37744: روزے کی حالت میں داڑھ کا علاج کروانا


اب عقل داڑھ نلکنا شروع ہوئي ہے جس کی بہت تکلیف محسوس ہوتی ہے توکیا مندرجہ ذیل اشیاء جائزہیں :
1 - روزے کی حالت میں درد کم کرنے والی مرھم لگانا ؟
2 - داڑھ اکھاڑنے کے لیے جراحی عمل کرنا اورروزہ کی حالت میں ہی سن کرنے والی ادویات استعمال کرنا ؟

الحمد للہ
روزے کی حالت میں دانتوں کا علاج اورمسوڑھوں پرمرہم لگانی جائز ہے لیکن ایک شرط ہے کہ اسے نگلا نہ جائے ۔

کتاب : ( سبعون مسئلۃ فی الصیام ) روزوں کے ستر مسائل میں ہے کہ :

کچھ ایسی اشیاء بھی ہیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا ، ان میں سے ہم چند ایک بطور مثال ذکر کرتے ہيں :

1 - سینہ کے درد کے علاج کے لیے زبان کے نیچے رکھی جانے والی گولیاں وغیرہ جبکہ اس میں کچھ بھی نگلا نہ جائے ۔

2 - دانت میں سوراخ کرنا ، یا پھر داڑھ نکالنا ، یا دانتوں کی صفائی ، یا مسواک اوربرش کرنا لیکن ان میں بھی حلق تک جانے والی چيز نگلنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے ۔

3 - کلی اورغرارے کرنا ، اورمنہ کے علاج کے لیے سپرے کا استعمال ، لیکن جب حلق تک جانے والی چيز کے نگلنے سے اجتناب کیا جائے ۔

کتاب سے لیا گيا اقتباس ختم ہوا ۔

اور اسی طرح بے ہوشی کے اثر میں ہوتے ہوئے جراحی عمل کرنا بھی جائز ہے لیکن اگر بے ہوشی سارے دن پر مشتمل نہ ہو تو پھر ، یعنی طلوع فجر سے لیکر غروب آفتاب تک نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس کا حکم بھی نیند جیسا ہی ہے ، آپ مزید تفصیل کے لیے سوال نمبر ( 12425 ) کے جواب کا مطالعہ ضرور کریں ۔ واللہ اعلم .

الاسلام سوال وجواب
Create Comments