36530: فيكٹرى ميں ملازمت كى بنا پر نماز جمعہ كى ادائيگى كے ليے نہيں جا سكتا


ميں فيكٹرى ميں اليكٹريشن ہوں، ايك روز ڈيوٹى اور دو دن آرام كرتا ہوں، بعض اوقات ميرى ڈيوٹى جمعہ كے روز ہوتى ہے، اور كام كى نوعيت كى بنا پر ميں نماز جمعہ كے ليے نہيں جا سكتا، تو كيا مجھ پر كچھ لازم ہوتا ہے ، اور مجھے كيا كرنا چاہيے ؟

الحمد للہ :

نماز جمعہ كى اذان سننے والے پر نماز جمعہ كى ادائيگى واجب ہے، اگر وہ نماز جمعہ كى ادائيگى كے اہل ميں سے ہو تو اسے اس اذان اور ندا كا جواب ديتے ہوئے نماز جمعہ كى ادائيگى كے ليے جانا ہو گا:

كيونكہ اللہ تعالى كا حكم ہے:

﴿اے ايمان والو! جب جمعہ كے روز نماز جمعہ كى اذان دى جائے تو تم اللہ تعالى كے ذكر كے ليے دوڑے چلے آؤ، اور خريدوفرخت ترك كر دو، تمہارے ليے يہ بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو ﴾الجمعۃ ( 9 ).

ابن عمر اور ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہم سے مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" لوگ نماز جمعہ چھوڑنے سے باز آجائيں، يا پھر اللہ تعالى ان كے دلوں پر مہر ثبت كر دے گا، اور پھر وہ غافلوں ميں سے ہو جائينگے"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 865 ).

اس بنا پر آپ كو چاہيے كہ آپ فيكٹرى كے مالك كے علم ميں لائيں كہ آپ نماز جمعہ كے ليے جائينگے، اور اسے آپ اور آپ كے علاوہ باقى مسلمانوں كو نماز جمعہ كى ادائيگى كے ليے جانے كى اجازت دينى چاہيے، اور يہ بھى ممكن ہے كہ آپ اسے يہ كہيں كے اس كے بدلے آپ اضافى ڈيوٹى كرينگے، اور اس كے ساتھ آپ اللہ تعالى سے دعا بھى كريں كے وہ آپ كے معاملہ ميں آسانى پيدا فرمائے.

" جو كوئى بھى اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتا ہے، اللہ تعالى اس كے ليے نكلنے كى كوئى راہ بنا ديتا ہے "

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى سے كچھ ملازمين كے متعلق سوال كيا گيا جن كے كفيل انہيں اس دليل بنا پر نماز جمعہ كى ادائيگى كى اجازت نہيں ديتے كہ وہ كھيتوں ميں چوكيدار ہيں ؟

تو شيخ رحمہ اللہ تعالى كا جواب تھا:

" اگر تو يہ لوگ مسجد سے اتنے دور ہيں كہ لاؤڈ سپيكر كے بغير اذان كى آواز نہيں سن سكتے، اور وہ شہر سے بھى باہر بستے ہوں تو ان پر نماز جمعہ كى ادائيگى لازم نہيں، ملازمين كو ممطئن رہنا چاہيے كہ كھيتوں ميں ہى رہنے سے ان پر كوئى گناہ نہيں، اور وہ ظہر كى نماز ادا كريں.

ان كے كفيلوں كو يہ كہا جاتا ہے كہ: انہيں نماز جمعہ كى ادائيگى دينے ميں ملازمين اور ان كے ليے بھى بہتر اور خير ہے، اور ان كے دلوں ميں اس سے اچھائى پيدا ہو گى، اور ہو سكتا ہے اس طرح وہ اپنے كام ميں بہترى پيدا كريں، بخلاف اس كے كہ اگر ان پر سختى كى گئى تو ايسا نہيں ہو گا.

بہت سے ملازمين نماز جمعہ كى ادائيگى كى اجازت اس ليے مانگتے ہيں تا كہ وہ اپنے دوست و احباب كو مل سكيں، اسى ليے آپ ديكھيں گے وہ نماز جمعہ كے ليے آتے ہيں تو بازار ميں كھڑے ہو باتيں كرتے رہتے ہيں، اور جب امام آتا ہے تو وہ بھى مسجد ميں داخل ہو جاتے ہيں.

مدار اسى پر ہے كہ اگر وہ اذان كى آواز سنتے ہيں، يا پھر وہ شہر ميں بستے ہوں تو نماز جمعہ ميں حاضر ہوں، اور اگر وہ شہر سے خارج رہتے ہيں اور اذان كى آواز نہيں سنتے تو ان پر كچھ لازم نہيں. اھـ بتصرف

مستقل فتوى كميٹى سے ايك نوجوان كے متعلق دريافت كيا گيا جو ايك بنگلہ ميں بطور چوكيدار ملازم ہے، اور بنگلہ كا مالك اسے مسجد ميں نماز كے ليے جانے نہيں ديتا، بلكہ اسے زدكوب كرتا اور ملك واپس بھيجنے كى دھمكى ديتا ہے ؟

تو كميٹى كا جواب تھا:

نماز پنجگانہ مسجد ميں باجماعت ادا كرنا واجب ہيں، لہذا آپ كو مسجد ميں ہى نماز ادا كرنى چاہيے، اور اس ميں آپ صبر وتحمل سے كام ليں اور اجروثواب كى نيت ركھيں، ان شاء اللہ اللہ تعالى تنگى كے بعد آسانى پيدا كرنے والا ہے.

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ اور جو كوئى بھى اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرتا ہے، اللہ تعالى اس كے ليے نكلنے كى راہ بنا ديتا ہے، اور اسے رزق بھى وہاں سے ديتا ہے جہاں سے اس كا وہم و گمان بھى نہيں ہوتا، اور جو كوئى اللہ تعالى پر توكل اور بھروسہ كرتا ہے اللہ تعالى اسے كافى ہو جاتا ہے، بلا شبہ اللہ تعالى اپنا كام پورا كرنے والا ہے اللہ تعالى نے ہر چيز كا اندازہ مقرر كر ركھا ہے ﴾.

آپ كو علم ہونا چاہيے كہ اللہ تعالى كى نافرمانى ميں كسى بھى مخلوق كى اطاعت و فرمانبردارى نہيں كى جا سكتى، لہذا آپ اللہ تعالى كے ساتھ ہوں تو اللہ تعالى آپ كے ساتھ ہے.

اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے.

واللہ اعلم

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 7 / 302 ) اور لقاء الباب المفتوح ( 1 / 413 ).

ليكن اگر آپ كا فيكٹرى سے نماز جمعہ كے ليے جانے ميں فيكٹرى كو نقصان ہو، مثلا مشينرى ميں تعطل ہونے يا پھر آگ وغيرہ لگنے كا احتمال ہو اور آپ كے ساتھ فيكٹرى ميں اور بھى ملازمين كام كرتے ہيں تو آپ فيكٹرى ميں ہى نماز جمعہ ادا كريں، اگر فيكٹرى شہر ميں ہے، يا شہر سے باہر اور آپ كو بغير لاؤڈ سپيكر اذان كى آواز سنائى ديتى ہو.

ليكن اگر فيكٹرى شہر سے باہر ہے اور آپ لاؤڈ سپيكر كى بغير اذان كى آواز نہيں سن سكتے، يا پھر نماز كے ليے كام چھوڑنے سے آپ كو كام ميں نقصان ہونے كا خدشہ ہو، تو يہ تمہارے ليے نماز جمعہ چھوڑنے ميں عذر ہو گا، تو اس وقت آپ اگر ممكن ہو سكے تو باجماعت ظہر كى نماز ادا كريں.

مستقل فتوى كميٹى سے درج ذيل سوال كيا گيا:

ٹيلى فون اور بجلى كے محكمہ ميں ملازمين كى ڈيوٹى جمعہ كے روز اور نماز كے اوقات ميں بھى رہتى ہے، اور اگر وہ ڈيوٹى نہ كريں تو ٹيلى فون اور وائرليس سسٹم ميں خلل پيدا ہو جاتا ہے، كيا ان كے ليے نماز جمعہ ادا نہ كرنا جائز ہے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

كتاب و سنت اور اہل علم كے اجماع كے مطابق نماز جمعہ فرض عين ہے.

اس كے بعد كميٹى كا كہنا تھا:

" ليكن اگر اس شخص ميں كوئى شرعى عذر پايا جائے، مثلا كوئى شخص امن عامہ كا بلا واسطہ ذمہ دار ہو اور امت كے مصالح كى حفاظت اس كے ذمہ ہو، جو نماز كے وقت بھى اسے كام پر حاضر رہنے كا متقاضى ہو، جس طرح ٹريفك پوليس كے لوگ، يا پھر امن و عامہ پوليس والے، يا وائرليس آپريٹر، اور ٹيلى فون آپريٹر وغيرہ ، جن كى بارى نماز جمعہ كے وقت آتى ہو يا نماز كى اقامت كے وقت تو اس طرح كے لوگ نماز اور جمعہ جماعت كے ساتھ ترك كرنے پر معذور ہيں.

كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿حسب استطاعت اللہ تعالى سے ڈرو ﴾التغابن ( 16 ).

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس چيز سے ميں نے تمہيں منع كيا ہے، اس سے اجتناب كرو، اور جس چيز كا تمہيں ميں نے كرنے كا حكم ديا ہے حسب استطاعت اس پرعمل كرو"

اور اس ليے بھى كہ علماء كرام نے بيان كيا ہے كہ كم ازكم عذر اس شخص كا ہے جسے اپنى جان اور مال كا خطرہ ہو، اسے نماز جمعہ اور نماز جماعت ترك كرنے كا عذر ہے، جب تك عذر قائم ہے.

ليكن اس سے فرض ساقط نہيں ہو گا، بلكہ وہ بروقت نماز ادا كرے گا اور جب ممكن ہو نماز باجماعت ادا كرے، يہ پانچوں واجب كى طرح واجب ہے.

