Thu 17 Jm2 1435 - 17 April 2014
36950

ایام تشریق

ایام تشریق کون کون سے ہیں اور دوسرے ایام سے کیا امتیازی حیثیت رکھتے ہیں ؟

الحمد للہ
ایام تشریق ذی الحجہ کی گیارہ ، بارہ ، تیرہ ، ( 11-12-13 ) تاریخ کے دن ہیں جن کی فضيلت میں کئ ایک آیات واحادیث وارد ہيں :

1 – اللہ سبحانہ وتعالی کے فرمان کا ترجمہ کچھ اس طرح ہے :

{ گنے چنے چند ایام میں اللہ تعالی کا ذکر کرو } اکثرعلماء اورعبداللہ بن عمر رضي اللہ تعالی عنہما کاقول یہی ہے کہ اس سے مراد ایام تشریق ہی ہیں ۔

2 - نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایام تشریق کےبارہ میں فرمان ہے :

( یہ سب کے سب کھانے پینے اوراللہ تعالی کی یاد کے دن ہیں ) ۔

ایام تشریق میں اللہ تعالی کے ذکر کے حکم میں کئ قسم کی انواع شامل ہیں جن میں سے چندایک یہ ہیں :

1 - ہرفرضی نمازکے بعد جمہور علماء کے ہاں ایام تشریق کے اختتام تک تکبیريں کہہ کر اللہ تعالی کاذکرکرنا مشروع ہیں ۔

2 - قربانی ذبح کرتے وقت بسم اللہ اورتکبیر کہنا بھی اللہ تعالی کا ذکرہے ، اورقربانی ذبح کرنے کا وقت ایام تشریق کے آخر تک چلتا ہے ۔

3 - کھانے پینے پربسم اللہ پڑھ کراللہ تعالی کا ذکر کرنا ، اس لیے کہ کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ اورکھانے سے فارغ ہونے الحمدللہ کہنا مشروع ہے ۔

حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :

( بلاشبہ اللہ تعالی اس بندے سے راضي ہوتا ہے جوکھانے سے فارغ ہو کرالحمد للہ اورپینے کے بعد بھی الحمد للہ کہے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 2734 ) ۔

4 - ایام تشریق میں رمی جمرات ( حج کے دوران منی میں جمرات کوکنکریاں مارنا ) کے وقت اللہ اکبر کے ساتھ اللہ کا ذکر کرنا ، اوریہ صرف حجاج کے ساتھ خاص ہے ۔

5 - مطلقا اللہ تعالی کا ذکر کرنا ۔ اس لیے کہ ایام تشریق میں کثرت کے ساتھ اللہ تعالی کا ذکرمشروع ہے ، عمر رضي اللہ تعالی عنہ منی میں اپنے خیمہ کے اندر تکبیريں کہتے تولوگ بھی سن کرتکبیريں کہتے تومنی تکبروں سے گونج اٹھتا تھا ۔

اورپھر اللہ تعالی کا یہ بھی فرمان ہے :

{ اورپھرجب تم منا سک حج ادا کرچکو تو اللہ تعالی کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے آباء اجداد کا ذکرکیا کرتے تھے ، بلکہ اس سے بھی زیادہ ، بعض لوگ وہ بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں دے ، ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئ حصہ نہيں ۔

اوربعض لوگ وہ بھی ہيں جوکہتے ہیں اے ہمارے رب ! ہیمں دنیا میں بھی نیکی دے اورآخرت میں بھی بھلائ عطافرما اورہمیں عذاب جہنم نجات دے }

اکثر سلف نے ایام تشریق میں یہ دعا کثرت سے مانگنا مستب قرار دی ہے : { ربَّنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار }

اورنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان :ایام تشریق کھانے پینے اوراللہ تعالی کے ذکر کے دن ہیں :

اس فرمان میں اس طرف اشارہ ہے کہ ایام عید میں کھانے پینے کے لیے اللہ تعالی کے ذکراوراس کی اطاعت سے تعاون لیا جاۓ جوکہ نعمت کا شکراداکرنے اوراتمام نعمت سے تعلق رکھتا ہے اسی لیے اس کی اطاعت کرنا ضروی ہے ۔

اورپھر اللہ تعالی نے قرآن مجید میں بھی ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ پاکیزہ چيزیں کھا‏ئيں اوراللہ تعالی کا شکربجا لائيں ، توجوشخص اللہ تعالی کی نعمتوں کواللہ تعالی کی معصیت ونافرمانی کے لیے استعمال کرتا ہے اس نے اللہ تعالی کی نعمت کی ناشکری کرکے اسے کفر میں بدل دیا تواس لیے اس نعمت کواس سے چھن جانا ہی بہتر ہے جیسا کہ شاعر کہتا ہے :

جب تونعمت میں ہوتو اس کا خیال رکھ اورحفاظت کر اس لیے کہ معاصی وگناہ نعمتوں کو ختم کردیتی ہيں ، اورہروقت اس نعمت پر اللہ کاشکرادا کرتے رہو اس لیے کہ اللہ تعالی کا شکر ناراضگی کوختم کردیتا ہے ۔

3 - نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق میں روزہ رکھنے سے منع کرتے ہوۓ فرمایا :

( ان دنوں کے روزے نہ رکھو اس لیے کہ یہ کھانے پینے اوراللہ تعالی کا ذکرکرنے کے ایام ہیں ) مسند احمد حدیث نمبر ( 10286 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کوالسلسلۃ الصحیحۃ حدیث نمبر( 3573 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

دیکھیں کتاب : لطائف العارف لابن رجب ص ( 500 )

اے اللہ ہمیں اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرما اورموت کے وقت ثابت قدمی نصیب فرما ، اورہم پراپنی رحمت سے رحم کراے بہت زيادہ ھبہ و عطا کرنے والے اورسب تریفات اس رب العالمین کے لیے ہی ہیں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments