Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
36877

كس عمر ميں بچے كا پيشاب دھويا جائيگا

دودھ پيتے بچے كا پيشاب كب دھويا جائيگا، اور كيا بچى اور بچے كا معاملہ مختلف ہے ؟

الحمد للہ:

انسان كا پيشاب نجس اور پليد ہے اس سے طہارت و پاكيزگى اختيار كرنا واجب ہے چاہے وہ چھوٹا ہو يا بڑا، لڑكا ہو يا لڑكى، ليكن صرف اتنا ہے كہ جو بچہ ابھى كھانا نہ كھاتا ہو اس ميں تخفيف كى گئى ہے كہ اس كے پيشاب سے طہارت و پاكيزگى حاصل كرنے كے ليے اس پر پانى چھڑكايا جائيگا، اس كى دليل بخارى و مسلم كى درج ذيل حديث ہے:

ام قيس بنت محصن رضى اللہ عنہا بيان كرتى ہيں كہ وہ اپنے چھوٹے سے بچے كو جو ابھى كھانا نہيں كھاتا تھا نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس لائيں تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اسے اپنى گود ميں بٹھايا اور اس بچے نے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كے كپڑوں پر پيشاب كر ديا تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے پانى منگوا كر اس پر چھڑك ديا اور كپڑا نہيں دھويا "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 223 ) صحيح مسلم حديث نمبر( 287 )

ترمذى اور ابن ماجہ ميں على بن ابى طالب رضى اللہ عنہ سے حديث مروى ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے دودھ پيتے بچے كے پيشاب كے متعلق فرمايا:

" بچے كے پيشاب پر چھينٹے مارے جائينگے، اور بچى كا پيشاب دھويا جائيگا "

سنن ترمذى حديث نمبر ( 610 ) سنن ابن ماجہ حديث نمبر( 525 ).

قتادہ رحمہ اللہ كہتے ہيں: يہ اس وقت تك جب تك وہ دونوں كھانا نہ كھانے لگيں، اور جب وہ كھانا شروع كرديں تو ان كا پيشاب دھويا جائيگا.

علامہ البانى رحمہ اللہ نے اس حديث كو صحيح ترمذى ميں صحيح قرار ديا ہے.

اور يہ حديث بچے اور بچى كے پيشاب كے مابين فرق كى دليل ہے، اس ليے بچے كے پيشاب پر صرف چھينٹے مارنے ہى كافى ہيں، اور بچى كا پيشاب دھونا ضرورى ہے.

شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ كہتے ہيں:

النضح يہ ہے كہ ملے بغير ہى پانى بہا ديا جائے، يا پھر نچوڑ ديا جائے حتى كہ سارے پر پانى بہہ جائے...

اور اگر يہ كہا جائے كہ: كھانا نہ كھانے والے بچے كے پيشاب پر چھينٹے مارنے ميں كيا حكمت ہے، اور اسے بچى كے پيشاب كى طرح دھويا كيوں نہيں جاتا ؟

تو اس كا جواب يہ ہے كہ:

حكمت يہ ہے كہ يہ چيز سنت ميں وارد ہے، اور حكمت كے اعتبار سے يہى كافى ہے، اسى ليے جب عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا سے دريافت كيا گيا كہ: حائضہ عورت روزہ كى قضاء كيوں كرتى ہے اور وہ نماز كى قضاء كيوں نہيں كرتى ؟

تو عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے جواب ديا: رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں ہميں بھى حيض آتا تو ہميں روزوں كى قضاء كا حكم ديا جاتا تھا، ليكن نماز كى قضاء كا حكم نہيں ديا گيا "

اس كے باوجود كئى علماء كرام نے اس كى حكمت تلاش كرنے كى كوشش كى ہے:

بعض علماء كا كہنا ہے كہ: اس ميں حكمت يہ ہے كہ مكلف شخص پر آسانى رہے، كيونكہ عادتا بچے كو زيادہ اٹھايا جاتا ہے، اور اس كى خوشى زيادہ ہوتى ہے، اور لڑكى سے زيادہ لڑكے سے محبت كى جاتى ہے، اور اس كا پيشاب ايك تنگ نالى سے نكلتا ہے اس ليے جب بچہ پيشاب كرتا ہے تو وہ پھيل جاتا ہے، اس ليے اسے زيادہ اٹھانے اور بول كے پھيل جانے كى بنا پر اس ميں مشقت ہوگى؛ اس ليے اس ميں تخفيف كى گئى ہے.

اور علماء كا يہ بھى كہنا ہے: اس بچے كى غذا دودھ ہے جو كہ نرم ہے اسى ليے جب وہ كھانا شروع كر دے تو اس كا پيشاب دھونا ضرورى ہے، اور غذا كو نرم كرنے كى قوت بچے ميں بچى كى بنسبت زيادہ ہے.

ہمارے ( حنابلہ ) اصحاب كى ظاہر كلام يہ ہے كہ بچے اور بچى كے پيشاب ميں فرق ايك تعبدى معاملہ ہے.

اور اس بچے كا پاخانہ دوسروں كى طرح ہى ہے اسے دھونا اور صاف كرنا ضرورى ہے.

اور جو بچہ اور بچى كھانا كھاتے ہوں ان كا پيشاب بھى دوسروں كى طرح ہى ہے اسے دھونا ضرورى ہے " انتہى.

ديكھيں: الشرح الممتع ( 1 / 372 ).

اور رہا يہ مسئلہ كہ بچے كى كس عمر تك پيشاب پر چھينٹے مارے جائينگے اس كے متعلق قتادہ كا قول بيان كيا جا چكا ہے كہ: جب تك وہ كھانا نہ شروع كر ديں اسے چھينٹے مارينگے، اور جب كھانا شروع كرديں تو سب كا پيشاب دھويا جائيگا، اس سے مراد يہ ہے كہ وہ كھانے كى خواہش ركھتا اور اس سے غذا حاصل كرتا اور كھانا طلب كرنا شروع كردے، يہ مراد نہيں كہ جو چيز اس كے منہ ميں ڈالى جائے وہ كھا جائے.

ابن قيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" جب بچہ كھانا شروع كردے اور كھانے كى خواہش اور كھانے چاہے اور اسے بطور غذا استعمال كرنا شروع كر دے تو چھينٹے مارنے كا حكم زائل ہو جائيگا " انتہى.

ماخوذ از: تحفۃ المودود باحكام المولود صفحہ نمبر ( 190 ).

اور شيخ محمد بن ابراہيم رحمہ اللہ كہتے ہيں:

" اس سے مراد يہ نہيں كہ جو كچھ اس كے منہ ميں ركھا جائے وہ اسے چوسنا شروع كردے، اور اسے نگل جائے، بلكہ مراد يہ ہے كہ جب وہ كھانے كى خواہش كرے اور كھانا پكڑ كر كھانا شروع كر دے اور اسے ديكھ كر طلب كرے اور اسے جھانكے، يا چيخنا شروع كردے يا اس كى طرف اشارہ كرے، تو اس پر كھانا كھانے كا اطلاق ہوگا " انتہى.

ماخوذ از: مجموع فتاوي ابراہيم ( 2 / 95 ).

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments