Wed 16 Jm2 1435 - 16 April 2014
38013

بیوی کی تکلیف کی وجہ سے خاوند مجامعت نہیں کرسکتا اس کا حل کیا ہے

یں نوجوان لڑکی ہوں اوردوماہ قبل شادی کی ہے ، اپنے خاوند سے بہت زیادہ محبت کرتی ہوں لیکن مشکل یہ ہے کہ خاوند میرے ساتھ جماع نہیں کرسکتا کیونکہ مجھے اس سے بہت سخت تکلیف ہوتی ہے ۔
میں نے اپنا بچپن بہت ہی خراب گزارا ہے کیونکہ جب میں بچی تھی تومیرا چچا میرے درپے رہا اورمجھے شکار کرتا رہا ہے جس کے سبب سے میں اب خاوند کے جماع کوبرداشت نہیں کرسکتی ، میرا خاوند صبر کرتا ہے اور مجھے برداشت کرتا ہے لیکن اسے علم نہیں کہ وہ کیا کرے ؟ میں آپ سے تعاون چاہتی ہوں ۔

الحمد للہ
خاوند پر ضروری اورواجب ہے کہ بیوی اگرتکلیف محسوس کرتی ہو یا پھر اسے نفسیاتی تکلیف ہوتی ہو تو وہ جماع کرتے وقت نرمی کا مظاہرہ کرے ، اورخاوند کواس پر صبر کرنا چاہیے تا کہ وہ اس تکلیف سے شفا حاصل کرلے یا پھروہ عادی ہوجائے اوراسے اس کا اطمنان اورشوق پیدا ہو اوراسے بھی اسی طرح کی رغبت پیدا ہوجائے جیسا کہ اس کا حال ہے ۔

ابن حزم رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

لونڈی اورآزاد عورت پر یہ فرض ہے کہ وہ اپنے مالک اورخاوند کوجب بھی وہ انہیں جماع کے لیے بلائے تواسے منع نہ کرے جب تک کہ عورت حائضہ یا پھر مریضہ نہ جس میں جماع سے تکلیف ہوتی ہویا پھر وہ فرضی روزہ سے ہوتوجماع سے رک سکتی ہے ۔دیکھیں محلی ابن حزم ( 10 / 40 ) ۔

اوریہ معاملہ بلاشک بہت ہی مشکل ہوتا ہے اورخاص کر جس نے نئي شادی کی ہو ، لیکن یہ ان مشاکل سے بہتر اوراچھا ہے جوازدواجی زندگی کوختم کردیں اوراسے تباہی تک لے جائیں ۔

اورسوال کرنے والی بہن نے یہ ذکر کیا ہے کہ وہ اپنے خاوند سے بہت زيادہ محبت کرتی ہے ، تواسے چاہیے کہ وہ اس پر متنبہ رہے اوراسے آسانی اورسھولت کے ساتھ شرعی تقاضے تک پہنچنے کے لیے فرصت سمجھے ۔

اورہم خاوند سے گزارش ہے کرتے ہیں کہ وہ سوال نمبر ( 5560 ) کے جواب کا مطالعہ کرے اس میں مزید تفصیل بیان کی گئي ہے ۔

اوراسی طرح بیوی پر بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کا بدنی اورنفسیاتی علاج کرے ، اور اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ نفسیاتی تکلیف کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرے اورماضی میں جوکچھ ہوچکا اس کی اسیر ہی بن کر نہ رہے ، کیونکہ اس کا خاوند وہ فاجرو فاسق چچا نہیں جس نے بچپن میں اسے اپنا شکار بنائے رکھا ، بلکہ اب وہ بڑی ہوچکی ہے اوراپنے محبوب خاوند کے پاس ہے ، اوروہ دونوں ایک دوسرے کے لیے حلال ہیں ۔

اوربدنی تکلیف توایک طبعی چيز ہے جوکہ شادی کے ابتدائي ایام میں ہوتی ہی ہے ، اوراللہ تعالی کے حکم سے یہ تکلیف جلد ہی ختم ہوجائے گي ، آپ صبر وتحمل کا مظاہرہ کریں ۔

اوراس کے ساتھ ساتھ آپ دونوں خاوند اوربیوی کوچاہیے کہ اللہ تعالی سے التجاء اوردعا کثرت سے کریں اور شرعی احکامات جو کہ اللہ تعالی نے مقرر کیے ہیں ان پر بھی عمل کرتے رہیں ، مثلا جتنے بھی فرائض ہیں انہیں ان کے اوقات میں بجا لائيں اوراسی طرح لباس اورپردہ کے احکام کی بھی پابندی کریں ۔

اس سے ہوسکتا ہے اللہ تعالی آپ کی مشکلات کوجلد دور کردے اورآسانی پیدا فرمائے ، اورجوکچھ نفسیاتی عوارض ہیں وہ بھی جاتے رہیں گے انشاء اللہ ۔

واللہ اعلم .

الشیخ محمد صالح المنجد
Create Comments