3625: زنا نے اس کی نیند حرام کردی اوربیٹے کا غم کھاۓ جارہا ہے


میں ایک مجبور لڑکی تھی حتی کہ میں نے اپنے خاوند سے ملاقات کی توالحمد للہ اس نے مجھے اسلام کی دعوت دی ، مجھ سے زنا کا ارتکاب ہوچکا ہے مجھے اس جیسی برائي کی امید نہیں تھی اورنہ ہی کبھی میرے وہم و گمان میں آیا تھا ۔
اس کی وجہ سے میں اب راتوں کو سوبھی نہیں سکتی ( رات کا کچھ حصہ تودعا میں گزرتا ہے ) مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالی میرے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے مجھے معاف نہیں کر ےگا ۔
مجھے اپنے خاوند سے حمل ہے لیکن ابھی تک ہم منگنی کے عرصہ میں ہی گزر رہے ہیں اورنکاح نہیں ہوا اس وقت بچے کی عمر سات برس ہے جو کہ ولد زنا ہے تو کیا اللہ تعالی مطلقا مجھے معاف فرماۓ گا ؟

الحمد للہ
اول :

جوبھی اللہ تعالی کی طرف رجوع کرتا ہوا اپنے گناہوں سے سچی توبہ کرے اللہ تعالی اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔

دوم :

جب حمل اوربچے کی پیدائش شرعی نکاح سے پہلے ہی ہوجاۓ تو بچے کی نسبت زنا کرنے والی والدہ کی طرف ہوتی ہے نا کہ زانی کی طرف ، لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ اس بچے کے بھی شرعی حقوق جس کا ادا کرنا ضروری ہے اوراس کی تربیت بھی احسن انداز میں کرنی چاہیے ۔

سوم :

آپ اللہ تعالی کی رحمت سے ناامید نہ ہوں اوریہ بھی نہ کہيں کہ اللہ تعالی مجھے معاف نہیں فرماۓ گا ، اس لیے کہ اللہ تعالی کی رحمت سے توصرف کافر ہی ناامید ہوتے ہیں ، اوراللہ تعالی کی رحمت سے ظالموں کے علاوہ کوئی اورناامید نہیں ہوتا ، جب آپ نے اس فعل سے توبہ کرلی ہے تواب آپ اللہ تعالی کی مغفرت اوراوررحمت کی امید رکھیں ۔

چہارم :

آپ زنا جیسے جرم سے توبہ کے بارہ میں اللہ تعالی کے حکم سے تفصیلی جواب کتاب " ارید ان اتوب ولکن ۔۔۔ " میں توبہ توکرنا چاہتا ہوں لیکن ۔۔۔ کے عنوان سے اسی ویب سائٹ کی قسم کتب میں پڑھ سکتی ہیں ۔

پنجم :

جوکچھ ہوچکا ہے اس کا علاج توبہ کے ساتھ ہی کیا جاۓ ، اب آپ پر ضروری ہے کہ آپ کثرت سے اچھائي اورنیکی و بھلائی کے کام کریں اس لیے کہ نیکیاں برائيوں کوختم کرڈالتی اوردرجات کوبلند کرتی ہيں ۔

ہم اللہ تعالی سے دعاگو ہیں کہ وہ آپ کے گناہ معاف فرماۓ اور آپ کودین پر ثابت قدمی سے نوازے ، ہم مستقبل میں آپ سے اللہ تعالی کی اطاعت و فرمانبرداری کی امید رکھتے ہیں ۔

اللہ تعالی ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی رحمتیں برساۓ آمین یا رب العالمین ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments