36512: اگر کوئی شخص کسی کو زکاۃ کی رقم تقسیم کرنے کیلئے دے تو وہ ( والعاملين عليہا ) ميں شامل نہيں


اگر كوئى مالدار شخص مجھے زكاۃ دے كہ اسے فقراء ميں تقسيم كردو تو كيا ميں ( والعاملين عليہا ) زكاۃ کیلئے كام كرنے والوں ميں شامل ہوں، اور اس زكاۃ میں سے اپنے لے سكتا ہوں ؟

الحمد للہ:

زكاۃ کیلئے كام كرنے والوں ميں وہ لوگ شامل ہوتے ہيں جنہيں حكمران زكاۃ اكٹھا كرنے كا كام دے، اور وہ يہ زكاۃ اكٹھى كرنے كے بعد اس كى حفاظت اور تقسم كرنے كے ذمہ دار ہوں۔

ديكھيں: الشرح الممتع ( 6 / 142 )

ليكن جس شخص كو كسى مالدار شخص نے اپنے مال كى زكاۃ نكالنے كا ذمہ دار بنايا ہو تو يہ شخص اس كا نائب اور وكيل ہے نہ كہ اس پر كام كرنے والوں ميں شامل ہوتا ہے۔

امام نووى رحمہ اللہ تعالى " المجموع "(6/165) ميں كہتے ہيں:

امام شافعى اور ان كے اصحاب كا كہنا ہے: اگر زكاۃ تقسيم كرنے والا خود مالك یا اسکا وکیل ہو تو عامل كا حصہ ساقط ہو جائےگا، اور باقى سات مصارف زكاۃ ميں تقيسم كرنا واجب ہو گا۔ انتہى

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ سے ايسے شخص كے متعلق دريافت كيا گيا جس نے اپنے مال كى زكاۃ ايك شخص كى طرف بھيجى اور اسے كہا كہ اپنی صوابدید كے مطابق اسے تقسيم كردو، تو كيا يہ وكيل زكاۃ پر كام كرنے والے عامل ميں شامل ہو تے ہوئے زكاۃ لينے كا مستحق ہے؟

تو شيخ كا جواب تھا:

يہ وكيل زكاۃ پر كام كرنے والوں ميں شامل نہيں ہوتا، اور نہ ہى زكاۃ لينے كا مستحق ہے؛ كيونكہ يہ ايك خاص شخص كا خاص نائب ہے، اور تعبير قرآنى ميں ـ واللہ اعلم ـ يہى راز ہے جب يہ فرمايا كہ: (وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا) یعنی اس پر كام كرنے والے ۔التوبہ /60 ۔ كيونكہ حرفِ جر " على " ولايۃ كى ايك نوع كا فائدہ ديتا ہے، گويا كہ "عاملين" اپنے اندر "قائمين" كا معنى ليے ہوئے ہے، اور اس ليے جو شخص كسى دوسرے شخص كى نيابت كرتے ہوئے زكاۃ تقسيم كرنے كا ذمہ دار ہوگا وہ زکاۃ پر كام كرنے والوں ميں شامل نہيں ہوگا۔ واللہ اعلم۔ انتہى

ديكھيں: مجموع فتاوى ابن عثيمين ( 18 / 369 )

اور شيخ ابن باز رحمہ اللہ سے مندرجہ ذيل سوال كيا گيا:

ميرے پاس اتنا مال ہے جس میں زكاۃ واجب ہوتی ہے، اور ميں اس زكاۃ ميں سے كچھ رقم کسی دوسرے ملك کے فقراء كے ليے بھيجنا چاہتا ہوں، اور اس ملك ميں ايك شخص كو جانتا ہوں، ميں اس شخص كے ذريعہ سے زكاۃ كى رقم بھیج دونگا تا كہ وہ محتاج لوگ تلاش كر كے تقسيم كر دے، ليكن وہ يہ كام معاوضے كے بغير نہيں کریگا، تو كيا ميں اسے اس كام كى اجرت زكاۃ كے مال سے ادا كر سكتا ہوں؟

تو انہوں نے جواب دیا:

" افضل اور بہتر تو يہ ہے كہ آپ اپنے ملك كے فقراء ميں زكاۃ تقسيم كريں، اور اگر آپ كسى دوسرے ملك زكاۃ منتقل كرنا چاہتے ہیں کہ وہاں كے لوگ زيادہ محتاج اور ضرورتمند ہيں يا اس ليے كہ وہاں آپ كے غریب رشتہ دار رہتے ہيں تو ايسا كرنے ميں كوئى حرج نہيں۔

اور زكاۃ تقسيم كرنے كے ليے اگر آپ كسى دوسرے شخص كو وكيل بنائيں تو اسے اجرت دينے ميں كوئى مانع نہيں، ليكن يہ اجرت زكاۃ ميں سے نہيں ہونى چاہيے، كيونكہ یہ واجب ہے کہ آپ خود یا اپنے نائب کے ذریعے اپنی زکاۃ کو فقراء اور مساكين ميں تقسيم کریں ، اور اس نائب كى اجرت اپنے مال سے ادا كرينگے زكاۃ كے مال سےنہیں " انتہى

اقتباس از: مجموع فتاوى ابن باز ( 14 / 258 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments