Mon 21 Jm2 1435 - 21 April 2014
37667

كيا يورپى كميٹى كے مطابق ہى چليں چاہے وہ فلكى حساب كے مطابق ہى عمل كرتى ہو ؟

ہم مركز اسلامى برطانيہ كى جانب سے اپنے مركز كے نمازيوں كے ليے ماہ رمضان اور نماز عيد الفطر كى تحديد كرنا چاہتے ہيں، اور اس سلسلے ميں ہم نے يہاں سب مسلمانوں كو اس موضوع ميں اكٹھا كرنے كى كوشش كى ہے، بعض تو فلكى حساب كے مطابق عمل كرنے كا كہتے ہيں، يورپى فتوى كميٹى كى بھى اس ميں رائے ہے، يہ علم ميں رہے كہ يورپ ميں مسلمانوں كے فتوى جات يہى كميٹى ديتى ہے.
ہمارا سوال يہ ہے كہ:
كيا ہم يورپى فتوى كميٹى كے مطابق عمل كريں چاہے وہ فلكى حساب كے مطابق ہى عمل كرے، يا كہ ہم نے اپنے شہر ميں مسلمانوں كو اكٹھا كرنے كى جو كوشش شروع كى ہے اس پر قائم رہيں، چاہے اس ميں كميٹى كى رائے كے مخالفت ہى ہو ؟

الحمد للہ:

ماہ رمضان كى ابتدا يا انتہاء ميں فلكى حساب و كتاب پر عمل كرنا جائز نہيںن بلكہ چاند ديكھنے پر عمل كرنا ضرورى ہے، اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى اسى كا حكم ديتے ہوئے فرمايا ہے:

" چاند ديكھ كر روزہ ركھو، اور چاند ديكھ كر ہى روزہ ترك كرو " يعنى عيد الفطر مناؤ.

صحيح بخارى حديث نمبر ( 1909 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1081)

مزيد تفصيل كے ليے آپ سوال نمبر ( 1602 ) كے جواب كا مطالعہ ضرور كريں.

مسلمانوں كا اجماع ہے كہ اگر آسمان صاف ہو تو رؤيت ہلال كے بدلے ميں فلكى حساب و كتاب پر عمل كرنا جائز نہيں، اور اگر آسمان ابرآلود ہو تو بعض علماء كرام نے صرف حساب لگانے والے كے ليے فلكى حساب پر عمل كى اجازت دى ہے.

شيخ الاسلام ابن تيميہ رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

بلاشبہ ہمارے ليے دين اسلام ميں يہ جاننا ضرورى ہے كہ رؤيت ہلال، يا حج يا عدت يا ايلاء يعنى بيوى سے عليحدہ رہنے كى قسم كھانا اور اس طرح كے چاند كے متعلقہ دوسرے احكام ميں حساب و كتاب والے كى خبر كہ چاند نظر آئيگا يا نہيں نظر آئيگا جائز نہيں.

نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے اس كے متعلق بہت سى نصوص ملتى ہيں، اور مسلمانوں كا اس پر اجماع بھى ہے، اور اس ميں شروع سے كوئى اختلاف بھى نہيں پايا جاتا، اور نہ ہى آج كے دور جديد ميں كوئى اختلاف ہے ليكن متاخرين تيسرى صدى كے بعد اپنے آپ كو فقھاء كہنے والے بعض افراد كا گمان ہے كہ اگر چاند غائب ہو اور آسمان ابر آلود ہو تو حساب كرنے والا شخص خود تو حساب و كتاب پر عمل كر سكتا ہے، چنانچہ اگر حساب رؤيت پر دلالت كرے تو وہ روزہ ركھ لے، اور اگر دلالت نہ كرے تو روزہ نہ ركھے.

يہ قول اگرچہ آسمان ابر آلود ہونے كے ساتھ مقيد، اور حساب لگانے والے كے ساتھ مختص ہے، پھر بھى يہ شاذ اور اجماع كے خلاف ہے، كيونكہ پہلے اجماع ہو چكا ہے، ليكن آسمان صاف ہونے كى صورت ميں اس پر عمل كرنا، يا عموما حكم عام كو اس كے ساتھ معلق كرنا كسى بھى مسلمان شخص كا قول نہيں. اھـ

ديكھيں: مجموع الفتاوى ابن تيميہ ( 25 / 132 ).

اس بنا پر اگر مذكورہ كميٹى فلكى حساب و كتاب كے مطابق عمل كرتى ہے، اور رؤيت ہلال كو مد نظر نہيں ركھتى تو آپ كے ليے اس كميٹى كے كہنے پر عمل كرنا جائز نہيں.

بلكہ آپ لوگ رؤيت ہلال پر عمل كريں اور چاند ديكھ كر روزہ ركھيں جيسا كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا حكم ہے، اور مسلمانوں كا اس پر اجماع ہے.

اللہ تعالى آپ سب كو اپنے محبوب اور رضامندى كے عمل كرنے كى توفيق سے نوازے.

واللہ اعلم .

الاسلام سوال و جواب
Create Comments