37838: بچی کی دیکھ بھال کی وجہ سے نماز تراویح مسجد میں نہيں ادا کرسکتا


میں اپنے کام سے ساڑھے چھ بجے لوٹتا ہوں تا کہ اپنی آٹھ سالہ بچی کی دیکھ بھال کرسکوں ، میری بیوی اورچھوٹا بچہ اپنے ننھیال بیمار والدہ کی بیمار پرسی کےلیےگئے ہوئے ہیں ، اس لیے میں نماز تروایح پڑھنے کے لیے مسجد نہيں جاسکتا ، میری گزارش ہے کہ آپ مجھے کوئي نصیحت فرمائيں ۔
میں نے کبھی بھی نماز تروایح اد نہيں کی لیکن اس برس تراویح ادا کرنے کی نیت کی تھی لیکن افسوس ہے کہ میری بیوی دو ماہ کے لیے اپنے میکے گئي ہوئی ہے ؟

الحمد للہ
نماز تراویح سنت ہے جس کی ادائيگی پر اجروثواب ملتا ہے لیکن اسے ترک کرنے پر کوئي سزا اورگناہ نہيں ، لھذا آپ پر کوئي حرج نہيں کہ آپ جماعت کے ساتھ تراویح نہ بھی ادا کریں ، جب اللہ تعالی کوآپ کی صحیح نیت کا علم ہے کہ آپ نےادائيگی کی صحیح طور پرنیت کی تھی اس پر آپ کو اجروثواب ملے گا ، اگرچہ آپ اس جیسے نوافل کے لیے جماعت کے ساتھ نہ بھی ملیں لیکن یہ اس وقت ہے جب آپ اسے ترک کرنے میں زيادتی سے کام نہ لیتے ہوں ، بلکہ بعض اوقات انسان اس سےبھی عظیم اوربڑے کام میں مشغول ہوتا ہے اورکسی کام یا سبب کی بنا پر حاضر نہيں ہوسکتا تواسے کوئي حرج نہيں ۔

مثلا بوڑھی اورعاجز والدہ کی دیکھ بھال ، یا پھر یتیم بچوں کی دیکھ بھال کرنا جواس وقت دیکھ بھال کے محتاج ہوں ، ایسے شخص کو اورزيادہ اجروثواب حاصل ہوتا ہے کیونکہ وہ ایک واجب کی ادائيگي میں اپنا وقت گزار رہا ہے ۔

اگر آپ مسجد نہيں جاسکتے تو آپ اپنے گھر میں ہی نماز تراویح ادا کرسکتے ہيں ، اس میں کوئي حرج والی بات نہیں ، اورپھر نوافل گھر میں پڑھنے زیادہ افضل ہیں لیکن باجماعت ادا کرنے اور بھی زيادہ افضل ۔

اور اس میں شرط نہيں کہ آپ تراویح میں تعداد متعین کرلیں ، بلکہ آپ اپنی نشاط اورجھد کے مطابق رکعات ادا کریں ، لیکن بہتر یہ ہے کہ آپ سنت پر عمل کرتے ہوئے گیارہ رکعات ادا کریں ، آپ اس کی مزید تفصیل دیکھنے کےلیے سوال نمبر ( 9036 ) کے جواب کا بھی مطالعہ کریں ۔

اگر صرف دو رکعات بھی ادا کرلیں تو یہ عدم ادائيگي سے بہتر ہے ، ہم اللہ تعالی سے دعا گوہيں کہ وہ آپ سے جوکچھ چھن چکا ہے اس کا نعم البدل عطا فرمائے ، اورآپ کو اجروثواب سے نوازے جوکہ نماز تراویح سے بھی زيادہ عظیم ہے ۔

کیونکہ آپ کا اپنی بیوی کو بیمار والدہ کی بیمار پرسی کرنے کےلیے اجازت دینا اوراپنی بچی کی دیکھ بھال کرنا دونوں ہی بہت عظیم اجروثواب والے کام ہیں ،انشاء اللہ رب العالمین آپ کواس پر اجروثواب سے نوازیں گے ۔

آپ مزید تشنگی دور کرنے کے لیے سوال نمبر ( 37742 ) کے جواب کا بھی مطالعہ کريں ۔

لیکن ہم یہاں آپ کو دواہم معاملوں کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہيں :

پہلا : آپ کی بیوی کا اپنے ملک غیرمحرم سفر کرنا ۔

آپ اس کے احکام اورتفصیل کےلیے سوال نمبر ( 316 ) اور( 9370 ) کے جوابات کا مطالعہ ضرور کریں ۔

دوم : کفار کے ممالک میں رہائش اوربود باش اختیار کرنے کا حکم ۔

اس کے تفصیلی احکام کے لیے آپ سوال نمبر ( 11793 ) اور ( 14235 ) کے جوابات کو بھی دیکھیں ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments