .

الشيخ محمد صالح المنجد
Create Comments