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 188 ).

كميٹى سے يہ بھى دريافت كيا گيا:

كلينك ميں اگر كسى ڈاكٹر كى ڈيوٹى نماز جمعہ كے دوران مريضوں كے علاج معالجہ كے ليے ہو يا پھر كسى زخمى كو فورا فسٹ ايڈ دينا پڑے تو كيا اس ڈاكٹر كے ليے نماز جمعہ ترك كرنا جائز ہے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" سوال ميں مذكور ڈاكٹر ايك عظيم كام سرانجام دے رہا جو مسلمانوں كے ليے فائدہ مند ہے، اور اس كے نماز جمعہ كے ليے جانے سے عظيم خطرہ لاحق ہو گا، لہذا اس كے نماز جمعہ ترك كرنے ميں كوئى حرج نہيں، ليكن اسے وقت ميں ہى نماز ظہر ادا كرنا ہو گى، اور جب نماز جماعت ادا كرنا ممكن ہو تو نماز جماعت ادا كرنا واجب ہے.

كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

﴿حسب استطاعت اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو﴾.

اور اگر اس كے ساتھ كچھ اور بھى ملازمين اس وقت ڈيوٹى پر ہيں تو ان پر سب نماز ظہر باجماعت ادا كرنا واجب ہے. اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 191 ).

فتوى كميٹى سے يہ سوال بھى ہوا:

كيا شہر سے تقريبا دو كلو ميٹر دور پٹرول پمپ كے چوكيدار كے ليے نماز جمعہ ترك كرنا جائز ہے ؟ يہ علم ميں رہے كہ اس پٹرول پمپ كو پہلے آگ لگ چكى ہے، اور وہاں چورى بھى ہوئى، اور چوكيدار كے بيوى بچے اور اس كے عزيز و اقارب بھى وہيں رہائش پذير ہيں؟

كميٹى كا جواب تھا:

اگر معاملہ ايسا ہى ہے جيسا بيان ہوا ہے، تو اس صورت ميں اس عذر كى بنا پر نماز جمعہ ترك كرنے كے شرعى دلائل كے عموم كى بنا پر چوكيدار كے ليے نماز جمعہ كى بجائے ظہر كى نماز ادا كرنا جائز ہے، تا كہ وہ مذكورہ اشياء كى چوكيدارى كر سكے. اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 192 ).

كميٹى سے يہ سوال بھى كيا گيا:

تقريبا تيرہ سے پندرہ ملازمين پٹرول صاف كرنے كے كارخانے ميں ملازم ہيں، اور وہ كام كى بنا پر وہاں سے نماز جمعہ كے ليے كہيں اور نہيں جا سكتے اس ليے وہ وہيں نماز جمعہ ادا كرتے ہيں، كيا ان كا يہ عمل صحيح ہے ؟

كميٹى كا جواب تھا:

" اگر تو معاملہ ايسے ہى ہے جيسے بيان ہوا ہے، تو آپ لوگ وہيں نماز جمعہ ادا كر سكتے ہيں، كيونكہ فرمان بارى تعالى ہے:

﴿حسب استطاعت اللہ تعالى كا تقوى اختيار كرو﴾. اھـ

ديكھيں: فتاوى اللجنۃ الدائمۃ للبحوث العلميۃ والافتاء ( 8 / 194 ).

خلاصہ:

اگر نماز جمعہ ميں حاضر ہونے كى بنا پر مسلمانوں كى كوئى عام يا خاص مصلحت ضائع ہو رہى ہو مثلا مال كى چورى، يا آگ لگنا، يا كسى چيز كا تلف ہونا، يا پھر كوئى ضرر اور نقصان ہونے كا انديشہ ہو تو پھر نماز جمعہ سے پيچھے رہنا اور نماز ظہر ادا كرنا جائز ہے.

ليكن اگر ڈيوٹى ميں موجود اور حاضر رہنے كا مقصد تجارت ميں نفع يا فيكٹرى كى پيداوار ميں اضافہ ہوتا ہو اور وہ اس ملازمت كو نہ كھونا چاہتا ہے، يا پھر اس ليے كہ اس ملازمت كى تنخواہ زيادہ ہے، يا كسى دوسرى دنياوى فائدہ كى خاطر نماز جمعہ ترك كرتا ہے تو ان اسباب كى بنا پر نماز جمعہ سے پيچھے رہنا جائز نہيں، يہ كيوں كر ہو سكتا ہے.

اور پھر اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿اے ايمان والو! جب جمعہ كے روز نماز جمعہ كے ليے اذان دى جائے تو تم اللہ تعالى كے ذكر كے ليے دوڑے چلے آؤ، اور خريدوفروخت چھوڑ دو، يہ تمہارے ليے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو ﴾الجمعۃ ( 9 ).

اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے حقارت كى بنا پر تين بار جمعہ ترك كيا اللہ تعالى اس كے دل پر مہر ثبت كر ديتا ہے "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 500 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے اسے صحيح قرار ديا ہے.

اس ليے نماز جمعہ سے پيچھے رہنے سے اجتناب كرو.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments