36387: قربانی کس کس کے لیےکافی ہوسکتی ہے


میں اورمیری بیوی اور اولاد ملا کر ہم آٹھ افراد بنتے ہیں توکیا ہمیں ایک ہی قربانی کافی ہے یا ہرایک شخص کے لیے ایک قربانی ہوگي ؟
اوراگر ایک ہی قربانی کافی ہے توکیا میں اورمیرا پڑوسی ایک ہی قربانی میں شریک ہوسکتے ہيں ؟

الحمد للہ
اول :

بھيڑ ، بکری اورمینڈھے کی ایک قربانی آدمی اوراس کے اہل وعیال وغیرہ کے لیے کافی ہے ۔

اس کی دلیل مندرجہ ذيل حدیث ہے :

عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دوکالے پاؤں ، کالی آنکھوں والے مینڈھے قربانی کرنے کا حکم دیا ، اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہيں فرمایا :

اے عائشہ چھری لانا( مجھے چھری پکڑاؤ ) تومیں نے انہيں چھری دی انہوں نے وہ چھری لی اورمینڈھا پکڑ کرلٹايا پھر اسے ذبح کیا ( ذبح کرنےکی تیارکی کرنے لگے) اورفرمایا بسم اللہ اللہ اکبر ، اے اللہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اورال محمد اورامت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے قبول فرما اورپھر اسے ذبح کردیا ۔ رواہ مسلم ۔

دو بریکٹوں کے درمیان حدیث کی شرح ہے اورحدیث کے اصل الفاظ نہيں ہیں ۔

اورابوایوب انصاری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک شخص نے اپنے اوراپنے اہل وعیال کی جانب سے ایک بکری کی قربانی دی وہ کھاتے اورکھلاتے تھے ۔

اسے ابن ماجہ ، اورامام ترمذی نے روایت کیا ہے اورامام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے اسے صحیح کہا ہے ، اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ترمذی میں اسے صحیح قراردیا ہے ۔ دیکھیں صحیح سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1216 ) ۔

لھذا جب کوئي شخص بھیڑ ، بکری یا مینڈھا ذبح کرتا ہے تووہ ایک ہی اس اوراس کےاہل وعیال اوراپنے گھروالوں میں زندہ یا فوت شدہ جس کی جانب سے وہ نیت کرے کافی ہے ، اوراگر وہ کچھ بھی نیت نہ کرے بلکہ اسے عام رکھے یا خاص کردے تواس کے اس کےگھروالوں میں ہروہ شخص داخل ہوجائےگا جوعرف یا لغت کے لحاظ سےان الفاط شامل ہوتا ہے ۔

عرف میں وہ لوگ گھروالوں میں شامل ہوتے ہيں جن کی وہ اعالت کرتا ہے یعنی بیویاں اولاد اوررشتہ دار ، اورلغت میں ہرقریبی شامل ہے اس کی اولاد اوراس کےوالد کی اولاد اورباپ دادے کی اولاد وغیرہ ۔

اوراونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ اس سے کافی ہے جس کے لیے ایک بکرا وغیرہ کافی ہوتا ہے ، لھذا اگر کسی نے اپنے اوراپنے گھروالوں کی جانب سے اونٹ یا گائے کا ساتواں حصہ قربانی کیا تویہ ان سب کی جانب سےکافی ہوگا ، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ھدی ( یعنی حج کی قربانی ) میں گائے اوراونٹ کا ساتواں حصہ ایک بکرے وغیرہ کے قائم مقام کیا ہے ، تواسی طرح قربانی میں بھی کافی ہوگا کیونکہ اس میں حج اورعام قربانی میں کوئي فرق نہيں ۔

دوم :

ایک بکری مینڈھا وغیرہ دو شخصوں یا زيادہ کے لیے کافی نہيں کہ وہ دونوں اسے خرید کر قربانی کریں اوراس میں شریک ہوجائیں ، کیونکہ اس کا کتاب وسنت میں کوئي وجود نہيں ملتا ۔

اوراسی طرح اونٹ اورگائے میں آٹھ اشخاص شریک نہيں ہوسکتے ( لیکن اونٹ یا گائے میں سات افراد شریک ہوسکتے ہيں ) اس لیے کہ عبادات توقیفی ہوتی ہيں ( یعنی اس میں کوئي بھی کمی وبیشی نہيں کی جاسکتی ) اس کی کیفیت اورکمیت محدود ہ میں کوئي کمی وبیشی نہيں ہوسکتی ، یہ ثواب میں شرکت کے علاوہ ہے ، کیونکہ ثواب میں بلا حصر شرکت کی نص ملتی ہے جیسا کہ بیان بھی ہوچکاہے ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments