37701: افطاری کے لیے خیراتی کھانا تیار کرنا


کیا افطاری کے لیے خیراتی کھانا تیار کرنا ممکن ہے کہ اس کا نفع مسجد کے مسکین پڑوسیوں پر خرچ کیا جاسکے ؟

الحمد للہ
خیراتی کھانے سےمراد یہ ہے کہ کچھ لوگ افطاری کےلیے اپنے گھروں میں کھانا تیارکرکے اس کھانے کو بیچ کراس کی قیمت کو کسی نیکی وبھلائي اورصدقہ وغیرہ کے کاموں میں صرف کردیں ، ایسا کرنا صدقہ واحسان میں شامل ہوتا ہے ، اس میں تعاون کرنے والے کو اجروثواب ملے گا ۔

اور اسی طرح اس میں جوکوئی بھی حصہ ڈالے گا چاہے وہ مالی ہویا کام کا تعاون ہو اسے اجر وثواب حاصل ہوگا ، اوریہ اللہ تعالی کے مندرجہ ذيل فرمان میں شامل ہوتا ہے :

{ نیکی وبھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کیا کرو } ۔

یہاں ایک تنبیہ کرنا ضروری ہے کہ متنبہ رہنا چاہیے کہ یہ کھانا مسجد کے باہرفروخت کیا جائے کیونکہ مسجد میں خرید وفروخت کرنا حرام ہے ، اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مندرجہ ذيل فرمان ہے :

( جب تم کسی کو مسجد میں خرید وفروخت کرتے ہوئے دیکھو تواسے یہ کہو کہ اللہ تعالی تمہاری تجارت میں نفع نہ دے ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 1321 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن ترمذی ( 1066 ) میں اسے صحیح کہا ہے ۔

واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments